★★★ روزہ ★★★ یوں تو ہم سب ہی روزہ رکھتے ہیں ۔ کتنے ہیں اصل روزہ دار یہاں؟ کتنے بچتے ہیں جھوٹ سے اور کون؟ سود کھاتے ہیں سود خوار یہاں ؟ ۔۔۔ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ فاعلاتن مفاعلن فَع٘لن ۔ فاعلاتن مفاعلن فَعِلاتن ۔ بحر ۔ خفیف مسدس مخبون محذوف ۔ غلام محمد وامِق، محراب پور سندھ ـ مورخہ 30 اگست سال 2007ء میں کہا گیا قطعہ ۔
★★★ روزہ ★★★
یوں تو ہم سب ہی روزہ رکھتے ہیں ۔
کتنے ہیں اصل روزہ دار یہاں؟
کتنے بچتے ہیں جھوٹ سے اور کون؟
سود کھاتے ہیں سود خوار یہاں ؟ ۔۔۔
ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ
فاعلاتن مفاعلن فَع٘لن ۔
فاعلاتن مفاعلن فَعِلاتن ۔
بحر ۔ خفیف مسدس مخبون محذوف ۔
غلام محمد وامِق، محراب پور سندھ ـ
مورخہ 30 اگست سال 2007ء میں کہا گیا قطعہ ۔
ریاکاری کی عبادت شاعر - غلام محمد وامِق رکھنے کو روزے بھی رکھے اور حج بھی ہر اک سال کیا لیکن نہ حسد کی آگ بجھی اور نا ہی انا کا خون ہوا ۔ پڑھ پڑھ کے نمازیں مسجد میں اوراد و وظائف خوب کئے لیکن نہ ادب کوئی سیکھا دیکھو نہ طمع کا روگ مٹا ـــــــــــــــــــــــــ بحر - زمزمہ/ متدارک مثمن مضائف
ریاکاری کی عبادت
شاعر - غلام محمد وامِق
رکھنے کو روزے بھی رکھے اور حج بھی ہر اک سال کیا
لیکن نہ حسد کی آگ بجھی اور نا ہی انا کا خون ہوا ۔
پڑھ پڑھ کے نمازیں مسجد میں اوراد و وظائف خوب کئے
لیکن نہ ادب کوئی سیکھا دیکھو نہ طمع کا روگ مٹا
ـــــــــــــــــــــــــ
بحر - زمزمہ/ متدارک مثمن مضائف
ھریانوی غزل غلام محمد وامِق چالدے چالدے ایک دن میں جو اُس کَے گام ڈِگَر گیا ۔ دِل نَیں چاھیا کِسا ھَے اِب وہ دیکھن اُس کے گھر گیا ۔ اُس کی گلی میں جا کَے دیکھیا لوگ جو باتاں کر رے تھے ۔ بَیرا پاٹیا وہ بی کِسے کَے دُکھ میں اے آکھِر مر گیا ۔ اللّٰہ اے جانَے دِلاں کا ناطہ کِسا بنایا سَے اُس نَیں ۔ کِسے کَے خاطر مَر گیا کوئے، دِل تَے کوئے اُتر گیا ۔ کِتنا سُندر سُپنا تھا وہ، کِتنے بَڈیا مانس تھے ۔ آنکھ کُھلی تو سارے خیال ار سُندر سُپنا بِکھر گیا ۔ ھِمَّت مَت ناں ھاریو یارو، چاھے جِتنی مشکل ھو ۔ رات کا گُھپ اندھیرا بی تو دیکھو آکِھر گُجَر گیا ۔ اُلانا کوئے بی دیکھو اُس نَیں آپنَے اوپر چھوڈیا نئیں ۔ دُنیا بھر کے پاپ تھے جِتنے میرَے اے اوپر دھر گیا ۔ جاندے جاندے سارے وعدے بُھول گیا وہ کیوں وامِق ۔ اُس نَیں جِتنے بَچَن دئے تھے سب تَے اے آکِھر مُکَر گیا ۔ ـــــــــــــــــــــــــ مورخہ 18 جنوری 2026ء کو کہی گئی ۔
ھریانوی غزل
غلام محمد وامِق
چالدے چالدے ایک دن میں جو اُس کَے گام ڈِگَر گیا ۔
دِل نَیں چاھیا کِسا ھَے اِب وہ دیکھن اُس کے گھر گیا ۔
اُس کی گلی میں جا کَے دیکھیا لوگ جو باتاں کر رے تھے ۔
بَیرا پاٹیا وہ بی کِسے کَے دُکھ میں اے آکھِر مر گیا ۔
اللّٰہ اے جانَے دِلاں کا ناطہ کِسا بنایا سَے اُس نَیں ۔
کِسے کَے خاطر مَر گیا کوئے، دِل تَے کوئے اُتر گیا ۔
کِتنا سُندر سُپنا تھا وہ، کِتنے بَڈیا مانس تھے ۔
آنکھ کُھلی تو سارے خیال ار سُندر سُپنا بِکھر گیا ۔
ھِمَّت مَت ناں ھاریو یارو، چاھے جِتنی مشکل ھو ۔
رات کا گُھپ اندھیرا بی تو دیکھو آکِھر گُجَر گیا ۔
اُلانا کوئے بی دیکھو اُس نَیں آپنَے اوپر چھوڈیا نئیں ۔
دُنیا بھر کے پاپ تھے جِتنے میرَے اے اوپر دھر گیا ۔
جاندے جاندے سارے وعدے بُھول گیا وہ کیوں وامِق ۔
اُس نَیں جِتنے بَچَن دئے تھے سب تَے اے آکِھر مُکَر گیا ۔
ـــــــــــــــــــــــــ
مورخہ 18 جنوری 2026ء کو کہی گئی ۔
हरियाणवी ग़ज़ल
कवि: ग़ुलाम मुहम्मद वामिक़
चाल्दे चाल्दे एक दिन मैं जो उस कै गाम डिगर गया।
दिल नै चाया किसा है इब वो देखण उस कै घर गया।
उस कि गली मैं जा कै देख्या लोग जो बातां कर रे थे ।
बेरा पाट्या वो बि किसे कै दुख मैं ए आखिर मर गया ।
अल्लाह ए जाणै दिलां का नाता किसा बणाया सै उस नैं ।
किसे कै खातर मर गया कोए, दिल तै कोए उतर गया ।
कित्ना सुन्दर सुप्ना था वो, कित्ने बड्या माणस थे ।
आंख खुली तो सारे ख़याल अर सुन्दर सुप्ना बिखर गया ।
हिम्मत मत ना हारियो यारो, चाहे जितनी मुश्किल हो ।
रात का घुप अंधेरा बि तो देखो आखिर गुजर गया ।
उ्लाणा कोए बि देखो उस नै आप्णै उपर छोड्या नहीं ।
दुनिया भर के पाप थे जितने मेरै ए उपर धर गया ।
जांदे जांदे सारे वादे भूल गया वो कियूं वामिक़ ।
उस नै जितने बचन दिए थे सब तै ए आखिर मुकर गया ।
----------------------------------
तारीख - 18 जन्वरी 2026 ।
نیپال کے ادبی سہ ماہی رسالہ قرطاسِ ادب جنوری تا مارچ 2026ء میں میری ایک غزل شایع ہوئی ہے، ملاحظہ فرمائیں ۔۔ غلام محمد وامِق
نیپال کے ادبی سہ ماہی رسالہ قرطاسِ ادب جنوری تا مارچ 2026ء میں میری ایک غزل شایع ہوئی ہے، ملاحظہ فرمائیں ۔۔
غلام محمد وامِق
عِلم اور عالِم کی اہمیت اسلام کی نظر میں ۔ عالِم فقیہ شاعر - غلام محمد وامِق = لوگو رسولِ پاک نے فرمایا برملا شیطان خوف کھاتا نہیں ہر شبیہ سے گمراہ کرتا رہتا ہے یہ نیک لوگوں کو البتّہ ڈرتا رہتا ہے عالِم فقیہ سے ایک فَقِیہ عالِم، شیطان پر ہزار عبادت گزاروں سے زیادہ وزنی ہے ۔۔۔ (سُنن ابن ماجہ - 222)
عِلم اور عالِم کی اہمیت اسلام کی نظر میں ۔
عالِم فقیہ
شاعر - غلام محمد وامِق
لوگو رسولِ پاک نے فرمایا برملا
شیطان خوف کھاتا نہیں ہر شبیہ سے
گمراہ کرتا رہتا ہے یہ نیک لوگوں کو
البتّہ ڈرتا رہتا ہے عالِم فقیہ سے
ایک فَقِیہ عالِم، شیطان پر ہزار عبادت گزاروں سے زیادہ وزنی ہے ۔۔۔ (سُنن ابن ماجہ - 222)


