Featured Posts

Most selected posts are waiting for you. Check this out

عالمگیر کیف کے مصرعے " اچھی صورت بھی کیا بری شے ہے" کی تضمین پر مزاحیہ قطعہ  شاعر - غلام محمد وامِق   "اچھّی صورت بھی کیا بری شے ہے " ہر کوئی تاڑنے کے پیچھے ہے  خود کو حاصل اگر نہ ہو پائے  ہر کوئی مارنے کے پیچھے ہے     ----------------------------- فاعلاتن مَفاعِلن فِعلُن  بحر- خفیف مسدس مخبون محذوف مقطوع ۔

عالمگیر کیف کے مصرعے " اچھی صورت بھی کیا بری شے ہے" کی تضمین پر مزاحیہ قطعہ شاعر - غلام محمد وامِق "اچھّی صورت بھی کیا بری شے ہے " ہر کوئی تاڑنے کے پیچھے ہے خود کو حاصل اگر نہ ہو پائے ہر کوئی مارنے کے پیچھے ہے ----------------------------- فاعلاتن مَفاعِلن فِعلُن بحر- خفیف مسدس مخبون محذوف مقطوع ۔

 عالمگیر کیف کے مصرعے " اچھی صورت بھی کیا بری شے ہے" کی تضمین پر مزاحیہ قطعہ 

شاعر - غلام محمد وامِق 


"اچھّی صورت بھی کیا بری شے ہے "

ہر کوئی تاڑنے کے پیچھے ہے

 خود کو حاصل اگر نہ ہو پائے 

ہر کوئی مارنے کے پیچھے ہے     -----------------------------

فاعلاتن مَفاعِلن فِعلُن 

بحر- خفیف مسدس مخبون محذوف مقطوع ۔ 

مورخہ 09 مئی 2026ء بروز ہفتہ، کہا گیا قطعہ 


قطعہ - یومِ مئی  شاعر - غلام محمد وامِق  = صاحب نے بُلایا ہے ہمیں چھٹی کے دن بھی ۔  مزدور کے بیٹے نے کہا ماں سے یہ آ کر ۔  ہے یومِ مئی، آج ہمیں کام بہت ہے ۔  ممکن ہے کہ ہم آئیں بہت دیر سے گھر پر ۔  ــــــــــــــــــــــــــــــــ  مفعول مفاعیل مفاعیل فعولن  ہزج مثمن اخرب مکفوف محذوف  مورخہ یکم مئی 2026ء بروز جمعۃ المبارک کہا گیا قطعہ ۔

قطعہ - یومِ مئی شاعر - غلام محمد وامِق = صاحب نے بُلایا ہے ہمیں چھٹی کے دن بھی ۔ مزدور کے بیٹے نے کہا ماں سے یہ آ کر ۔ ہے یومِ مئی، آج ہمیں کام بہت ہے ۔ ممکن ہے کہ ہم آئیں بہت دیر سے گھر پر ۔ ــــــــــــــــــــــــــــــــ مفعول مفاعیل مفاعیل فعولن ہزج مثمن اخرب مکفوف محذوف مورخہ یکم مئی 2026ء بروز جمعۃ المبارک کہا گیا قطعہ ۔

 قطعہ - یومِ مئی 

شاعر - غلام محمد وامِق 


صاحب نے بُلایا ہے ہمیں چھٹی کے دن بھی ۔ 

مزدور کے بیٹے نے کہا ماں سے یہ آ کر ۔ 

ہے یومِ مئی، آج ہمیں کام بہت ہے ۔ 

ممکن ہے کہ ہم آئیں بہت دیر سے گھر پر ۔ 

ــــــــــــــــــــــــــــــــ 

مفعول مفاعیل مفاعیل فعولن 

ہزج مثمن اخرب مکفوف محذوف 

مورخہ یکم مئی 2026ء بروز جمعۃ المبارک کہا گیا قطعہ ۔


انڈیا کے ہندی ( دیوناگری رسم الخط میں) رسالے ساہتیہ سارنش برائے اپریل تا جون 2026ء میں شایع ہونے والی میری غزل

انڈیا کے ہندی ( دیوناگری رسم الخط میں) رسالے ساہتیہ سارنش برائے اپریل تا جون 2026ء میں شایع ہونے والی میری غزل

 انڈیا کے ہندی ( دیوناگری رسم الخط میں) رسالے ساہتیہ سارنش برائے اپریل تا جون 2026ء میں شایع ہونے والی میری غزل  





ھریانوی عید غزل = کِتنا سوھنا دِن سَے میرے یار عید کا ۔  کِتنا سُندر آیا ، یُو تہوار عید کا ۔   یاد تَو کَرلے عید کَے دِن جو وعدہ کریا تھا ۔ بُھول ناں جائیے، دیکھیے وہ اقرار عید کا ۔   رَوج رَوج تو عید نِی آندی مِلدا کیوں نی تُوں ۔  دیکھو کچھ تو حق بی سَے سرکار عید کا ۔   عید کَے دِن جو چاند عید کا سامنَے آیا نئیں ۔  دِن پھیر میرا گُجریا نِیوں بے کار عید کا ۔   کوٹھَے چَڑ چَڑ دیکھیں ہیں سب آپنا آپنا چاند ۔  چسکا جس نَیں پَڑ جَے سَے اِک بار عید کا ۔   جِس نَیں بی تُوں آج کَے دن بس عید مِلَے گا ۔  اُس نَیں عیدمبارک ، میرا پیار عید کا ۔   اور تَو کچھ نئیں رکھیا وامِق عید رات مَیں ۔ یار سَے مِلنَے کا سَے یُو تہوار عید کا ۔  یہ ھریانوی غزل مورخہ 13 مارچ 2026ء کو کہی گئی ۔

ھریانوی عید غزل = کِتنا سوھنا دِن سَے میرے یار عید کا ۔ کِتنا سُندر آیا ، یُو تہوار عید کا ۔ یاد تَو کَرلے عید کَے دِن جو وعدہ کریا تھا ۔ بُھول ناں جائیے، دیکھیے وہ اقرار عید کا ۔ رَوج رَوج تو عید نِی آندی مِلدا کیوں نی تُوں ۔ دیکھو کچھ تو حق بی سَے سرکار عید کا ۔ عید کَے دِن جو چاند عید کا سامنَے آیا نئیں ۔ دِن پھیر میرا گُجریا نِیوں بے کار عید کا ۔ کوٹھَے چَڑ چَڑ دیکھیں ہیں سب آپنا آپنا چاند ۔ چسکا جس نَیں پَڑ جَے سَے اِک بار عید کا ۔ جِس نَیں بی تُوں آج کَے دن بس عید مِلَے گا ۔ اُس نَیں عیدمبارک ، میرا پیار عید کا ۔ اور تَو کچھ نئیں رکھیا وامِق عید رات مَیں ۔ یار سَے مِلنَے کا سَے یُو تہوار عید کا ۔ یہ ھریانوی غزل مورخہ 13 مارچ 2026ء کو کہی گئی ۔

 ھریانوی عید غزل

      شاعر - غلام محمد وامِق 


کِتنا سوھنا دِن سَے میرے یار عید کا ۔ 

کِتنا سُندر آیا ، یُو تہوار عید کا ۔ 


یاد تَو کَرلے عید کَے دِن جو وعدہ کریا تھا ۔

بُھول ناں جائیے، دیکھیے وہ اقرار عید کا ۔ 


رَوج رَوج تو عید نِی آندی مِلدا کیوں نی تُوں ۔ 

دیکھو کچھ تو حق بی سَے سرکار عید کا ۔ 


عید کَے دِن جو چاند عید کا سامنَے آیا نئیں ۔ 

دِن پھیر میرا گُجریا نِیوں بے کار عید کا ۔ 


کوٹھَے چَڑ چَڑ دیکھیں ہیں سب آپنا آپنا چاند ۔ 

چسکا جس نَیں پَڑ جَے سَے اِک بار عید کا ۔ 


جِس نَیں بی تُوں آج کَے دن بس عید مِلَے گا ۔ 

اُس نَیں عیدمبارک ، میرا پیار عید کا ۔ 


اور تَو کچھ نئیں رکھیا وامِق عید رات مَیں ۔

یار سَے مِلنَے کا سَے یُو تہوار عید کا ۔ 

یہ ھریانوی غزل مورخہ 13 مارچ 2026ء کو کہی گئی ۔

हरियाणवी ईद ग़ज़ल 

शाइर - ग़ुलाम मुहम्मद वामिक़ 


कितना सोह्णा दिन सै मेरे यार ईद का। 

कितना सुंदर आया यु तह्वार ईद का।


याद तो कर ले ईद कै दिन जो वादा कर्या था।

भूल ना जाये, देख्ये वो इकरार ईद का। 


रोज रोज तो ईद नि आंदी मिलदा कयुं नि तूं । 

देखो कुछ तो हक़ बि से सरकार ईद का।


ईद कै दिन जो चांद ईद का सामणै आया नहीं ।

दिन फेर मेरा गुज्रया नियुं बे कार ईद का।


कोठै चड़ चड़ देखैं हैं सब आपणा आपणा चांद । 

चस्का जिस नै पड़ जै सै इक बार ईद का।


जिस नै बि तुं आज कै दिन बस ईद मिलै गा।

उस नै ईद मुबारक, मेरा प्यार ईद का। 


ओर तो कुछ नहीं रक्ख्या वामिक़ ईद रात मै । 

यार सै मिल्णै का से यु तह्वार ईद का। 


यह हरियाणवी ग़ज़ल 13 मार्च 2026 को कही ग ई थी।


Powered by Blogger.