ھریانوی غزل  غلام محمد وامِق   کَھڑدُو کوئے ٹھائیو ناں تھام دنیا مَیں ۔  کَدَے مَروڑ دکھائیو ناں تھام دنیا میں ۔   دِھنگتانَے گَلَّے لَڑیو ناں تھام کِسے کَے گَیل ۔  پاپ کِمَے کمائیو ناں تھام دنیا میں ۔   کھیل تماشہ سَہ ، یا دنیا دوکھا سَہ ۔  دِل نَیں کَدے بی لائیو ناں تھام دنیا مَیں ۔   جُوٹھ بول کَے کِسے کا مال پھَبائیو ناں ۔  جوٹھی سَوگَند کھائیو ناں تھام دنیا مَیں ۔   مَڑی سی ھان کے ڈَھبّی ساں پھیر بِچھڑاں گے ۔  کِسے کا دل دُکھائیو ناں تھام دُنیا مَیں ۔   دِل کیوں اِب کُرلاوَے سَہ ، وہ چھوڈ گیا ۔  اِیب کِسے نَیں چاھیو ناں تھام دُنیا مَیں ۔   دِل ٹوٹَے سَہ نَجراں گیل بی مانس کا ۔  بُھونڈی ڈال لکھائیو ناں تھام دُنیا میں ۔   بَڈیا شعر جو ہوگا وہ تو بولَے گا ۔  جُوٹھی داد بی چاھیو ناں تھام دُنیا مَیں ۔   وامِق تھام نَیں بول بول کَے تَھک گیا سُوں ۔  جُوٹھے لارے لائیو ناں تھام دُنیا مَیں ۔  ـــــــــــــــــــــــــــــــــ  شاعر- غلام محمد وامِق ۔  محراب پور سندھ ۔

ھریانوی غزل غلام محمد وامِق کَھڑدُو کوئے ٹھائیو ناں تھام دنیا مَیں ۔ کَدَے مَروڑ دکھائیو ناں تھام دنیا میں ۔ دِھنگتانَے گَلَّے لَڑیو ناں تھام کِسے کَے گَیل ۔ پاپ کِمَے کمائیو ناں تھام دنیا میں ۔ کھیل تماشہ سَہ ، یا دنیا دوکھا سَہ ۔ دِل نَیں کَدے بی لائیو ناں تھام دنیا مَیں ۔ جُوٹھ بول کَے کِسے کا مال پھَبائیو ناں ۔ جوٹھی سَوگَند کھائیو ناں تھام دنیا مَیں ۔ مَڑی سی ھان کے ڈَھبّی ساں پھیر بِچھڑاں گے ۔ کِسے کا دل دُکھائیو ناں تھام دُنیا مَیں ۔ دِل کیوں اِب کُرلاوَے سَہ ، وہ چھوڈ گیا ۔ اِیب کِسے نَیں چاھیو ناں تھام دُنیا مَیں ۔ دِل ٹوٹَے سَہ نَجراں گیل بی مانس کا ۔ بُھونڈی ڈال لکھائیو ناں تھام دُنیا میں ۔ بَڈیا شعر جو ہوگا وہ تو بولَے گا ۔ جُوٹھی داد بی چاھیو ناں تھام دُنیا مَیں ۔ وامِق تھام نَیں بول بول کَے تَھک گیا سُوں ۔ جُوٹھے لارے لائیو ناں تھام دُنیا مَیں ۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــــ شاعر- غلام محمد وامِق ۔ محراب پور سندھ ۔

 ھریانوی غزل 

غلام محمد وامِق 


کَھڑدُو کوئے ٹھائیو ناں تھام دنیا مَیں ۔ 

کَدَے مَروڑ دکھائیو ناں تھام دنیا میں ۔ 


دِھنگتانَے گَلَّے لَڑیو ناں تھام کِسے کَے گَیل ۔ 

پاپ کِمَے کمائیو ناں تھام دنیا میں ۔ 


کھیل تماشہ سَہ ، یا دنیا دوکھا سَہ ۔ 

دِل نَیں کَدے بی لائیو ناں تھام دنیا مَیں ۔ 


جُوٹھ بول کَے کِسے کا مال پھَبائیو ناں ۔ 

جوٹھی سَوگَند کھائیو ناں تھام دنیا مَیں ۔ 


مَڑی سی ھان کے ڈَھبّی ساں پھیر بِچھڑاں گے ۔ 

کِسے کا دل دُکھائیو ناں تھام دُنیا مَیں ۔ 


دِل کیوں اِب کُرلاوَے سَہ ، وہ چھوڈ گیا ۔ 

اِیب کِسے نَیں چاھیو ناں تھام دُنیا مَیں ۔ 


دِل ٹوٹَے سَہ نَجراں گیل بی مانس کا ۔ 

بُھونڈی ڈال لکھائیو ناں تھام دُنیا میں ۔ 


بَڈیا شعر جو ہوگا وہ تو بولَے گا ۔ 

جُوٹھی داد بی چاھیو ناں تھام دُنیا مَیں ۔ 


وامِق تھام نَیں بول بول کَے تَھک گیا سُوں ۔ 

جُوٹھے لارے لائیو ناں تھام دُنیا مَیں ۔ 

ـــــــــــــــــــــــــــــــــ 

شاعر- غلام محمد وامِق ۔ 

محراب پور سندھ ۔

हरियाणवी ग़ज़ल 

ग़ुलाम मुहम्मद वामिक़ 


खड़्दू कोऐ ठाइयौ ना थाम दुनिया मैं । 

क्दै मरौड़ दिखाइयौ ना थाम दुनिया मैं। 


धिंग्ताणै गल्लै लड़ियौ ना थाम किसे क गैल । 

पाप किमे कमाइयौ ना थाम दुनिया मैं। 


खेल तमाशा है या दुनिया दोखा सै । 

दिल नै कदे बि लाइयौ ना थाम दुनिया मैं। 


जूठ बोल कै किसे का माल फबाइयौ ना । 

जुठ्ठी सोगंद खाइयौ ना थाम दुनिया मैं। 


मड़ी सि हाण के ढब्बी सां फेर बिछ्ड़ां गै । 

किसे का दिल दुखाइयौ ना थाम दुनिया मैं। 


दिल कियूं इब कुर्लावै सै वो छोड गया। 

ईब किसे नै चाह्यौ ना थाम दुनिया मैं। 


दिल टुटै सै नज्रां गैल बि माणस का । 

भुंड्डी डाल लाखाइयौ ना थाम दुनिया मैं। 


बडिया शेर जो होगा वो तो बोलै गा । 

जुठ्ठी दाद बि चाह्यौ ना थाम  दुनिया मैं। 


वामिक़ थाम नै बोल बोल कै थक गया सूं । 

जुठ्ठे लारे लाइयौ ना थाम दुनिया मैं। 

_____________________ 

शाइर - ग़ुलाम मुहम्मद वामिक़ 

पाकिस्तान।


سال 1975  کراچی میں پرانے زمانے کے بلیک اینڈ وائٹ کیمرے سے  اسٹوڈیو میں کھنچوائی گئی تصویر جسے اب رنگین بنایا گیا۔

سال 1975 کراچی میں پرانے زمانے کے بلیک اینڈ وائٹ کیمرے سے اسٹوڈیو میں کھنچوائی گئی تصویر جسے اب رنگین بنایا گیا۔

 سال 1975  کراچی میں پرانے زمانے کے بلیک اینڈ وائٹ  کیمرے سے  اسٹوڈیو میں کھنچوائی گئی تصویر ۔جسے اب رنگین بنایا گیا 



آج وفاتِ حضرت ابوبکر صدیق اکبر ہے اس نسبت سے اشعارِ منقبت -  جِن کو رسولِ پاک نے صدّیق خود کہا  جِن کو رفیقِ غار کا حاصل شرف ہُوا  سردارِ دو جہان کے پہلوُ میں سوئے ہیں  کتنا عظیم مرتبہ دیکھو انہیں مِلا  اعلیٰ نبی کے بعد صحابہ کی شان ہے  قائم اِسی عقیدے پہ دین و ایمان ہے ۔  شاعر- غلام محمد وامِق

آج وفاتِ حضرت ابوبکر صدیق اکبر ہے اس نسبت سے اشعارِ منقبت - جِن کو رسولِ پاک نے صدّیق خود کہا جِن کو رفیقِ غار کا حاصل شرف ہُوا سردارِ دو جہان کے پہلوُ میں سوئے ہیں کتنا عظیم مرتبہ دیکھو انہیں مِلا اعلیٰ نبی کے بعد صحابہ کی شان ہے قائم اِسی عقیدے پہ دین و ایمان ہے ۔ شاعر- غلام محمد وامِق

 آج وفاتِ حضرت ابوبکر صدیق اکبر ہے اس نسبت سے اشعارِ منقبت - 

جِن کو رسولِ پاک نے صدّیق خود کہا 

جِن کو رفیقِ غار کا حاصل شرف ہُوا 

سردارِ دو جہان کے پہلوُ میں سوئے ہیں 

کتنا عظیم مرتبہ دیکھو انہیں مِلا 

اعلیٰ نبی کے بعد صحابہ کی شان ہے 

قائم اِسی عقیدے پہ دین و ایمان ہے ۔ 

شاعر- غلام محمد وامِق


Powered by Blogger.