Featured Posts

Most selected posts are waiting for you. Check this out

قطعہ - بارش     -    غلام محمد وامِق =  ساون برستا رہتا ہے آکر جو دیکھیے ۔  دل باغ باغ ہوتا ہے خوش ہے نظر نظر ۔  دنیا کی بے حسی پہ ہے چشمِ فلک پر آب ۔  پھر بھی سکون ملتا ہے بارش کو دیکھ کر ۔  ــــــــــــــــــــــــــــــ  مفعول فاعلات مفاعیل فاعلن  مضارع مثمن اخرب مکفوف محذوف ۔  19 جولائی 2026ء اتوار

قطعہ - بارش - غلام محمد وامِق = ساون برستا رہتا ہے آکر جو دیکھیے ۔ دل باغ باغ ہوتا ہے خوش ہے نظر نظر ۔ دنیا کی بے حسی پہ ہے چشمِ فلک پر آب ۔ پھر بھی سکون ملتا ہے بارش کو دیکھ کر ۔ ــــــــــــــــــــــــــــــ مفعول فاعلات مفاعیل فاعلن مضارع مثمن اخرب مکفوف محذوف ۔ 19 جولائی 2026ء اتوار

 قطعہ - بارش 

       غلام محمد وامِق 


ساون برستا رہتا ہے آکر جو دیکھیے ۔ 

دل باغ باغ ہوتا ہے خوش ہے نظر نظر ۔ 

دنیا کی بے حسی پہ ہے چشمِ فلک پر آب ۔ 

پھر بھی سکون ملتا ہے بارش کو دیکھ کر ۔ 

ــــــــــــــــــــــــــــــ 

مفعول فاعلات مفاعیل فاعلن 

مضارع مثمن اخرب مکفوف محذوف ۔ 

19 جولائی 2026ء اتواب،


غزل= دامِ فریبِ عُم٘ر جو بھرپور ہو گیا ۔  دل سے بھی زندگی کا نشہ دور ہو گیا ۔   تیرے تو اختیار میں اِک سانس بھی نہیں ۔  پھر بھی اے میرے یار تُو مغرور ہو گیا ۔   ہے کارخانے دار تو محفوظ دیکھیے ۔  لیکن یہاں بے آسرا مزدور ہو گیا ۔   مہنگی ہوئی ہیں اِس قدر اشیائے خُوردونوش ۔  انسان چوری کرنے پہ مجبور ہو گیا ۔   یہ دور ہے فرنگیوں کے دور سے بُرا ۔  اب چور اپنا ملک بھی مشہور ہو گیا ۔   دیکھو نظامِ ظلم کو کب تک سہیں گے ہم ۔  پیمانہ صبر کا جو تھا بھرپور ہو گیا ۔   وامِق جو ہم نے پیار کا اظہار کر دیا ۔  نزدیک آتے آتے بھی وہ دور ہو گیا -                                 ------------------ مورخہ 25 جون 2026ء بروز جمعرات ۔

غزل= دامِ فریبِ عُم٘ر جو بھرپور ہو گیا ۔ دل سے بھی زندگی کا نشہ دور ہو گیا ۔ تیرے تو اختیار میں اِک سانس بھی نہیں ۔ پھر بھی اے میرے یار تُو مغرور ہو گیا ۔ ہے کارخانے دار تو محفوظ دیکھیے ۔ لیکن یہاں بے آسرا مزدور ہو گیا ۔ مہنگی ہوئی ہیں اِس قدر اشیائے خُوردونوش ۔ انسان چوری کرنے پہ مجبور ہو گیا ۔ یہ دور ہے فرنگیوں کے دور سے بُرا ۔ اب چور اپنا ملک بھی مشہور ہو گیا ۔ دیکھو نظامِ ظلم کو کب تک سہیں گے ہم ۔ پیمانہ صبر کا جو تھا بھرپور ہو گیا ۔ وامِق جو ہم نے پیار کا اظہار کر دیا ۔ نزدیک آتے آتے بھی وہ دور ہو گیا - ------------------ مورخہ 25 جون 2026ء بروز جمعرات ۔

 غزل 

شاعر - غلام محمد وامِق 


دامِ فریبِ عُم٘ر جو بھرپور ہو گیا ۔ 

دل سے بھی زندگی کا نشہ دور ہو گیا ۔ 


تیرے تو اختیار میں اِک سانس بھی نہیں ۔ 

پھر بھی اے میرے یار تُو مغرور ہو گیا ۔ 


ہے کارخانے دار تو محفوظ دیکھیے ۔ 

لیکن یہاں بے آسرا مزدور ہو گیا ۔ 


مہنگی ہوئی ہیں اِس قدر اشیائے خُوردونوش ۔ 

انسان چوری کرنے پہ مجبور ہو گیا ۔ 


یہ دور ہے فرنگیوں کے دور سے بُرا ۔ 

اب چور اپنا ملک بھی مشہور ہو گیا ۔ 


دیکھو نظامِ ظلم کو کب تک سہیں گے ہم ۔ 

پیمانہ صبر کا جو تھا بھرپور ہو گیا ۔ 


وامِق جو ہم نے پیار کا اظہار کر دیا ۔ 

نزدیک آتے آتے بھی وہ دور ہو گیا -         

                       ------------------

مورخہ 25 جون 2026ء بروز جمعرات ۔


قرآن کریم کی تلاوت سننا بہت اچھا عمل ہے لیکن قران کریم کو دیکھ کر اور سمجھ کر پڑھنا افضل ترین عمل ہے اور فرض ہے ۔  خیراندیش - غلام محمد وامِق

قرآن کریم کی تلاوت سننا بہت اچھا عمل ہے لیکن قران کریم کو دیکھ کر اور سمجھ کر پڑھنا افضل ترین عمل ہے اور فرض ہے ۔ خیراندیش - غلام محمد وامِق

 قرآن کریم کی تلاوت سننا بہت اچھا عمل ہے لیکن قران کریم کو دیکھ کر اور سمجھ کر پڑھنا افضل ترین عمل ہے اور فرض ہے ۔ 

خیراندیش - غلام محمد وامِق


ایک سوچ = میرا جسم میری مرضی=      تحریر - غلام محمد وامِق  -  میرا جِس٘م میری مرضی ، بالکل ٹھیک ۔  میری چیز پر میری ہی مرضی ہونی چاہیے ۔  میری چیز پر میرا ہی اختیار ہونا چاہیے ۔  لیکن کیا واقعی میرا جسم میرا ہے ؟  کیا میرے جسم پر میرا کچھ اختیار بھی ہے ؟  کیا یہ جسم مجھے میری مرضی سے مِلا ہے؟  کیا یہ شکل و صورت، یہ نقش و نین اور یہ رنگت مجھے میری مرضی سے ملے ہیں ؟  کیا میرے جسم میں تبدیلیاں میری مرضی سے آ رہی ہیں؟  کیا میں اپنے جسم میں ہونے والی قدرتی تبدیلیاں روک سکتا ہوں ؟  کیا میرا جسم میری مرضی سے بڑھ رہا ہے؟  کیا میرا جسم میری مرضی سے بوڑھا ہو رہا ہے؟  کیا میرا جسم میری مرضی سے بیمار ہوتا ہے ؟  کیا میرا جسم میری مرضی سے میرے خاندان یا میری قوم میں پیدا ہوا ہے؟  کیا میرا جسم میری مرضی سے میرے وطن یا میرے دیس میں پیدا ہوا ہے؟  کیا میرے جسم میں روح میری مرضی سے ڈالی گئی ہے؟  کیا میرے جسم سے روح میری مرضی سے نکالی جائے گی؟  اگر ایسا کچھ بھی نہیں ہے تو پھر میرا جسم ، میرا کیسے ہوا ؟ اور پھر اس پر میری مرضی کیسے چل سکتی ہے؟؟؟  لہٰذا جس نے یہ جسم بنایا ہے اس پر صرف اور صرف اُسی کی مرضی چلے گی ۔  اور پھر "  میں " ہوں کیا ؟  " میں " تو کچھ بھی نہیں ہوں ۔   بقولِ شاعر -  تیرے تو اختیار میں اِک سانس بھی نہیں ۔  پھر بھی اے میرے یار تُو مغرور ہو گیا ۔   ( وامِق )  خیر اندیش - غلام محمد وامِق محراب پور سندھ ۔

ایک سوچ = میرا جسم میری مرضی= تحریر - غلام محمد وامِق - میرا جِس٘م میری مرضی ، بالکل ٹھیک ۔ میری چیز پر میری ہی مرضی ہونی چاہیے ۔ میری چیز پر میرا ہی اختیار ہونا چاہیے ۔ لیکن کیا واقعی میرا جسم میرا ہے ؟ کیا میرے جسم پر میرا کچھ اختیار بھی ہے ؟ کیا یہ جسم مجھے میری مرضی سے مِلا ہے؟ کیا یہ شکل و صورت، یہ نقش و نین اور یہ رنگت مجھے میری مرضی سے ملے ہیں ؟ کیا میرے جسم میں تبدیلیاں میری مرضی سے آ رہی ہیں؟ کیا میں اپنے جسم میں ہونے والی قدرتی تبدیلیاں روک سکتا ہوں ؟ کیا میرا جسم میری مرضی سے بڑھ رہا ہے؟ کیا میرا جسم میری مرضی سے بوڑھا ہو رہا ہے؟ کیا میرا جسم میری مرضی سے بیمار ہوتا ہے ؟ کیا میرا جسم میری مرضی سے میرے خاندان یا میری قوم میں پیدا ہوا ہے؟ کیا میرا جسم میری مرضی سے میرے وطن یا میرے دیس میں پیدا ہوا ہے؟ کیا میرے جسم میں روح میری مرضی سے ڈالی گئی ہے؟ کیا میرے جسم سے روح میری مرضی سے نکالی جائے گی؟ اگر ایسا کچھ بھی نہیں ہے تو پھر میرا جسم ، میرا کیسے ہوا ؟ اور پھر اس پر میری مرضی کیسے چل سکتی ہے؟؟؟ لہٰذا جس نے یہ جسم بنایا ہے اس پر صرف اور صرف اُسی کی مرضی چلے گی ۔ اور پھر " میں " ہوں کیا ؟ " میں " تو کچھ بھی نہیں ہوں ۔ بقولِ شاعر - تیرے تو اختیار میں اِک سانس بھی نہیں ۔ پھر بھی اے میرے یار تُو مغرور ہو گیا ۔ ( وامِق ) خیر اندیش - غلام محمد وامِق محراب پور سندھ ۔

 ایک سوچ = میرا جسم میری مرضی= 

    تحریر - غلام محمد وامِق 


میرا جِس٘م میری مرضی ، بالکل ٹھیک ۔ 

میری چیز پر میری ہی مرضی ہونی چاہیے ۔ 

میری چیز پر میرا ہی اختیار ہونا چاہیے ۔ 

لیکن کیا واقعی میرا جسم میرا ہے ؟ 

کیا میرے جسم پر میرا کچھ اختیار بھی ہے ؟ 

کیا یہ جسم مجھے میری مرضی سے مِلا ہے؟ 

کیا یہ شکل و صورت، یہ نقش و نین اور یہ رنگت مجھے میری مرضی سے ملے ہیں ؟ 

کیا میرے جسم میں تبدیلیاں میری مرضی سے آ رہی ہیں؟ 

کیا میں اپنے جسم میں ہونے والی قدرتی تبدیلیاں روک سکتا ہوں ؟ 

کیا میرا جسم میری مرضی سے بڑھ رہا ہے؟ 

کیا میرا جسم میری مرضی سے بوڑھا ہو رہا ہے؟ 

کیا میرا جسم میری مرضی سے بیمار ہوتا ہے ؟ 

کیا میرا جسم میری مرضی سے میرے خاندان یا میری قوم میں پیدا ہوا ہے؟ 

کیا میرا جسم میری مرضی سے میرے وطن یا میرے دیس میں پیدا ہوا ہے؟ 

کیا میرے جسم میں روح میری مرضی سے ڈالی گئی ہے؟ 

کیا میرے جسم سے روح میری مرضی سے نکالی جائے گی؟ 

اگر ایسا کچھ بھی نہیں ہے تو پھر میرا جسم ، میرا کیسے ہوا ؟ اور پھر اس پر میری مرضی کیسے چل سکتی ہے؟؟؟ 

لہٰذا جس نے یہ جسم بنایا ہے اس پر صرف اور صرف اُسی کی مرضی چلے گی ۔ 

اور پھر "  میں " ہوں کیا ؟ 

" میں " تو کچھ بھی نہیں ہوں ۔ 


بقولِ شاعر - 

تیرے تو اختیار میں اِک سانس بھی نہیں ۔ 

پھر بھی اے میرے یار تُو مغرور ہو گیا ۔   ( وامِق )


خیر اندیش - غلام محمد وامِق محراب پور سندھ ۔


اپنے پرانے ادبی اوراق کی کانٹ چھانٹ کرتے ہوئے اس پرانے اخبار " حُرِّیَت " پر نظر پڑی تو پرانی یادیں تازہ ہو گئیں ۔ یہ اخبار مورخہ 14 اکتوبر سن 1983ء کا ہے، اس اخبار میں میرا سب سے پہلا مختصر سا انٹرویو اور تصویر شایع ہوئی تھی جوکہ ہمارے دوست اور اس زمانے کے معروف صحافی اور موجودہ دور کے معروف مترجم ، ادیب ، اور قلمکار " پروفیسر سلیم آکاش مغل " Aakash Mughal  نے کیا تھا ، اور اخبار کے اسی صفحے پر ہمارے اس زمانے کے دوست اور ریڈیو پاکستان کراچی کے کمپیئر مرزا یاسین بیگ کا تفصیلی انٹرویو بھی شایع ہوا تھا، مرزا یاسین بیگ Mirza Yasin Baig  اب کینیڈا  کے اردو ٹیلیویژن پر میزبانی کے فرائض انجام دے رہے ہیں ۔  یادش بخیر - غلام محمد وامِق

اپنے پرانے ادبی اوراق کی کانٹ چھانٹ کرتے ہوئے اس پرانے اخبار " حُرِّیَت " پر نظر پڑی تو پرانی یادیں تازہ ہو گئیں ۔ یہ اخبار مورخہ 14 اکتوبر سن 1983ء کا ہے، اس اخبار میں میرا سب سے پہلا مختصر سا انٹرویو اور تصویر شایع ہوئی تھی جوکہ ہمارے دوست اور اس زمانے کے معروف صحافی اور موجودہ دور کے معروف مترجم ، ادیب ، اور قلمکار " پروفیسر سلیم آکاش مغل " Aakash Mughal نے کیا تھا ، اور اخبار کے اسی صفحے پر ہمارے اس زمانے کے دوست اور ریڈیو پاکستان کراچی کے کمپیئر مرزا یاسین بیگ کا تفصیلی انٹرویو بھی شایع ہوا تھا، مرزا یاسین بیگ Mirza Yasin Baig اب کینیڈا کے اردو ٹیلیویژن پر میزبانی کے فرائض انجام دے رہے ہیں ۔ یادش بخیر - غلام محمد وامِق

 اپنے پرانے ادبی اوراق کی کانٹ چھانٹ کرتے ہوئے اس پرانے اخبار " حُرِّیَت " پر نظر پڑی تو پرانی یادیں تازہ ہو گئیں ۔ یہ اخبار مورخہ 14 اکتوبر سن 1983ء کا ہے، اس اخبار میں میرا سب سے پہلا مختصر سا انٹرویو اور تصویر شایع ہوئی تھی جوکہ ہمارے دوست اور اس زمانے کے معروف صحافی اور موجودہ دور کے معروف مترجم ، ادیب ، اور قلمکار " پروفیسر سلیم آکاش مغل " Aakash Mughal  نے کیا تھا ، اور اخبار کے اسی صفحے پر ہمارے اس زمانے کے دوست اور ریڈیو پاکستان کراچی کے کمپیئر مرزا یاسین بیگ کا تفصیلی انٹرویو بھی شایع ہوا تھا، مرزا یاسین بیگ Mirza Yasin Baig  اب کینیڈا  کے اردو ٹیلیویژن پر میزبانی کے فرائض انجام دے رہے ہیں ۔ 


یادش بخیر - غلام محمد وامِق

کوئی بھی دعا مانگنے سے پہلے اس بات کو مدِ نظر ضرور رکھنا چاہیے کہ دعا قانونِ فطرت کے خلاف اور شریعت کے خلاف نہ ہو ۔   خیراندیش - غلام محمد وامِق

کوئی بھی دعا مانگنے سے پہلے اس بات کو مدِ نظر ضرور رکھنا چاہیے کہ دعا قانونِ فطرت کے خلاف اور شریعت کے خلاف نہ ہو ۔ خیراندیش - غلام محمد وامِق

 کوئی بھی دعا مانگنے سے پہلے اس بات کو مدِ نظر ضرور رکھنا چاہیے کہ دعا قانونِ فطرت کے خلاف اور شریعت کے خلاف نہ ہو ۔ 


خیراندیش - غلام محمد وامِق

Powered by Blogger.