غزل= دامِ فریبِ عُم٘ر جو بھرپور ہو گیا ۔ دل سے بھی زندگی کا نشہ دور ہو گیا ۔ تیرے تو اختیار میں اِک سانس بھی نہیں ۔ پھر بھی اے میرے یار تُو مغرور ہو گیا ۔ ہے کارخانے دار تو محفوظ دیکھیے ۔ لیکن یہاں بے آسرا مزدور ہو گیا ۔ مہنگی ہوئی ہیں اِس قدر اشیائے خُوردونوش ۔ انسان چوری کرنے پہ مجبور ہو گیا ۔ یہ دور ہے فرنگیوں کے دور سے بُرا ۔ اب چور اپنا ملک بھی مشہور ہو گیا ۔ دیکھو نظامِ ظلم کو کب تک سہیں گے ہم ۔ پیمانہ صبر کا جو تھا بھرپور ہو گیا ۔ وامِق جو ہم نے پیار کا اظہار کر دیا ۔ نزدیک آتے آتے بھی وہ دور ہو گیا - ------------------ مورخہ 25 جون 2026ء بروز جمعرات ۔
غزل
شاعر - غلام محمد وامِق
دامِ فریبِ عُم٘ر جو بھرپور ہو گیا ۔
دل سے بھی زندگی کا نشہ دور ہو گیا ۔
تیرے تو اختیار میں اِک سانس بھی نہیں ۔
پھر بھی اے میرے یار تُو مغرور ہو گیا ۔
ہے کارخانے دار تو محفوظ دیکھیے ۔
لیکن یہاں بے آسرا مزدور ہو گیا ۔
مہنگی ہوئی ہیں اِس قدر اشیائے خُوردونوش ۔
انسان چوری کرنے پہ مجبور ہو گیا ۔
یہ دور ہے فرنگیوں کے دور سے بُرا ۔
اب چور اپنا ملک بھی مشہور ہو گیا ۔
دیکھو نظامِ ظلم کو کب تک سہیں گے ہم ۔
پیمانہ صبر کا جو تھا بھرپور ہو گیا ۔
وامِق جو ہم نے پیار کا اظہار کر دیا ۔
نزدیک آتے آتے بھی وہ دور ہو گیا -
------------------
مورخہ 25 جون 2026ء بروز جمعرات ۔
قرآن کریم کی تلاوت سننا بہت اچھا عمل ہے لیکن قران کریم کو دیکھ کر اور سمجھ کر پڑھنا افضل ترین عمل ہے اور فرض ہے ۔ خیراندیش - غلام محمد وامِق
قرآن کریم کی تلاوت سننا بہت اچھا عمل ہے لیکن قران کریم کو دیکھ کر اور سمجھ کر پڑھنا افضل ترین عمل ہے اور فرض ہے ۔
خیراندیش - غلام محمد وامِق
ایک سوچ = میرا جسم میری مرضی= تحریر - غلام محمد وامِق - میرا جِس٘م میری مرضی ، بالکل ٹھیک ۔ میری چیز پر میری ہی مرضی ہونی چاہیے ۔ میری چیز پر میرا ہی اختیار ہونا چاہیے ۔ لیکن کیا واقعی میرا جسم میرا ہے ؟ کیا میرے جسم پر میرا کچھ اختیار بھی ہے ؟ کیا یہ جسم مجھے میری مرضی سے مِلا ہے؟ کیا یہ شکل و صورت، یہ نقش و نین اور یہ رنگت مجھے میری مرضی سے ملے ہیں ؟ کیا میرے جسم میں تبدیلیاں میری مرضی سے آ رہی ہیں؟ کیا میں اپنے جسم میں ہونے والی قدرتی تبدیلیاں روک سکتا ہوں ؟ کیا میرا جسم میری مرضی سے بڑھ رہا ہے؟ کیا میرا جسم میری مرضی سے بوڑھا ہو رہا ہے؟ کیا میرا جسم میری مرضی سے بیمار ہوتا ہے ؟ کیا میرا جسم میری مرضی سے میرے خاندان یا میری قوم میں پیدا ہوا ہے؟ کیا میرا جسم میری مرضی سے میرے وطن یا میرے دیس میں پیدا ہوا ہے؟ کیا میرے جسم میں روح میری مرضی سے ڈالی گئی ہے؟ کیا میرے جسم سے روح میری مرضی سے نکالی جائے گی؟ اگر ایسا کچھ بھی نہیں ہے تو پھر میرا جسم ، میرا کیسے ہوا ؟ اور پھر اس پر میری مرضی کیسے چل سکتی ہے؟؟؟ لہٰذا جس نے یہ جسم بنایا ہے اس پر صرف اور صرف اُسی کی مرضی چلے گی ۔ اور پھر " میں " ہوں کیا ؟ " میں " تو کچھ بھی نہیں ہوں ۔ بقولِ شاعر - تیرے تو اختیار میں اِک سانس بھی نہیں ۔ پھر بھی اے میرے یار تُو مغرور ہو گیا ۔ ( وامِق ) خیر اندیش - غلام محمد وامِق محراب پور سندھ ۔
ایک سوچ = میرا جسم میری مرضی=
تحریر - غلام محمد وامِق
میرا جِس٘م میری مرضی ، بالکل ٹھیک ۔
میری چیز پر میری ہی مرضی ہونی چاہیے ۔
میری چیز پر میرا ہی اختیار ہونا چاہیے ۔
لیکن کیا واقعی میرا جسم میرا ہے ؟
کیا میرے جسم پر میرا کچھ اختیار بھی ہے ؟
کیا یہ جسم مجھے میری مرضی سے مِلا ہے؟
کیا یہ شکل و صورت، یہ نقش و نین اور یہ رنگت مجھے میری مرضی سے ملے ہیں ؟
کیا میرے جسم میں تبدیلیاں میری مرضی سے آ رہی ہیں؟
کیا میں اپنے جسم میں ہونے والی قدرتی تبدیلیاں روک سکتا ہوں ؟
کیا میرا جسم میری مرضی سے بڑھ رہا ہے؟
کیا میرا جسم میری مرضی سے بوڑھا ہو رہا ہے؟
کیا میرا جسم میری مرضی سے بیمار ہوتا ہے ؟
کیا میرا جسم میری مرضی سے میرے خاندان یا میری قوم میں پیدا ہوا ہے؟
کیا میرا جسم میری مرضی سے میرے وطن یا میرے دیس میں پیدا ہوا ہے؟
کیا میرے جسم میں روح میری مرضی سے ڈالی گئی ہے؟
کیا میرے جسم سے روح میری مرضی سے نکالی جائے گی؟
اگر ایسا کچھ بھی نہیں ہے تو پھر میرا جسم ، میرا کیسے ہوا ؟ اور پھر اس پر میری مرضی کیسے چل سکتی ہے؟؟؟
لہٰذا جس نے یہ جسم بنایا ہے اس پر صرف اور صرف اُسی کی مرضی چلے گی ۔
اور پھر " میں " ہوں کیا ؟
" میں " تو کچھ بھی نہیں ہوں ۔
بقولِ شاعر -
تیرے تو اختیار میں اِک سانس بھی نہیں ۔
پھر بھی اے میرے یار تُو مغرور ہو گیا ۔ ( وامِق )
خیر اندیش - غلام محمد وامِق محراب پور سندھ ۔
اپنے پرانے ادبی اوراق کی کانٹ چھانٹ کرتے ہوئے اس پرانے اخبار " حُرِّیَت " پر نظر پڑی تو پرانی یادیں تازہ ہو گئیں ۔ یہ اخبار مورخہ 14 اکتوبر سن 1983ء کا ہے، اس اخبار میں میرا سب سے پہلا مختصر سا انٹرویو اور تصویر شایع ہوئی تھی جوکہ ہمارے دوست اور اس زمانے کے معروف صحافی اور موجودہ دور کے معروف مترجم ، ادیب ، اور قلمکار " پروفیسر سلیم آکاش مغل " Aakash Mughal نے کیا تھا ، اور اخبار کے اسی صفحے پر ہمارے اس زمانے کے دوست اور ریڈیو پاکستان کراچی کے کمپیئر مرزا یاسین بیگ کا تفصیلی انٹرویو بھی شایع ہوا تھا، مرزا یاسین بیگ Mirza Yasin Baig اب کینیڈا کے اردو ٹیلیویژن پر میزبانی کے فرائض انجام دے رہے ہیں ۔ یادش بخیر - غلام محمد وامِق
اپنے پرانے ادبی اوراق کی کانٹ چھانٹ کرتے ہوئے اس پرانے اخبار " حُرِّیَت " پر نظر پڑی تو پرانی یادیں تازہ ہو گئیں ۔ یہ اخبار مورخہ 14 اکتوبر سن 1983ء کا ہے، اس اخبار میں میرا سب سے پہلا مختصر سا انٹرویو اور تصویر شایع ہوئی تھی جوکہ ہمارے دوست اور اس زمانے کے معروف صحافی اور موجودہ دور کے معروف مترجم ، ادیب ، اور قلمکار " پروفیسر سلیم آکاش مغل " Aakash Mughal نے کیا تھا ، اور اخبار کے اسی صفحے پر ہمارے اس زمانے کے دوست اور ریڈیو پاکستان کراچی کے کمپیئر مرزا یاسین بیگ کا تفصیلی انٹرویو بھی شایع ہوا تھا، مرزا یاسین بیگ Mirza Yasin Baig اب کینیڈا کے اردو ٹیلیویژن پر میزبانی کے فرائض انجام دے رہے ہیں ۔
یادش بخیر - غلام محمد وامِق
کوئی بھی دعا مانگنے سے پہلے اس بات کو مدِ نظر ضرور رکھنا چاہیے کہ دعا قانونِ فطرت کے خلاف اور شریعت کے خلاف نہ ہو ۔ خیراندیش - غلام محمد وامِق
کوئی بھی دعا مانگنے سے پہلے اس بات کو مدِ نظر ضرور رکھنا چاہیے کہ دعا قانونِ فطرت کے خلاف اور شریعت کے خلاف نہ ہو ۔
خیراندیش - غلام محمد وامِق
اگر آپ میں اخلاقیات ہیں تو آپ قابلِ تکریم اور معاشرے کے لیے ایک مفید انسان ہیں ورنہ آپ کی بڑے سے بڑی ڈگری بھی کسی کام کی نہیں ۔ خیراندیش - غلام محمد وامِق
اگر آپ میں اخلاقیات ہیں تو آپ قابلِ تکریم اور معاشرے کے لیے ایک مفید انسان ہیں ورنہ آپ کی بڑے سے بڑی ڈگری بھی کسی کام کی نہیں ۔
خیراندیش - غلام محمد وامِق
قطعہ - لوگوں کی نفسیات شاعر - غلام محمد وامِق ۔ لوگوں کی نفسیات کا بس اک اصول ہے ۔ رشتہ مفاد کا تو کبھی توڑنا نہیں ۔ اوروں کا چاہے لاکھوں کا نقصان ہو تو ہو ۔ دھیلا ہمارا اپنا ہمیں چھوڑنا نہیں ۔ ــــــــــــــــــــــــــــــــــــ مفعول فاعلات مفاعیل فاعلن مضارع مثمن اخرب مکفوف محذوف 6 جولائی 2026ء بروز پیر
قطعہ - لوگوں کی نفسیات
شاعر - غلام محمد وامِق ۔
لوگوں کی نفسیات کا بس اک اصول ہے ۔
رشتہ مفاد کا تو کبھی توڑنا نہیں ۔
اوروں کا چاہے لاکھوں کا نقصان ہو تو ہو ۔
دھیلا ہمارا اپنا ہمیں چھوڑنا نہیں ۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
مفعول فاعلات مفاعیل فاعلن
مضارع مثمن اخرب مکفوف محذوف
6 جولائی 2026ء بروز پیر
ھریانوی نظم - پاکستان - شاعر - غلام محمد وامِق پاکستان یُو مُلَک سَے مھارا ۔ اِس پَہ جیون دان ہے سارا ۔ کتنا سُندر وطن سَہ مھارا ۔ ھریانہ بی اِس پَہ واریا ۔ جو بی اِس نَیں بُرا کہوَے گا ۔ بے عِجتا وہ ہو کَے رھوَے گا ۔ اتنی پیاری دھرتی مھاری ۔ سونا چاندی ھیریاں آلی ۔ موسم اِس کے پیارے پیارے ۔ کھیت سمندر دریا سارے ۔ اللّٰہ کی ہر نعمت اِس مَیں ۔ ساری برکت رحمت اِس مَیں آگَے دیکھ بَڈھانا سَہ یُو ۔ ٹھاڈا دیس بنانا سَہ یُو ۔ لاکھوں جاناں دے کَے بنایا ۔ بَیریاں تَے یُو ھام نَیں بچایا ۔ ھام نَیں اِس پَہ جان لُٹائی ۔ عِجّت کی بی باجی لائی ۔ پھیر بی ھام نَیں کَہوَیں پرایا ۔ کِتنا بَیری بَکھَت یُو آیا ۔ اِس کے نَیتا بنے بپاری ۔ دشمن گَلَّے اِن کی یاری ۔ بَیچ کَہ کھا گے مُلَک یُو سارا کُھون سَدائے پِیوَیں مھارا ۔ وامِق ھِمّت کر کَہ دکھاؤ ۔ آپنا سارا مُلَک بچاؤ ۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــــ۔ 24 جون 2026ء بروز بدھ ۔
ھریانوی نظم - پاکستان -
شاعر - غلام محمد وامِق
پاکستان یُو مُلَک سَے مھارا ۔
اِس پَہ جیون دان ہے سارا ۔
کتنا سُندر وطن سَہ مھارا ۔
ھریانہ بی اِس پَہ واریا ۔
جو بی اِس نَیں بُرا کہوَے گا ۔
بے عِجتا وہ ہو کَے رھوَے گا ۔
اتنی پیاری دھرتی مھاری ۔
سونا چاندی ھیریاں آلی ۔
موسم اِس کے پیارے پیارے ۔
کھیت سمندر دریا سارے ۔
اللّٰہ کی ہر نعمت اِس مَیں ۔
ساری برکت رحمت اِس مَیں
آگَے دیکھ بَڈھانا سَہ یُو ۔
ٹھاڈا دیس بنانا سَہ یُو ۔
لاکھوں جاناں دے کَے بنایا ۔
بَیریاں تَے یُو ھام نَیں بچایا ۔
ھام نَیں اِس پَہ جان لُٹائی ۔
عِجّت کی بی باجی لائی ۔
پھیر بی ھام نَیں کَہوَیں پرایا ۔
کِتنا بَیری بَکھَت یُو آیا ۔
اِس کے نَیتا بنے بپاری ۔
دشمن گَلَّے اِن کی یاری ۔
بَیچ کَہ کھا گے مُلَک یُو سارا
کُھون سَدائے پِیوَیں مھارا ۔
وامِق ھِمّت کر کَہ دکھاؤ ۔
آپنا سارا مُلَک بچاؤ ۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــ۔
24 جون 2026ء بروز بدھ ۔
نظم - سندھ ہماری شاعر - غلام محمد وامِق سندھ دھرتی ہے پیاری پیاری ۔ غیرت مند انسانوں والی ۔ سندھ کے لوگ محبّت والے ۔ مُخلِص اور مُرَوَّت والے ۔ ہم بھی اِس دھرتی کے بیٹے ۔ ہِمّت اور شُجاعت والے ۔ رِلّی، پٹکو ، اجرک ، ٹوپی ۔ کتنی سُندَر اپنے سندھ کی ۔ سُن کر دیکھو اِس کی کہانی ۔ کتنی ہے تہذیب پُرانی ۔ سُوندھی سُوندھی مِٹّی اِس کی ۔ خوشبو والی مِٹّی اِس کی ۔ کوڈر لے کر آئیں ھاری ۔ ھاری سے آئے ہریالی ۔ سندھ سے جِس کو پیار نہیں ہے ۔ وہ اپنا دلدار نہیں ہے ۔ عزّت شہرت سب کچھ لے لیں ۔ جان جو قرباں سندھ پر کردیں وامِق جیئے سندھ ہمیشہ ۔ ہم ہیں اِس کے رِند ہمیشہ ۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــــ فعلن فعلن فعلن فعلن ۔ فعل فعولن فعلن فعلن ۔ فعلن فعلن فعل فعولن ۔ بحر- ہندی متقارب اثرم مقبوض محذوف ۔ 26 جون 2026ء بروز جمعۃ المبارک ۔
نظم - سندھ ہماری
شاعر - غلام محمد وامِق
سندھ دھرتی ہے پیاری پیاری ۔
غیرت مند انسانوں والی ۔
سندھ کے لوگ محبّت والے ۔
مُخلِص اور مُرَوَّت والے ۔
ہم بھی اِس دھرتی کے بیٹے ۔
ہِمّت اور شُجاعت والے ۔
رِلّی، پٹکو ، اجرک ، ٹوپی ۔
کتنی سُندَر اپنے سندھ کی ۔
سُن کر دیکھو اِس کی کہانی ۔
کتنی ہے تہذیب پُرانی ۔
سُوندھی سُوندھی مِٹّی اِس کی ۔
خوشبو والی مِٹّی اِس کی ۔
کوڈر لے کر آئیں ھاری ۔
ھاری سے آئے ہریالی ۔
سندھ سے جِس کو پیار نہیں ہے ۔
وہ اپنا دلدار نہیں ہے ۔
عزّت شہرت سب کچھ لے لیں ۔
جان جو قرباں سندھ پر کردیں
وامِق جیئے سندھ ہمیشہ ۔
ہم ہیں اِس کے رِند ہمیشہ ۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــ
فعلن فعلن فعلن فعلن ۔
فعل فعولن فعلن فعلن ۔
فعلن فعلن فعل فعولن ۔
بحر- ہندی متقارب اثرم مقبوض محذوف ۔
26 جون 2026ء بروز جمعۃ المبارک ۔
غزل = دامِ فریبِ عُم٘ر جو بھرپور ہو گیا ۔ دل سے بھی زندگی کا نشہ دور ہو گیا ۔ تیرے تو اختیار میں اِک سانس بھی نہیں ۔ پھر بھی اے میرے یار تُو مغرور ہو گیا ۔ ہے کارخانے دار تو محفوظ دیکھیے ۔ لیکن یہاں بے آسرا مزدور ہو گیا ۔ مہنگی ہوئی ہیں اِس قدر اشیائے خُوردونوش ۔ انسان چوری کرنے پہ مجبور ہو گیا ۔ یہ دور ہے فرنگیوں کے دور سے بُرا ۔ اب چور اپنا ملک بھی مشہور ہو گیا ۔ دیکھو نظامِ ظلم کو کب تک سہیں گے ہم ۔ پیمانہ صبر کا جو تھا بھرپور ہو گیا ۔ وامِق جو ہم نے پیار کا اظہار کر دیا ۔ نزدیک آتے آتے بھی وہ دور ہو گیا - ------------------ مفعول فاعلات مفاعیل فاعلن بحر - مضارع مثمن اخرب مکفوف محذوف ۔ مورخہ 25 جون 2026ء بروز جمعرات ۔
غزل
شاعر - غلام محمد وامِق
دامِ فریبِ عُم٘ر جو بھرپور ہو گیا ۔
دل سے بھی زندگی کا نشہ دور ہو گیا ۔
تیرے تو اختیار میں اِک سانس بھی نہیں ۔
پھر بھی اے میرے یار تُو مغرور ہو گیا ۔
ہے کارخانے دار تو محفوظ دیکھیے ۔
لیکن یہاں بے آسرا مزدور ہو گیا ۔
مہنگی ہوئی ہیں اِس قدر اشیائے خُوردونوش ۔
انسان چوری کرنے پہ مجبور ہو گیا ۔
یہ دور ہے فرنگیوں کے دور سے بُرا ۔
اب چور اپنا ملک بھی مشہور ہو گیا ۔
دیکھو نظامِ ظلم کو کب تک سہیں گے ہم ۔
پیمانہ صبر کا جو تھا بھرپور ہو گیا ۔
وامِق جو ہم نے پیار کا اظہار کر دیا ۔
نزدیک آتے آتے بھی وہ دور ہو گیا -
------------------
مفعول فاعلات مفاعیل فاعلن
بحر - مضارع مثمن اخرب مکفوف محذوف ۔
مورخہ 25 جون 2026ء بروز جمعرات ۔
نوکر ، مزدور اور کسان (کمّی کمین) کی اہمیت = 1.نوکر - اگر نوکر نہ ہو تو سارے اشرافیہ ذلیل ہو جائیں انہیں خود کھانا پکانا پڑے ، جھاڑو لگانی پڑے ، گھر کی صفائی کرنی پڑے ، اپنے کپڑے خود دھونے پڑیں، گھر کا سودا سامان خود لانا پڑے ، اپنی گاڑی خود ڈرائیو کرنی پڑے اور دفاتر میں بھی سارے کام خود ہی کرنے پڑیں جو کہ ناممکن ہے یعنی نوکر کے بغیر صاحب خود نوکر بن جائیں گے ۔ 2. مزدور - اگر معاشرے سے مزدور کو نکال دیا جائے تو دنیا کی ساری معیشت تباہ ہو جائے ، کارخانے بند ہو جائیں ، تعمیرات ہونا رک جائیں ، صاحب لوگوں کو اپنا بوجھ خود اپنے کندھوں پر اٹھانا پڑے ، آمد و رفت رک جائے ، ٹرانسپورٹ بند ہو جائیں ، گھر بننا بند ہوجائیں لوگ غاروں میں رہنا شروع کردیں اگر گھر ہیں تو لوگ گھروں میں محصور ہو جائیں ، ضرورت اور روز مرہ کی اشیاء ملنا ناممکن ہو جائیں ، کپڑے بننا بند ہوجائیں لوگ اگھاڑے پھرنے پر مجبور ہو جائیں ، کھانا پانی تک ملنا محال ہو جائے اور دنیا کی ترقی مکمل طور پر رک جائے اور دنیا قدیم پتھر کے زمانے میں پہنچ جائے ۔ 3. کسان - اگر دنیا سے کسانوں کو ختم کر دیا جائے تو ہر قسم کا اناج ، گندم ، چاول ، پھل ، سبزی ، ہر قسم کا تیل ، اور طرح طرح کی کھانے کی نعمتیں ملنا بند ہوجائیں ، کپاس اگنا بند ہو جائے گی تو کپڑے بننا اور اپنا تن ڈھانپنا بھی ناممکن ہو جائے گا یعنی قدیم زمانے کے لوگوں کی طرح لوگ اپنا جسم پتوں سے اور جانوروں کی کھالوں سے ڈھانپنے پر مجبور ہو جائیں گے ۔ بالفاظ دیگر اگر دنیا سے ان پسے ہوئے تینوں گھٹیا طبقات ( شودر ، دلت ، کمّی اور کمین سمجھے جانے والے) کو نکال دیا جائے تو پوری دنیا ہی کمّی کمین اور شودر بن جائے گی ۔ اور دینا کے عیاش حکمرانوں کی حکمرانی ختم ہو جائے گی۔ کیا خیال ہے آپ کا یہ گھٹیا سمجھے جانے والے لوگ دنیا کی بقا اور سلامتی کے لیے کس قدر ضروری ہیں ؟ خیر اندیش - غلام محمد وامِق
نوکر ، مزدور اور کسان (کمّی کمین) کی اہمیت
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1.نوکر - اگر نوکر نہ ہو تو سارے اشرافیہ ذلیل ہو جائیں انہیں خود کھانا پکانا پڑے ، جھاڑو لگانی پڑے ، گھر کی صفائی کرنی پڑے ، اپنے کپڑے خود دھونے پڑیں، گھر کا سودا سامان خود لانا پڑے ، اپنی گاڑی خود ڈرائیو کرنی پڑے اور دفاتر میں بھی سارے کام خود ہی کرنے پڑیں جو کہ ناممکن ہے یعنی نوکر کے بغیر صاحب خود نوکر بن جائیں گے ۔
2. مزدور - اگر معاشرے سے مزدور کو نکال دیا جائے تو دنیا کی ساری معیشت تباہ ہو جائے ، کارخانے بند ہو جائیں ، تعمیرات ہونا رک جائیں ، صاحب لوگوں کو اپنا بوجھ خود اپنے کندھوں پر اٹھانا پڑے ، آمد و رفت رک جائے ، ٹرانسپورٹ بند ہو جائیں ، گھر بننا بند ہوجائیں لوگ غاروں میں رہنا شروع کردیں اگر گھر ہیں تو لوگ گھروں میں محصور ہو جائیں ، ضرورت اور روز مرہ کی اشیاء ملنا ناممکن ہو جائیں ، کپڑے بننا بند ہوجائیں لوگ اگھاڑے پھرنے پر مجبور ہو جائیں ، کھانا پانی تک ملنا محال ہو جائے اور دنیا کی ترقی مکمل طور پر رک جائے اور دنیا قدیم پتھر کے زمانے میں پہنچ جائے ۔
3. کسان - اگر دنیا سے کسانوں کو ختم کر دیا جائے تو ہر قسم کا اناج ، گندم ، چاول ، پھل ، سبزی ، ہر قسم کا تیل ، اور طرح طرح کی کھانے کی نعمتیں ملنا بند ہوجائیں ، کپاس اگنا بند ہو جائے گی تو کپڑے بننا اور اپنا تن ڈھانپنا بھی ناممکن ہو جائے گا یعنی قدیم زمانے کے لوگوں کی طرح لوگ اپنا جسم پتوں سے اور جانوروں کی کھالوں سے ڈھانپنے پر مجبور ہو جائیں گے ۔
بالفاظ دیگر اگر دنیا سے ان پسے ہوئے تینوں گھٹیا طبقات ( شودر ، دلت ، کمّی اور کمین سمجھے جانے والے) کو نکال دیا جائے تو پوری دنیا ہی کمّی کمین اور شودر بن جائے گی ۔ اور دینا کے عیاش حکمرانوں کی حکمرانی ختم ہو جائے گی۔
کیا خیال ہے آپ کا یہ گھٹیا سمجھے جانے والے لوگ دنیا کی بقا اور سلامتی کے لیے کس قدر ضروری ہیں ؟
خیر اندیش - غلام محمد وامِق
خونی رشتے توڑنے والوں کا برا انجام - قرآن کریم اور احادیث مبارکہ سے حوالے ۔ خیر اندیش - غلام محمد وامِق
خونی رشتے توڑنے والوں کا برا انجام - قرآن کریم اور احادیث مبارکہ سے حوالے ۔ خیر اندیش - غلام محمد وامِق
ماتمِ حسینؓ اور تعزیہ داری کی ابتداء اس امت میں کیونکر اور کب ہوئی، اس پر سب سے مفصل کلام علامہ ابن کثیر دمشقی نے اپنی کتاب "البدایہ و النہایہ" کی جلد ۱۱ میں کیا ہے۔ ۳۳۴ ہجری میں جب ایرانی النسل دیلمی حکمران معزالدولہ بن بویہ کو بعہدِ خلافتِ عباسیہ خودمختار وزیر کی حیثیت سے بغداد میں منصب ملا تو حادثۂ کربلا کے تقریباً تین سو برس بعد ۳۵۲ ہجری میں اس نے ماتمِ حسینؓ اور تعزیہ داری کی بدعات کا اجراء کروایا۔ عباسی خلیفہ خود اس وقت اس قدر کمزور ہوچکا تھا کہ وہ اس بابت نہ کچھ کہہ سکا اور نہ کرسکا۔ ابن کثیر لکھتے ہیں کہ ۳۵۲ ہجری میں ماہِ محرم کی دسویں تاریخ کو معزالدولہ دیلمی نے حکم دیا کہ بازار سارے بند رکھے جائیں، عورتیں ماتمی لباس پہن کر چہرے کھولے، بال بکھیرے اور منہ و رخسار پیٹتی ہوئی بغداد کے بازاروں میں ماتمِ حسینؓ کرتی پھریں۔ روافض نے اس حکم کی بخوشی تعمیل کی ۔ تاہم پہلے سال تو کوئی فساد برپا نہ ہوا لیکن اگلے سال اہلسنت یہ بدعات و خرفات برداشت نہ کرسکے اور ۳۵۳ ہجری میں ماہِ محرم میں جب دوبار ان بدعات کا اعادہ کیا گیا تو شیعہ سنی فساد برپا ہوگیا اور کثیر تعداد میں فریقین مارے گئے۔ معزالدولہ نے صرف اسی پر بس نہ کیا بلکہ اگلے سال "عیدِ غدیر" جیسی بدعی عید منانے کا بھی اجراء کیا جس کے لئے اس کے حکم سے شہر کے بازار آراستہ کئے گئے اور چراغاں اور آتش بازی کا اہتمام کروایا گیا۔ عیدِ غدیر منانے کے لئے ۱۸ ذی الحجہ کی تاریخ کو منتخب کیا گیا جس کے پسِ پردہ اصل میں تو سیدنا عثمان ؓ کی شہادت کی خوشی منانا تھا لیکن پیشِ منظر میں اس کو سیدنا علیؓ سے متعلق وصیتِ رسول اللہ ﷺ سے جوڑا گیا کہ حجۃ الوداع کے موقع پر مدینہ واپسی پر ایک برساتی نالے خم پر آپﷺ نے سیدنا علیؓ کا ہاتھ اٹھا کر نہ صرف ان کو "مولا" کے لقب سے نوازا بلکہ اپنے بعد ان کی جانشینی کی وصیت بھی کرگئے۔ ۔ان ہی دیلمی حکمرانوں نے نہ صرف اپنے دورِ وزارت میں تعزیہ داری اور عیدِ غدیر کی بدعات کا اجراء کروایا بلکہ انہیں کے زمانے میں پہلی دفعہ روافض و شیعہ ایک الگ فرقے کے طور پر منظم ہوکر سامنے آئے اور انہوں نے اپنی کتب و مصادر الگ سے مدون کرنا شروع کردئیے۔ اسی زمانے میں شیعوں کی حدیث کی معتبر ترین کتاب "الکافی" کی تدوین ہوئی جس کے فقہی مباحث کے حصہ کو الگ سے "اصول کافی" کے نام سے تدوین کیا گیا۔ ساتھ ساتھ صلوٰۃ، صوم، زکوٰۃ اور اذان کے احکامات میں بھی اہلسنت سے ممیز ہونے کے لئے تبدیلیاں کی گئیں جیسا کہ افطار میں تاخیر کرنا اور اذان میں حی علی خیر العمل وغیرہ کا اضافہ کرنا۔ اس کے ساتھ ساتھ توّلا و تبّرا کی خرافات بھی ایجاد کی گئیں جن کے تحت اہلبیت سے محبت کے اعلان کو توّلا کا نام دیا گیا اور اصحابِ کرامؓ کو دشمنانِ اہلبیت قرار دیکر ان سے بیزاری کو تبّرا سے موسوم کیا گیا۔بغداد کی مساجد کے دروازوں پر خلفائے ثلاثہ، سیدنا معاویہؓ، سیدنا مروان اور سیدہ عائشہؓ پر لعنت لکھوائی گئی ۔ اس رسمِ بد کے اجراء سے ایک دفعہ پھر بغداد میں شیعہ سنی فسادات پھوٹ پڑے جس کی وجہ سے وقتی طور پر ان رسومات پر پابندی عائد کی گئی۔ تاہم معزالدولہ کے بھتیجے عضدالدولہ نے جب یہ دیکھا کہ لوگ ان بدعات کو بھولنے لگے ہیں تو ان کو مستقل بنیادوں پر رواج دینے کی غرض سے اس نے اپنے دورِ وزارت میں عراق میں دو متبرک مقامات "دریافت" کرلئے۔ سیدنا علیؓ کی وفات کے تقریباً سوا تین سو برس بعد ۳۶۹ ہجری میں عراق میں نجف کے علاقے میں ان کی قبر دریافت کرکے اسکو "مشہد علیؓ " کا نام دیا گیا جبکہ سیدنا علیؓ کی قبر عرصۂ دراز سے نامعلوم تھی ۔ اس کے ساتھ ہی حادثہ کربلا کے تین سو دس برس کے بعد ۳۷۰ ہجری میں سیدنا حسینؓ کی قبر کو از سرِ نو دریافت کرکے اسکو "مشہدِ حسینؓ" کے نام سے موسوم کیا گیا جبکہ حقیقت یہ ہے کربلا میں جس مقام پر سیدناحسینؓ کی قبر بتائی جاتی تھی اس کی بابت ابن کثیر دمشقی البدایہ و النہایہ جلد ۸ صفحہ ۲۰۳ میں لکھتے ہیں کہ اُس مقام کے آثار جہاں سیدنا حسین ؓ کا مقتول ہونا بتایا جاتا ہے اس درجہ مٹ چکے تھے کہ کوئی شخص بھی صحیح طور سے وہ جگہ متعین نہیں کرسکتا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ امام بخاری کے استاد ابو نعیم فضل بن دکین جن کے تشیع کی بابت محدثین نے تصریح کی ہے اس شخص کے قول کو نہیں مانتے تھے جو قبرِ حسینؓ کے جاننے پہنچاننے کا دعویٰ کرےکیونکہ روافض و جاھل عوام الناس نے یہاں جمع ہوکر مشرکانہ افعال انجام دینا شروع کردئیے تھے۔ اسی بناء پر بقول ابن جریر طبری خلیفہ المتوکل علی اللہ عباسیؒ ، جن کی بابت علامہ ابن کثیر دمشقی لکھتے ہیں کہ وہ نہایت متبع سنت اور امام احمد بن حنبل کے معتقد تھے نے ۲۳۶ ہجری میں حکم دیا کہ قبرِ حسین بن علیؓ کو ڈھادیا جائے اور آس پاس زائرین کے لئے جو سرائے تعمیر کئے گئے ہیں ان کو مہندم کرکے پورے علاقے میں آبپاشی کی جائے اور لوگوں کو وہاں جانے سے منع کیا جائے۔ ساتھ ہی حکم دیا کہ اس مقام پر زراعت کا کام شروع کروادیا جائے (طبری جلد ۱۱ صفحہ ۴۴) ۔ لیکن دیلمیوں نے اپنے زمانےمیں برسرِ اقتدار آنے بعد تقریباً ۱۳۵ سال کے بعد ۳۷۰ ہجری یہاں "مشہدِ حسینؓ " تعمیر کروادیا جبکہ اس سے پیشتر اس علاقہ میں ۱۰۰ سال سے زیادہ عرصہ تک زراعت ہوتی رہی تھی اور اس وقت سے لیکر آج تک یہ علاقہ زائرین کے لئے مرجع کی جگہ بنا ہوا ہے۔ دیلمیوں و بنی بویہ کا سیاسی اقتدار تقریباً ایک صدی تک رہا یہاں تک کہ سلجوقی جو کہ مذہباً سنی المسلک تھے انہوں نے آکر انتظامِ سلطنت اپنے ہاتھ میں لیا اور امت کو ان بد بختوں سے نجات دلوائی۔ دیلمی اپنا سیاسی اقتدار تو کھو بیٹھے لیکن ان کے نظریاتی افکار امت میں افتراق کا بیج پوری طرح بوگئے۔ اپنے تقریباً ایک صدی پر مشتمل سیاسی اقتدار میں بنی بویہ اس امت کو ماتمِ حسینؓ، عیدِ غدیرِ، مشہدِ علیؓ و حسینؓ جیسی فرضی قبریں، شیعہ کتبِ احادیث کی تدوین ، تصنیفِ نہج البلاغۃ جس میں سیدنا علیؓ کے منہ سے خلفائے ثلاثہ اور اصحاب کرامؓ پر سب و شتم اور بدگوئی کی گئی ہے، نسب و قومیت کے تفاخر کے لئے لفظ "سید" کا استعمال، خطباتِ جمعہ میں نبی ﷺ کی بقیہ تین صاحبزادیوں اور نواسوں کو چھوڑ کر صرف سیدہ فاطمہؓ و حضراتِ حسنینؓ کا تذکرہ کرنا جیسی روایات دے کر رخصت ہوگئے جو کہ اب تک اس امت میں جاری و ساری ہیں۔
ماتمِ حسینؓ اور تعزیہ داری کی ابتداء اس امت میں کیونکر اور کب ہوئی، اس پر سب سے مفصل کلام علامہ ابن کثیر دمشقی نے اپنی کتاب "البدایہ و النہایہ" کی جلد ۱۱ میں کیا ہے۔
۳۳۴ ہجری میں جب ایرانی النسل دیلمی حکمران معزالدولہ بن بویہ کو بعہدِ خلافتِ عباسیہ خودمختار وزیر کی حیثیت سے بغداد میں منصب ملا تو حادثۂ کربلا کے تقریباً تین سو برس بعد ۳۵۲ ہجری میں اس نے ماتمِ حسینؓ اور تعزیہ داری کی بدعات کا اجراء کروایا۔ عباسی خلیفہ خود اس وقت اس قدر کمزور ہوچکا تھا کہ وہ اس بابت نہ کچھ کہہ سکا اور نہ کرسکا۔ ابن کثیر لکھتے ہیں کہ ۳۵۲ ہجری میں ماہِ محرم کی دسویں تاریخ کو معزالدولہ دیلمی نے حکم دیا کہ بازار سارے بند رکھے جائیں، عورتیں ماتمی لباس پہن کر چہرے کھولے، بال بکھیرے اور منہ و رخسار پیٹتی ہوئی بغداد کے بازاروں میں ماتمِ حسینؓ کرتی پھریں۔ روافض نے اس حکم کی بخوشی تعمیل کی ۔ تاہم پہلے سال تو کوئی فساد برپا نہ ہوا لیکن اگلے سال اہلسنت یہ بدعات و خرفات برداشت نہ کرسکے اور ۳۵۳ ہجری میں ماہِ محرم میں جب دوبار ان بدعات کا اعادہ کیا گیا تو شیعہ سنی فساد برپا ہوگیا اور کثیر تعداد میں فریقین مارے گئے۔
معزالدولہ نے صرف اسی پر بس نہ کیا بلکہ اگلے سال "عیدِ غدیر" جیسی بدعی عید منانے کا بھی اجراء کیا جس کے لئے اس کے حکم سے شہر کے بازار آراستہ کئے گئے اور چراغاں اور آتش بازی کا اہتمام کروایا گیا۔ عیدِ غدیر منانے کے لئے ۱۸ ذی الحجہ کی تاریخ کو منتخب کیا گیا جس کے پسِ پردہ اصل میں تو سیدنا عثمان ؓ کی شہادت کی خوشی منانا تھا لیکن پیشِ منظر میں اس کو سیدنا علیؓ سے متعلق وصیتِ رسول اللہ ﷺ سے جوڑا گیا کہ حجۃ الوداع کے موقع پر مدینہ واپسی پر ایک برساتی نالے خم پر آپﷺ نے سیدنا علیؓ کا ہاتھ اٹھا کر نہ صرف ان کو "مولا" کے لقب سے نوازا بلکہ اپنے بعد ان کی جانشینی کی وصیت بھی کرگئے۔
۔ان ہی دیلمی حکمرانوں نے نہ صرف اپنے دورِ وزارت میں تعزیہ داری اور عیدِ غدیر کی بدعات کا اجراء کروایا بلکہ انہیں کے زمانے میں پہلی دفعہ روافض و شیعہ ایک الگ فرقے کے طور پر منظم ہوکر سامنے آئے اور انہوں نے اپنی کتب و مصادر الگ سے مدون کرنا شروع کردئیے۔ اسی زمانے میں شیعوں کی حدیث کی معتبر ترین کتاب "الکافی" کی تدوین ہوئی جس کے فقہی مباحث کے حصہ کو الگ سے "اصول کافی" کے نام سے تدوین کیا گیا۔ ساتھ ساتھ صلوٰۃ، صوم، زکوٰۃ اور اذان کے احکامات میں بھی اہلسنت سے ممیز ہونے کے لئے تبدیلیاں کی گئیں جیسا کہ افطار میں تاخیر کرنا اور اذان میں حی علی خیر العمل وغیرہ کا اضافہ کرنا۔ اس کے ساتھ ساتھ توّلا و تبّرا کی خرافات بھی ایجاد کی گئیں جن کے تحت اہلبیت سے محبت کے اعلان کو توّلا کا نام دیا گیا اور اصحابِ کرامؓ کو دشمنانِ اہلبیت قرار دیکر ان سے بیزاری کو تبّرا سے موسوم کیا گیا۔بغداد کی مساجد کے دروازوں پر خلفائے ثلاثہ، سیدنا معاویہؓ، سیدنا مروان اور سیدہ عائشہؓ پر لعنت لکھوائی گئی ۔ اس رسمِ بد کے اجراء سے ایک دفعہ پھر بغداد میں شیعہ سنی فسادات پھوٹ پڑے جس کی وجہ سے وقتی طور پر ان رسومات پر پابندی عائد کی گئی۔
تاہم معزالدولہ کے بھتیجے عضدالدولہ نے جب یہ دیکھا کہ لوگ ان بدعات کو بھولنے لگے ہیں تو ان کو مستقل بنیادوں پر رواج دینے کی غرض سے اس نے اپنے دورِ وزارت میں عراق میں دو متبرک مقامات "دریافت" کرلئے۔ سیدنا علیؓ کی وفات کے تقریباً سوا تین سو برس بعد ۳۶۹ ہجری میں عراق میں نجف کے علاقے میں ان کی قبر دریافت کرکے اسکو "مشہد علیؓ " کا نام دیا گیا جبکہ سیدنا علیؓ کی قبر عرصۂ دراز سے نامعلوم تھی ۔ اس کے ساتھ ہی حادثہ کربلا کے تین سو دس برس کے بعد ۳۷۰ ہجری میں سیدنا حسینؓ کی قبر کو از سرِ نو دریافت کرکے اسکو "مشہدِ حسینؓ" کے نام سے موسوم کیا گیا جبکہ حقیقت یہ ہے کربلا میں جس مقام پر سیدناحسینؓ کی قبر بتائی جاتی تھی اس کی بابت ابن کثیر دمشقی البدایہ و النہایہ جلد ۸ صفحہ ۲۰۳ میں لکھتے ہیں کہ اُس مقام کے آثار جہاں سیدنا حسین ؓ کا مقتول ہونا بتایا جاتا ہے اس درجہ مٹ چکے تھے کہ کوئی شخص بھی صحیح طور سے وہ جگہ متعین نہیں کرسکتا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ امام بخاری کے استاد ابو نعیم فضل بن دکین جن کے تشیع کی بابت محدثین نے تصریح کی ہے اس شخص کے قول کو نہیں مانتے تھے جو قبرِ حسینؓ کے جاننے پہنچاننے کا دعویٰ کرےکیونکہ روافض و جاھل عوام الناس نے یہاں جمع ہوکر مشرکانہ افعال انجام دینا شروع کردئیے تھے۔
اسی بناء پر بقول ابن جریر طبری خلیفہ المتوکل علی اللہ عباسیؒ ، جن کی بابت علامہ ابن کثیر دمشقی لکھتے ہیں کہ وہ نہایت متبع سنت اور امام احمد بن حنبل کے معتقد تھے نے ۲۳۶ ہجری میں حکم دیا کہ قبرِ حسین بن علیؓ کو ڈھادیا جائے اور آس پاس زائرین کے لئے جو سرائے تعمیر کئے گئے ہیں ان کو مہندم کرکے پورے علاقے میں آبپاشی کی جائے اور لوگوں کو وہاں جانے سے منع کیا جائے۔ ساتھ ہی حکم دیا کہ اس مقام پر زراعت کا کام شروع کروادیا جائے (طبری جلد ۱۱ صفحہ ۴۴) ۔
لیکن دیلمیوں نے اپنے زمانےمیں برسرِ اقتدار آنے بعد تقریباً ۱۳۵ سال کے بعد ۳۷۰ ہجری یہاں "مشہدِ حسینؓ " تعمیر کروادیا جبکہ اس سے پیشتر اس علاقہ میں ۱۰۰ سال سے زیادہ عرصہ تک زراعت ہوتی رہی تھی اور اس وقت سے لیکر آج تک یہ علاقہ زائرین کے لئے مرجع کی جگہ بنا ہوا ہے۔
دیلمیوں و بنی بویہ کا سیاسی اقتدار تقریباً ایک صدی تک رہا یہاں تک کہ سلجوقی جو کہ مذہباً سنی المسلک تھے انہوں نے آکر انتظامِ سلطنت اپنے ہاتھ میں لیا اور امت کو ان بد بختوں سے نجات دلوائی۔ دیلمی اپنا سیاسی اقتدار تو کھو بیٹھے لیکن ان کے نظریاتی افکار امت میں افتراق کا بیج پوری طرح بوگئے۔ اپنے تقریباً ایک صدی پر مشتمل سیاسی اقتدار میں بنی بویہ اس امت کو ماتمِ حسینؓ، عیدِ غدیرِ، مشہدِ علیؓ و حسینؓ جیسی فرضی قبریں، شیعہ کتبِ احادیث کی تدوین ، تصنیفِ نہج البلاغۃ جس میں سیدنا علیؓ کے منہ سے خلفائے ثلاثہ اور اصحاب کرامؓ پر سب و شتم اور بدگوئی کی گئی ہے، نسب و قومیت کے تفاخر کے لئے لفظ "سید" کا استعمال، خطباتِ جمعہ میں نبی ﷺ کی بقیہ تین صاحبزادیوں اور نواسوں کو چھوڑ کر صرف سیدہ فاطمہؓ و حضراتِ حسنینؓ کا تذکرہ کرنا جیسی روایات دے کر رخصت ہوگئے جو کہ اب تک اس امت میں جاری و ساری ہیں۔
واقعہ کربلا میں ایک پرسرار کردار نظر آتا ہے جسے راوی لکھا اور بولا جاتا ہے💎 🌳سیدنا محمد رسول اللہ کی وفات 632ء (11 ھ) کو ہوئی۔ واقعہ کربلا 680 ء(61 ھ) کو وقوع پزیر ہوا یعنی سیدنا محمد رسول اللہ کی وفات کے تقریبا" 50 سال بعد ۔ سیدنا زین العابدین(659ء – 713 ء) (38ھ-95ھ)جو کہ سیدناحسین کے بیٹے اور ابو مخنف کے مطابق کربلا کے عینی شاہد وںمیں سے ہیں ،ان سے منسوب متعدد کتب ہیں اور ان میں سے کسی بھی کتاب میں کربلا کے متعلق کوئی واقعہ یا قصہ درج نہیں۔ 👈امام ابو حنیفہ(699ء -767ء)(80ھ-150ھ) نے واقعہ کربلا پر کچھ ارشاد نہیں فرمایا۔ اس واقعہ میں بہت سے فقہی پہلو بھی ہیں مثلا نماز خوف یا جابر حکمران کے خلاف کب جہاد فرض ہو جاتا ہے اور بہت سے چھوٹے بڑے مسائل ہیں۔ 👈امام مالک ( 93ھ - 179 ھ) کی مرتب شدہ ، سلسلہ تدوین حدیث کی اولین کتاب "موطا امام مالک" میں واقعہ کربلا سے مطلق کوئی روایت موجودنہیں ہے۔ 👈سنی کتب کے علاوہ اگرشیعہ کی کتابوں کودیکھا جائے ، تو مسند امام زید ابن علی جو کے سیدنا حسین کے پوتے ہیں ، کی کتاب نظر آتی ہے۔ مگر اس میں بھی اس واقعہ کربلا سے مطلق کوئی روایت یا فقہی بحث موجود نہیں ۔جبکہ اس کتاب میں جنگ نهروان (جو کہ سیدناعلی اور خوارج کے درمیان ہوئی) کا ذکر اور نماز خوف میں اس پر بحث کی گئی ہے. 👈69 ہجری میں(یعنی واقعہ کربلا سے تقریبا"8 سال بعد) مختار سقفی نے" توابون" کے نام سے ایک تحریک شروع کی ، وہ بھی سیدنا حسین کی مبینہ شہادت کو لے کر شروع کی۔ تاہم اس کہانی کو موصل (عراق)کے قریب نینوا کے ارد گرد بنایا گیا اور 🚨 سیدنا حسین کو شہید نینوا کے طور پر مشہور کیا گیا. شہید نینوا کی کہانی کیونکہ صرف سیدنا حسین کی ذاتی شہادت سے متعلق تھی اور اس میں عورتوں اور بچوں کا ذکر نہیں تھا ، لہذا یہ کہانی عوامی پذیرائی اور جذباتیت کا وہ سیلاب پیدا کرنے میں ناکام رہی جس مقصد کے لئے اسے گھڑا گیا تھا۔ 👈170 ہجری کو(یعنی واقعہ کربلا سے 110 سال یعنی دو نسلوں بعد) ابو مخنف (لوط بن یحییٰ)نے ایک کتاب " مقتل حسین " کے نام سے لکھی، جوکہ واقعہ کربلا پر پہلی کتاب سمجھی جاتی ہے۔ اس کتاب میں ابو مخنف نے اسی کہانی میں عورتوں اور بچوں کے کردار داخل کئے تاکہ جذباتیت اور فتنہ گری پیدا کی جاسکے۔ اور کہانی کا مرکز موصل نینوا (عراق) سے منتقل کر کےکربلا (جس کا اصل نام کربغا تھا) کی طرف کر دیا۔ تاہم شہید نینوا سے وہ بھی جان نہ چھڑا سکا اور کربلا کا ہی دوسرا نام نینوا رکھ دیا، جبکہ نینوا اور کربلا کے درمیان ٦٠٠ کلومیٹر سے بھی زیادہ کا فاصلہ ہے۔ 📌 تقریبا" نصف صدی بعد جب مورخ طبری(224 ھ- 310 ھ) نے ابو مخنف کی کتاب کو جب اپنی"تاریخ طبری "کا حصہ بنا دیا . تبھی ابو مخنف کے اس افسانے کو شہرت ملی۔ ( منقول )
💎واقعہ کربلا میں ایک پرسرار کردار نظر آتا ہے جسے راوی لکھا اور بولا جاتا ہے💎
🌳سیدنا محمد رسول اللہ کی وفات 632ء (11 ھ) کو ہوئی۔
واقعہ کربلا 680 ء(61 ھ) کو وقوع پزیر ہوا یعنی سیدنا محمد رسول اللہ کی وفات کے تقریبا" 50 سال بعد ۔
سیدنا زین العابدین(659ء – 713 ء) (38ھ-95ھ)جو کہ سیدناحسین کے بیٹے اور ابو مخنف کے مطابق کربلا کے عینی شاہد وںمیں سے ہیں ،ان سے منسوب متعدد کتب ہیں اور ان میں سے کسی بھی کتاب میں کربلا کے متعلق کوئی واقعہ یا قصہ درج نہیں۔
👈امام ابو حنیفہ(699ء -767ء)(80ھ-150ھ) نے واقعہ کربلا پر کچھ ارشاد نہیں فرمایا۔ اس واقعہ میں بہت سے فقہی پہلو بھی ہیں مثلا نماز خوف یا جابر حکمران کے خلاف کب جہاد فرض ہو جاتا ہے اور بہت سے چھوٹے بڑے مسائل ہیں۔
👈امام مالک ( 93ھ - 179 ھ) کی مرتب شدہ ، سلسلہ تدوین حدیث کی اولین کتاب "موطا امام مالک" میں واقعہ کربلا سے مطلق کوئی روایت موجودنہیں ہے۔
👈سنی کتب کے علاوہ اگرشیعہ کی کتابوں کودیکھا جائے ، تو مسند امام زید ابن علی جو کے سیدنا حسین کے پوتے ہیں ، کی کتاب نظر آتی ہے۔ مگر اس میں بھی اس واقعہ کربلا سے مطلق کوئی روایت یا فقہی بحث موجود نہیں ۔جبکہ اس کتاب میں جنگ نهروان (جو کہ سیدناعلی اور خوارج کے درمیان ہوئی) کا ذکر اور نماز خوف میں اس پر بحث کی گئی ہے.
👈69 ہجری میں(یعنی واقعہ کربلا سے تقریبا"8 سال بعد) مختار سقفی نے" توابون" کے نام سے ایک تحریک شروع کی ،
وہ بھی سیدنا حسین کی مبینہ شہادت کو لے کر شروع کی۔ تاہم اس کہانی کو موصل (عراق)کے قریب نینوا کے ارد گرد بنایا گیا اور
🚨 سیدنا حسین کو شہید نینوا کے طور پر مشہور کیا گیا. شہید نینوا کی کہانی کیونکہ صرف سیدنا حسین کی ذاتی شہادت سے متعلق تھی اور اس میں عورتوں اور بچوں کا ذکر نہیں تھا ، لہذا یہ کہانی عوامی پذیرائی اور جذباتیت کا وہ سیلاب پیدا کرنے میں ناکام رہی جس مقصد کے لئے اسے گھڑا گیا تھا۔
👈170 ہجری کو(یعنی واقعہ کربلا سے 110 سال یعنی دو نسلوں بعد) ابو مخنف (لوط بن یحییٰ)نے ایک کتاب " مقتل حسین " کے نام سے لکھی، جوکہ واقعہ کربلا پر پہلی کتاب سمجھی جاتی ہے۔ اس کتاب میں ابو مخنف نے اسی کہانی میں عورتوں اور بچوں کے کردار داخل کئے تاکہ جذباتیت اور فتنہ گری پیدا کی جاسکے۔ اور کہانی کا مرکز موصل نینوا (عراق) سے منتقل کر کےکربلا (جس کا اصل نام کربغا تھا) کی طرف کر دیا۔ تاہم شہید نینوا سے وہ بھی جان نہ چھڑا سکا اور کربلا کا ہی دوسرا نام نینوا رکھ دیا، جبکہ نینوا اور کربلا کے درمیان ٦٠٠ کلومیٹر سے بھی زیادہ کا فاصلہ ہے۔
📌 تقریبا" نصف صدی بعد جب مورخ طبری(224 ھ- 310 ھ) نے ابو مخنف کی کتاب کو جب اپنی"تاریخ طبری "کا حصہ بنا دیا . تبھی ابو مخنف کے اس افسانے کو شہرت ملی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ( منقول )
مِزاحیہ خاکہ ۔ شگفتہ تحریر " ہم نے چوہا مارا " غلام محمد وامِق = شیر کا شکار کرنا اتنا مشکل نہیں ہے جتنا چوہے کا شکار کرنا، کسی چوہے کو مارنا جُوئے شیر لانے سے کم نہیں ہے ۔ شیر کو مارنا بہت آسان ہے، بندوق اٹھائی جنگل میں گئے سامنے شیر آیا اب شیر آپ کو دیکھ کر کونوں کھدروں میں نہیں چھُپے گا احمقوں کی طرح سیدھا آپ کی طرف آئے گا اور شیر کا جُثّہ بھی کوئی اتنا چھوٹا نہیں ہوتا کہ آپ کے پاؤں کے درمیان سے نکل بھاگے اور نا ہی وہ کونوں کھدروں میں چھُپ سکتا ہے، چنانچہ سامنے ایک لحیم شحیم شیر آیا آور آپ نے بندوق سے گولی چلا دی اور شیر ڈھیر ہو گیا اب آپ اس کے پاس کھڑے ہو کر بڑے شوق سے اپنی تصاویر بنوا سکتے ہیں ۔ مگر جناب چوہے کے ساتھ آپ یہ سب نہیں کر سکتے، یہ ہی وجہ ہے کہ چوہے کو مارنا ( زہر سے نہیں اپنے زورِ بازو سے ) مشکل ہی نہیں ناممکن بھی ہے اور یہ ناممکن کام ہم نے کر دکھایا اب یہ الگ بات ہے کہ اس مرے ہوئے چوہے کے ساتھ تصویر بنوانا ہم نے اپنی شان کے خلاف سمجھا ۔ ہوا یوں ہم محوِ استراحت تھے کہ اچانک بیگم کے شور مچانے کی آواز ہماری سماعتوں سے ٹکرائی، چوہا ، چوہا ، چوہا ، لیکن ہم نے اسے معمولی شور سمجھ کر نظر انداز کر دیا مگر جب بیگم اور بچے ہمارے سر پر آ کر کھڑے ہو گئے کہ چوہا گھس گیا گھر میں چوہا گھس گیا اسے مارو اسے مارو تو بحالتِ مجبوری ہمیں چوہا مار مہم شروع کرنی پڑی ۔ گھر کے تمام کمروں کے دروازے مضبوطی کے ساتھ بند کر دیے گئے رسوئی ( کچن ) کو بھی بالخصوص بند کیا گیا، بیگم نے جھاڑو اٹھائی ہم نے بھی جھاڑو اٹھائی بچوں نے ڈنڈے اٹھائے یعنی جس کے ہاتھ جو بھی ہتھیار لگا وہ اٹھالیا گیا ۔ ہتھیاروں سے مکمل لیس ہوکر اب چوہے کو ڈھونڈنے کا عمل شروع کیا گیا بالآخر وہ ہمیں ایک کونے میں دبکا نظر آ ہی گیا ، ہم دبے پاؤں محتاط انداز سے ہاتھ میں جھاڑو اٹھائے اس کی طرف بڑھے مگر جناب چوہا بھی بڑا کائیاں نکلا آخر ڈجیٹل دور کا چوہا تھا کوئی مذاق نہیں تھا ۔ وہ فوراً ہماری ٹانگوں کے بیچ سے ہوتا ہوا دوسرے کونے میں جا چھپا ۔ مارا کیوں نہیں، مارا کیوں نہیں؟ بیگم نے شور مچایا، ہم جھنجھلا گئے تم نے کیوں نہیں مارا مجھے الزام دے رہی ہو، اب بیگم نے اور بچوں نے ہمیں پیچھے چھوڑا اور خود چوہے پر حملہ آور ہوئے چوہا زخمی ہو کر پھر ہماری جانب آیا مگر مجال ہے جو ہم اسے خود کو چھونے بھی دیں ہم نے فوراً چھلانگ لگائی اور اُو، اُو کرتے ہوئے پینترا بدل کر خود کو بچایا، بیگم پھر دھاڑیں مارا کیوں نہیں مارا کیوں نہیں؟ اب اسے کون سمجھائے کہ بھئی جنگ میں دفاع کرنا بھی تو ایک آرٹ ہوتا ہے اور پھر یہ کہ ہم ٹھہرے ازل سے حد درجہ رحم دل اور شفیق انسان بھلا کسی جاندار کی جان لینا ہمارے بس میں کہاں ؟ وہ تو ہم نے بیگم کے حکم پر ہتھیار اٹھا لیے تھے مگر ہتھیار اٹھانا اور اسے استعمال کرنا دو الگ الگ چیزیں ہیں ۔ اب دیکھیں ناں دنیا میں کتنے ہی ملکوں کے پاس ایٹمی ہتھیار موجود ہیں جنہیں وہ اپنی مرضی سے استعمال بھی نہیں کر سکتے، بالکل اسی طرح ہم نے بھی بیگم پر رعب ڈالنے کے لیے چوہار مار ہتھیار اٹھالیے تھے ۔ چنانچہ ہم بھی بیگم کو دکھانے اور چوہے کو ڈرانے کے لیے اپنے ہاتھ میں پکڑی ہوئی جھاڑو زور زور سے زمین پر مارتے تھے کہ ابھی چوہا یہاں سے گزرا ہے ۔ اس ہڑبونگ میں چوہا بھی بھاگ بھاگ کر نڈھال ہو چکا تھا اور ہم الگ تھکان سے چور تھے، چوہے کو اور ہمیں بچنے کا کوئی راستہ نظر نہیں آرہا تھا چوہا زخمی بھی ہو چکا تھا آخر کار بچوں نے اور بیگم نے اسے گھیر لیا پھر کیا تھا بیگم نے اس بے چارے پر جھاڑو کے وہ وار کیے وہ وار کیے کہ چوہے کو مرنے کے سوا کچھ نہیں سوجھی اس پر بچوں نے بھی بہت ہاتھ بٹایا تھا ، ہمیں ترس تو بہت آیا مگر " مرے کو مارے شاہ مدار " کے مصداق ہم نے بیگم کا دل رکھنے کے لیے مرے ہوئے چوہے پر دو چار جھاڑو مار ہی دئے ۔ اور یوں ہمارا یہ سنہری حروف میں لکھا جانے والا کارنامہ اپنے انجام کو پہنچا ۔ چوہے کی لاش کو ٹھکانے لگانے کا مرحلہ بھی ہمیں ہی انجام دینا پڑا وہ یوں کہ پہلے چوہے کو جھاڑو پر رکھوایا گیا پھر آنکھیں بند کرکے خراماں خراماں دروازے کی جانب بڑھے دروازہ ہمارے حکم پر کھولا گیا پھر ایک نعرہء مستانہ مار کر ہم نے چوہے کو باہر سڑک پر پھینک دیا ۔ پھر اس کا کیا حشر ہوا یہ سب دیکھنے کا ہم میں حوصلہ نہیں تھا ۔ تحریر - غلام محمد وامِق محراب پور سندھ مورخہ 23 جون 2026ء بروز منگل
مِزاحیہ خاکہ ۔ شگفتہ تحریر
" ہم نے چوہا مارا "
غلام محمد وامِق
شیر کا شکار کرنا اتنا مشکل نہیں ہے جتنا چوہے کا شکار کرنا، کسی چوہے کو مارنا جُوئے شیر لانے سے کم نہیں ہے ۔
شیر کو مارنا بہت آسان ہے، بندوق اٹھائی جنگل میں گئے سامنے شیر آیا اب شیر آپ کو دیکھ کر کونوں کھدروں میں نہیں چھُپے گا احمقوں کی طرح سیدھا آپ کی طرف آئے گا اور شیر کا جُثّہ بھی کوئی اتنا چھوٹا نہیں ہوتا کہ آپ کے پاؤں کے درمیان سے نکل بھاگے اور نا ہی وہ کونوں کھدروں میں چھُپ سکتا ہے، چنانچہ سامنے ایک لحیم شحیم شیر آیا آور آپ نے بندوق سے گولی چلا دی اور شیر ڈھیر ہو گیا اب آپ اس کے پاس کھڑے ہو کر بڑے شوق سے اپنی تصاویر بنوا سکتے ہیں ۔
مگر جناب چوہے کے ساتھ آپ یہ سب نہیں کر سکتے، یہ ہی وجہ ہے کہ چوہے کو مارنا ( زہر سے نہیں اپنے زورِ بازو سے ) مشکل ہی نہیں ناممکن بھی ہے اور یہ ناممکن کام ہم نے کر دکھایا اب یہ الگ بات ہے کہ اس مرے ہوئے چوہے کے ساتھ تصویر بنوانا ہم نے اپنی شان کے خلاف سمجھا ۔
ہوا یوں ہم محوِ استراحت تھے کہ اچانک بیگم کے شور مچانے کی آواز ہماری سماعتوں سے ٹکرائی، چوہا ، چوہا ، چوہا ، لیکن ہم نے اسے معمولی شور سمجھ کر نظر انداز کر دیا مگر جب بیگم اور بچے ہمارے سر پر آ کر کھڑے ہو گئے کہ چوہا گھس گیا گھر میں چوہا گھس گیا اسے مارو اسے مارو تو بحالتِ مجبوری ہمیں چوہا مار مہم شروع کرنی پڑی ۔
گھر کے تمام کمروں کے دروازے مضبوطی کے ساتھ بند کر دیے گئے رسوئی ( کچن ) کو بھی بالخصوص بند کیا گیا، بیگم نے جھاڑو اٹھائی ہم نے بھی جھاڑو اٹھائی بچوں نے ڈنڈے اٹھائے یعنی جس کے ہاتھ جو بھی ہتھیار لگا وہ اٹھالیا گیا ۔
ہتھیاروں سے مکمل لیس ہوکر اب چوہے کو ڈھونڈنے کا عمل شروع کیا گیا بالآخر وہ ہمیں ایک کونے میں دبکا نظر آ ہی گیا ، ہم دبے پاؤں محتاط انداز سے ہاتھ میں جھاڑو اٹھائے اس کی طرف بڑھے مگر جناب چوہا بھی بڑا کائیاں نکلا آخر ڈجیٹل دور کا چوہا تھا کوئی مذاق نہیں تھا ۔ وہ فوراً ہماری ٹانگوں کے بیچ سے ہوتا ہوا دوسرے کونے میں جا چھپا ۔ مارا کیوں نہیں، مارا کیوں نہیں؟ بیگم نے شور مچایا، ہم جھنجھلا گئے تم نے کیوں نہیں مارا مجھے الزام دے رہی ہو، اب بیگم نے اور بچوں نے ہمیں پیچھے چھوڑا اور خود چوہے پر حملہ آور ہوئے چوہا زخمی ہو کر پھر ہماری جانب آیا مگر مجال ہے جو ہم اسے خود کو چھونے بھی دیں ہم نے فوراً چھلانگ لگائی اور اُو، اُو کرتے ہوئے پینترا بدل کر خود کو بچایا، بیگم پھر دھاڑیں مارا کیوں نہیں مارا کیوں نہیں؟ اب اسے کون سمجھائے کہ بھئی جنگ میں دفاع کرنا بھی تو ایک آرٹ ہوتا ہے اور پھر یہ کہ ہم ٹھہرے ازل سے حد درجہ رحم دل اور شفیق انسان بھلا کسی جاندار کی جان لینا ہمارے بس میں کہاں ؟
وہ تو ہم نے بیگم کے حکم پر ہتھیار اٹھا لیے تھے مگر ہتھیار اٹھانا اور اسے استعمال کرنا دو الگ الگ چیزیں ہیں ۔
اب دیکھیں ناں دنیا میں کتنے ہی ملکوں کے پاس ایٹمی ہتھیار موجود ہیں جنہیں وہ اپنی مرضی سے استعمال بھی نہیں کر سکتے، بالکل اسی طرح ہم نے بھی بیگم پر رعب ڈالنے کے لیے چوہار مار ہتھیار اٹھالیے تھے ۔
چنانچہ ہم بھی بیگم کو دکھانے اور چوہے کو ڈرانے کے لیے اپنے ہاتھ میں پکڑی ہوئی جھاڑو زور زور سے زمین پر مارتے تھے کہ ابھی چوہا یہاں سے گزرا ہے ۔
اس ہڑبونگ میں چوہا بھی بھاگ بھاگ کر نڈھال ہو چکا تھا اور ہم الگ تھکان سے چور تھے، چوہے کو اور ہمیں بچنے کا کوئی راستہ نظر نہیں آرہا تھا چوہا زخمی بھی ہو چکا تھا آخر کار بچوں نے اور بیگم نے اسے گھیر لیا پھر کیا تھا بیگم نے اس بے چارے پر جھاڑو کے وہ وار کیے وہ وار کیے کہ چوہے کو مرنے کے سوا کچھ نہیں سوجھی اس پر بچوں نے بھی بہت ہاتھ بٹایا تھا ، ہمیں ترس تو بہت آیا مگر " مرے کو مارے شاہ مدار " کے مصداق ہم نے بیگم کا دل رکھنے کے لیے مرے ہوئے چوہے پر دو چار جھاڑو مار ہی دئے ۔
اور یوں ہمارا یہ سنہری حروف میں لکھا جانے والا کارنامہ اپنے انجام کو پہنچا ۔
چوہے کی لاش کو ٹھکانے لگانے کا مرحلہ بھی ہمیں ہی انجام دینا پڑا وہ یوں کہ پہلے چوہے کو جھاڑو پر رکھوایا گیا پھر آنکھیں بند کرکے خراماں خراماں دروازے کی جانب بڑھے دروازہ ہمارے حکم پر کھولا گیا پھر ایک نعرہء مستانہ مار کر ہم نے چوہے کو باہر سڑک پر پھینک دیا ۔ پھر اس کا کیا حشر ہوا یہ سب دیکھنے کا ہم میں حوصلہ نہیں تھا ۔
تحریر - غلام محمد وامِق محراب پور سندھ
مورخہ 23 جون 2026ء بروز منگل
حقیقت پر مبنی ایک شگفتہ تحریر ۔ اسٹیشن = کہتے ہیں جب گیدڑ کی شامت آتی ہے تو وہ شہر کا رخ کرتا ہے ، اور شہر بھی لاہور جس کے باشندوں کا دعویٰ ہے کہ جس نے لاہور نہیں دیکھا وہ ابھی پیدا ہی نہیں ہوا ( جنے لہور نئیں ویکھیا او جمیا ای نئیں ) بالفاظِ دیگر کسی کی پیدائش کا سرٹیفیکیٹ نادرا کا سرٹیفیکیٹ نہیں لاہور کی ٹکیٹ ہو گئی ۔ تو جناب ہم نے بھی راولپنڈی سے محراب پور واپسی کے لیے ریل کا ٹکیٹ لینے کے بجائے بذریعہ بس لاہور کا ٹکیٹ خرید لیا ، ان دنوں موٹر وے نام کی کسی چیز کا کوئی وجود نہیں تھا یہ غالباً سال 1995-96 کا زمانہ تھا ۔ نئی نئی ایئر کنڈیشنڈ بسیں چلی تھیں جن میں وی سی آر پر انڈین فلموں سے بھی مسافروں کو محظوظ کیا جاتا تھا، یہ ہی سب کچھ سوچ کر ہم نے براستہ لاہور محراب پور سندھ واپسی کا ارادہ کر لیا اور بس میں سوار ہو گئے میرا ایک ہمسفر بھی تھا جسے راستے میں لاہور سے پہلے کسی مقام پر اترنا تھا ، بس بہت آرام دہ تھی مزید لطف یہ کہ وی سی آر پر انڈین فلم " کرن ارجن" چلادی گئی تھی جو کہ ان دنوں نئی نئی ریلیز ہوئی تھی ۔ راستے میں میرا ہم سفر بھی لاہور سے کچھ مسافت پہلے اپنی منزل پر اتر گیا اور جاتے جاتے بس کنڈکٹر کو خاص تاکید کرتا گیا کہ وہ مجھے یاد کر کے اسٹیشن پر اتار دے ( یعنی لاہور اسٹیشن پر) وی سی آر پر اب کوئی دوسری مووی چلا دی گئی تھی لہٰذا وقت گزرنے کا احساس تک نہ ہوا کہ اچانک کنڈکٹر کی آواز نے چونکا دیا کہ باؤ جی اترو اسٹیشن آگیا میں نے باہر کی طرف دیکھا شام ہو چلی تھی مگر مجھے لاہور اسٹیشن کے آثار کہیں نظر نہیں آئے تو پوچھا کہ ادھر تو کوئی اسٹیشن نظر نہیں آ رہا ؟ تو کنڈکٹر نے کہا کہ جناب آپ اتریں تو سہی تھوڑا سا آگے چلو گے تو اسٹیشن بھی نظر آجائے گا ، میں بڑا پریشان کہ یا الٰہی یہ ماجرا کیا ہے ، لاہور اسٹیشن کوئی ماچس کی ڈبیہ تو نہیں کہ آگے چل کر نظر آجائے گا ۔ خیر میں نے اپنا مختصر سا بیگ اٹھایا اور حیران پریشان نظروں سے باہر دیکھتے ہوئے بس سے اتر گیا تو بس فوراً چل دی ۔ وہاں پر موجود لوگوں سے دریافت کیا کہ بھائی جی اسٹیشن کدھر ہے ؟ تو ایک نیم پختہ سی سڑک کی طرف اشارہ کر کے بتایا کہ اس پر چلتے جائیں یہ سیدھا اسٹیشن جائے گی ۔ بات سمجھ سے باہر ہوتی جا رہی تھی کہ لاہور اسٹیشن ہے یا کسی گاؤں کا بس اڈہ ہے ؟ بہرحال مرتا کیا نہ کرتا سڑک پر چل پڑا وہ سڑک ویران و سنسان تھی دونوں طرف جھاڑیاں تھیں جس کے باعث خوف کی سرد سی لہر پورے جسم میں پھیلتی جا رہی تھی ۔ دس پندرہ منٹ پیدل چلنے کے بعد ریلوے لائن کے آثار نظر آئے ، تھوڑا آگے چلا تو ایک اسٹیشن بھی نظر آگیا ، اسٹیشن کا نام پڑھا تو لکھا تھا " شاہدرہ " وہاں سے فوراً پسپائی اختیار کی اندھیرا پھیلتا جا رہا تھا ، واپس بس اسٹاپ پر آکر وہاں پر موجود لوگوں سے اپنی پریشانی بیان کی تو انہوں نے بتایا کہ جناب لاہور تو ابھی بہت آگے ہے یہ اسٹاپ تو شاہدرہ اسٹیشن کا ہے ۔ اور اس اسٹاپ کو اسٹیشن کے نام سے ہی پکارا جاتا ہے ۔ اب نہیں معلوم اس سارے مسئلے میں قصوروار کون تھا مگر میں اب درمیان میں پھنس چکا تھا وہاں سے کوئی بھی بس مُجھے لاہور تک پہنچانے کے لیے آمادہ نہیں تھی ، اب یاد نہیں کہ کس ذریعے سے میں لاہور اسٹیشن تک پہنچا لیکن پہنچ گیا ۔ میرا لاہور میں کوئی ٹھکانہ بھی نہیں تھا اور نہ ہی کوئی جاننے والا تھا لہٰذا مجھے اسی رات واپس آنا تھا ۔ چنانچہ جب اسٹیشن پر ٹکیٹ لینے کے لیے آیا تو دیکھا کہ سامنے دوسرے پلیٹ سے گاڑی روانہ ہو رہی ہے اس کے بعد رات بھر کوئی دوسری گاڑی بھی نہیں تھی، اب ٹکیٹ خریدنے کا اور پل کے ذریعے دوسرے پلیٹ فارم تک پہنچنے کا وقت بھی نہیں تھا چنانچہ بھاگ کر لائنوں کے درمیان لکڑی کی بنی ہوئی حدبندی ( ریلنگ) پر چڑھ گیا اور جیسے ہی ٹرین کے سیکنڈ کلاس کے ڈبے کا دروازہ میرے سامنے آیا فوراً ہی اللّٰہ کا نام لے کر چھلانگ لگا دی اور دھڑام سے جس چیز پر میں جا کر پڑا وہ نیچے سوئی ہوئی اللّٰہ کی غریب عوام تھی ۔ وہ اچانک آنے والی اس ناگہانی آفت سے ہڑ بڑا کر اٹھے اور پھر پنجابی زبان میں جس قدر وہ احتجاج کر سکتے تھے کیا ۔ میں خاموشی سے سنتا رہا کہ ہمارے ملک میں غریب عوام فقط احتجاج ہی تو کر سکتی ہے اس کے علاوہ اور کچھ نہیں ۔ میں نے بہت ساری معزرتیں ( یہ معزرت کی نئی ترکیب میں نے ابھی ایجاد کی ہے) کیں تو وہ غریب عوام ٹھنڈے ہوئے ۔ بہرحال جیسے تیسے خانیوال اسٹیشن آیا تو میں نے وہاں سے محراب پور کے لئے ٹکیٹ خریدی اور خیر سے بدھو گھر کو آئے ۔۔۔ واقعی سچ کہا جاتا ہے کہ " لہور لہور اے " ۔۔۔ تحریر - غلام محمد وامِق محراب پور سندھ ۔۔۔ تاریخ 26جولائی 2025ء بروز ہفتہ ۔۔۔۔۔۔
حقیقت پر مبنی ایک شگفتہ تحریر ۔
اسٹیشن
کہتے ہیں جب گیدڑ کی شامت آتی ہے تو وہ شہر کا رخ کرتا ہے ، اور شہر بھی لاہور جس کے باشندوں کا دعویٰ ہے کہ جس نے لاہور نہیں دیکھا وہ ابھی پیدا ہی نہیں ہوا ( جنے لہور نئیں ویکھیا او جمیا ای نئیں ) بالفاظِ دیگر کسی کی پیدائش کا سرٹیفیکیٹ نادرا کا سرٹیفیکیٹ نہیں لاہور کی ٹکیٹ ہو گئی ۔ تو جناب ہم نے بھی راولپنڈی سے محراب پور واپسی کے لیے ریل کا ٹکیٹ لینے کے بجائے بذریعہ بس لاہور کا ٹکیٹ خرید لیا ، ان دنوں موٹر وے نام کی کسی چیز کا کوئی وجود نہیں تھا یہ غالباً سال 1995-96 کا زمانہ تھا ۔ نئی نئی ایئر کنڈیشنڈ بسیں چلی تھیں جن میں وی سی آر پر انڈین فلموں سے بھی مسافروں کو محظوظ کیا جاتا تھا، یہ ہی سب کچھ سوچ کر ہم نے براستہ لاہور محراب پور سندھ واپسی کا ارادہ کر لیا اور بس میں سوار ہو گئے میرا ایک ہمسفر بھی تھا جسے راستے میں لاہور سے پہلے کسی مقام پر اترنا تھا ، بس بہت آرام دہ تھی مزید لطف یہ کہ وی سی آر پر انڈین فلم " کرن ارجن" چلادی گئی تھی جو کہ ان دنوں نئی نئی ریلیز ہوئی تھی ۔ راستے میں میرا ہم سفر بھی لاہور سے کچھ مسافت پہلے اپنی منزل پر اتر گیا اور جاتے جاتے بس کنڈکٹر کو خاص تاکید کرتا گیا کہ وہ مجھے یاد کر کے اسٹیشن پر اتار دے ( یعنی لاہور اسٹیشن پر) وی سی آر پر اب کوئی دوسری مووی چلا دی گئی تھی لہٰذا وقت گزرنے کا احساس تک نہ ہوا کہ اچانک کنڈکٹر کی آواز نے چونکا دیا کہ باؤ جی اترو اسٹیشن آگیا میں نے باہر کی طرف دیکھا شام ہو چلی تھی مگر مجھے لاہور اسٹیشن کے آثار کہیں نظر نہیں آئے تو پوچھا کہ ادھر تو کوئی اسٹیشن نظر نہیں آ رہا ؟ تو کنڈکٹر نے کہا کہ جناب آپ اتریں تو سہی تھوڑا سا آگے چلو گے تو اسٹیشن بھی نظر آجائے گا ، میں بڑا پریشان کہ یا الٰہی یہ ماجرا کیا ہے ، لاہور اسٹیشن کوئی ماچس کی ڈبیہ تو نہیں کہ آگے چل کر نظر آجائے گا ۔ خیر میں نے اپنا مختصر سا بیگ اٹھایا اور حیران پریشان نظروں سے باہر دیکھتے ہوئے بس سے اتر گیا تو بس فوراً چل دی ۔ وہاں پر موجود لوگوں سے دریافت کیا کہ بھائی جی اسٹیشن کدھر ہے ؟ تو ایک نیم پختہ سی سڑک کی طرف اشارہ کر کے بتایا کہ اس پر چلتے جائیں یہ سیدھا اسٹیشن جائے گی ۔ بات سمجھ سے باہر ہوتی جا رہی تھی کہ لاہور اسٹیشن ہے یا کسی گاؤں کا بس اڈہ ہے ؟ بہرحال مرتا کیا نہ کرتا سڑک پر چل پڑا وہ سڑک ویران و سنسان تھی دونوں طرف جھاڑیاں تھیں جس کے باعث خوف کی سرد سی لہر پورے جسم میں پھیلتی جا رہی تھی ۔ دس پندرہ منٹ پیدل چلنے کے بعد ریلوے لائن کے آثار نظر آئے ، تھوڑا آگے چلا تو ایک اسٹیشن بھی نظر آگیا ، اسٹیشن کا نام پڑھا تو لکھا تھا " شاہدرہ " وہاں سے فوراً پسپائی اختیار کی اندھیرا پھیلتا جا رہا تھا ، واپس بس اسٹاپ پر آکر وہاں پر موجود لوگوں سے اپنی پریشانی بیان کی تو انہوں نے بتایا کہ جناب لاہور تو ابھی بہت آگے ہے یہ اسٹاپ تو شاہدرہ اسٹیشن کا ہے ۔ اور اس اسٹاپ کو اسٹیشن کے نام سے ہی پکارا جاتا ہے ۔ اب نہیں معلوم اس سارے مسئلے میں قصوروار کون تھا مگر میں اب درمیان میں پھنس چکا تھا وہاں سے کوئی بھی بس مُجھے لاہور تک پہنچانے کے لیے آمادہ نہیں تھی ، اب یاد نہیں کہ کس ذریعے سے میں لاہور اسٹیشن تک پہنچا لیکن پہنچ گیا ۔ میرا لاہور میں کوئی ٹھکانہ بھی نہیں تھا اور نہ ہی کوئی جاننے والا تھا لہٰذا مجھے اسی رات واپس آنا تھا ۔ چنانچہ جب اسٹیشن پر ٹکیٹ لینے کے لیے آیا تو دیکھا کہ سامنے دوسرے پلیٹ سے گاڑی روانہ ہو رہی ہے اس کے بعد رات بھر کوئی دوسری گاڑی بھی نہیں تھی، اب ٹکیٹ خریدنے کا اور پل کے ذریعے دوسرے پلیٹ فارم تک پہنچنے کا وقت بھی نہیں تھا چنانچہ بھاگ کر لائنوں کے درمیان لکڑی کی بنی ہوئی حدبندی ( ریلنگ) پر چڑھ گیا اور جیسے ہی ٹرین کے سیکنڈ کلاس کے ڈبے کا دروازہ میرے سامنے آیا فوراً ہی اللّٰہ کا نام لے کر چھلانگ لگا دی اور دھڑام سے جس چیز پر میں جا کر پڑا وہ نیچے سوئی ہوئی اللّٰہ کی غریب عوام تھی ۔ وہ اچانک آنے والی اس ناگہانی آفت سے ہڑ بڑا کر اٹھے اور پھر پنجابی زبان میں جس قدر وہ احتجاج کر سکتے تھے کیا ۔ میں خاموشی سے سنتا رہا کہ ہمارے ملک میں غریب عوام فقط احتجاج ہی تو کر سکتی ہے اس کے علاوہ اور کچھ نہیں ۔ میں نے بہت ساری معزرتیں ( یہ معزرت کی نئی ترکیب میں نے ابھی ایجاد کی ہے) کیں تو وہ غریب عوام ٹھنڈے ہوئے ۔ بہرحال جیسے تیسے خانیوال اسٹیشن آیا تو میں نے وہاں سے محراب پور کے لئے ٹکیٹ خریدی اور خیر سے بدھو گھر کو آئے ۔۔۔ واقعی سچ کہا جاتا ہے کہ " لہور لہور اے " ۔۔۔
تحریر - غلام محمد وامِق محراب پور سندھ ۔۔۔
تاریخ 26جولائی 2025ء بروز ہفتہ ۔۔۔۔۔۔
یزیدی کون ہیں؟ حقیقت جانیے ۔( منقول ، انتخاب و ترسیل - غلام محمد وامِق)
یزیدی کون؟ ---- دلیل کے ساتھ اختلاف کریں گے
خطاب :سید عطاء المحسن شاہ بخاری بن سید عطاء اللہ شاہ بخاری
سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے حادثہ شہادت کے ضمن میں ہمارے موقف کے متعلق یہ مشہور کیا جاتا ہے کہ یہ تو یزیدی ہیں حتی کہ پاکستان کے ایک بڑے گرانڈیل مولوی نے ہمیں یزیدی لکھ بھی دیا۔۔۔۔ کسی کے لکھنے سے کیا ہوتا ہے؟ بھائی! یزیدی تو دراصل وہ ہے جس نے یزید کی بیعت کی۔ اور بیعت کی سیدنا حسینؓ کے بھائی (محمد بن علی المعروف محمد بن حنفیہ) نے۔ یہ حوالہ مضبوط سند کے ساتھ تاریخ میں موجود ہے اور اس مولوی کو عمداً نظر نہیں آتا جو ہمیں بہ طور گالی یزیدی کہتا جاتا ہے۔
عہد یزید کے جن معروف صحابہؓ نے بغیر جبر و اکراہ یزید کی بیعت کی، ان میں جناب سیدنا عبداللہ ابن عمرؓ، جناب سیدنا عبداللہ بن عباسؓ اور سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہم شامل ہیں۔ یزیدی یہ ہوئے کہ میں؟ ہم نے نہ تو یزید کی بیعت کی، نہ اس کا زمانہ پایا، نہ اس کے اعمال دیکھے، نہ اس کے احوال دیکھے، ہم نے تو تاریخ لکھی ہوئی ایک بات سنائی۔ اور جاہل مولویوں کے منہ کھل گئے کہ صاحب یہ یزیدی ہے۔ یہ یزیدی ہے۔ اب ہمیں بتاؤ کہ یزید کی بیعت ہم نے کی کہ عبداللہ ابن عمرؓ نے؟ عبداللہ بن عباسؓ نے ؟ سیدنا حسینؓ کے بھائیوں نے؟ حضرت عقیل ؓ کے بیٹوں نے؟ حضرت جعفر طیارؓ کے بیٹے نے؟ سیدنا حسینؓ کے بہنوئی نے؟ ہمارا کیا قصور ہے؟ یہ بتانا جرم ہے تو یہ جرم ہم کرتے رہیں گے۔ اور نہ ہی ایسا جرم ہے کہ اس کے بتانے سے ہم رک جائیں۔ رک نہیں سکتے۔ یہ قافلہ بڑھے گا۔ بہت دور تک جائے گا۔ اور یہ تمہارا دام تزویر اور یہ لکھنؤ، ملتان کے بدمعاشوں کی بدمعاشیاں ہم ختم کرکے دم لیں گے۔ ان شاء اللہ!
ہمارے بزرگوں نے ہمیں اسی راستے پر چلایا ہے۔ صحیح راستے پر چلایا ہے۔ استقامت عطاء فرمائی ہے۔ تمہارے جبر و تشدد کا ہمیں کوئی ڈر ہے نہ تمہارے پیسوں کا کوئی لالچ ہے۔ ہمارا کوئی تعلق نہیں ہے اس سے۔۔۔۔ اس بات سے تعلق ہے کہ بات کب پہنچی ہے؟ کس کو پہنچی ہے؟ کس طرح پہنچی ہے؟ کون پہنچاتا ہے؟ کس طرح پہنچاتا ہے؟ تم ہمیں یزیدی کہو، یہاں ہمارے سامنے آکے کہو۔ ہم تمہیں بتائیں گے یزیدی کون ہے؟ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ نے سفر کربلا میں سات مرتبہ کہا کہ میں یزید کے ہاتھ پر ہاتھ رکھتا ہوں۔ میرا راستہ خالی کرو، میں جاتا ہوں۔ بتاؤ یزیدی کون ہوا؟
تم نے کہا پروپیگنڈا کیا گیا کہ ۔۔۔۔ اسلام ڈوبا جارہا تھا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتیں مٹتی جارہی تھیں، دین مٹا جا رہا تھا، لوگ بدمعاش ہو گئے تھے۔ حکمرانوں نے ایرانیوں جیسا کام شروع کر رکھا تھا۔ کہاں ہے یہ اور کس معتبر روایت میں ہے؟
تمہاری اس گفتگو کے جواب میں سیدنا حسینؓ کے بھائی سیدنا محمد بن علیؓ کی بات وزنی ہے۔ اکیلا آدمی تمہاری امت خبیثہ کے مقابلے میں کافی ہے۔ تمہارے لئے تو آسان ہے سب کا انکار کرنا۔ سب کو یزیدی کہ دینا، ان کو بھی کہو وہ فرماتے ہیں:
اقمت عندہ خمس سنوات
میں یزید کے پاس پانچ برس رہا ہوں
و جدتہ مواظبا علی الصلواۃ
میں نے اس کو نمازوں کا پابند پایا
قائما بالسنۃ
سنت کو قائم کرنے والا پایا۔
عالما بالفقہ
میں نے اس کو فقیہ پایا
یہ عبارت البدایہ والنہایہ میں موجود ہے۔ اس کو پڑھو۔ بار بار پڑھو۔ تاکہ تمہارا ایمان درست ہو۔ تمہارے مغازی درست ہوں۔ اور تمہاری زبان درست ہو جو بگڑ چکی ہے۔
زباں بگڑی تو بگڑی تھی خبر لیجئے دہن بگڑا
اپنا قبلہ درست کرو اور محمد بن علیؓ کی بات پڑھو۔ یہ جتنے "مولوی" ہیں چکوال کے، اچھرے کے، راولپنڈی کے، ملتان کے، کراچی کے، ادھر اُدھر کے، یہ جتنے گھومنے والے لٹو ہیں ان کو رسی باندھو۔ پھر چلاؤ ان کو دیکھو صحیح چلیں۔یہ بات تاریخ کی ہے عقیدہ کی نہیں۔ واقعہ ہوا ہے تاریخ کا، تم نے اس کو عقیدہ میں شامل کر لیا ہے۔ پھر اس کی حمایت میں دور از کار کہانیاں کہاں سے کھینچ لاتے ہو۔ ہم نہیں سننا چاہتے۔ نہ ماننا چاہتے ہیں، ایک لمحے کے لئے بھی نہیں۔
جناب محمد بن حنفیہ کے متعلق، جناب سیدنا علیؓ نے حسنؓ و حسینؓ کو وصیت کی تھی کہ ان کا دھیان رکھنا۔ یہ بھی اسی البدایہ والنہایہ میں ہے۔ اور یہ بھی البدایہ والنہایہ میں ہے کہ یزید نے حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کا جنازہ پڑھایا۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنی اونٹنی کے متعلق:
ھی مامورۃ
یہ میری اونٹنی اللہ کی طرف سے مامور ہے۔
اس کو چھوڑ دو۔ جہاں اللہ کا حکم ہو گا وہاں یہ بیٹھے گی۔ اور یہ جناب سیدنا ابو ایوب انصاریؓ میزبانِ رسول رضی اللہ عنہ کے مکان پر بیٹھی۔
حضرت ابو ایوب انصاریؓ قسطنطنیہ پر حملے کے غزوے میں گئے، بیمار پڑ گئے اور موت نے آن لیا۔ انہوں نے وصیت کی کہ یزید میرا جنازہ پڑھائے۔۔۔۔۔ یہ میں نے تو وصیت نہیں کی۔ یہ "مولوی صاحبان" کو دکھائی نہیں دیتا اور یہ بھی اسی البدایہ والنہایہ میں لکھا ہے کہ جناب سیدنا حسین رضی اللہ عنہ یزیدی فوج میں تھے۔ قسطنطنیہ پر حملے کے وقت۔۔۔۔۔ دیکھو پڑھو۔ ہم بھی پڑھتے ہیں تم بھی پڑھو۔۔۔۔ یا ہم سے پڑھو۔ ہم سے سیکھو۔۔۔ یہ عقل کا دور ہے، شعور کا دور ہے، شعور کو جگانا ہمارا کام ہے، ہم شعور کو زندہ کریں گے۔ ہم تمہیں بتائیں گے کہ تاریخ میں کیا لکھا ہے۔ تمہاری جھوٹی تدلیس پارہ پارہ کریں گے۔
سیدنا حسین رضی اللہ عنہ نے کربلا میں 9 تاریخ کو آخری مرتبہ یہ بات کہی میں سیدھا شام جاتا ہوں، یزید سے گفتگو کرتا ہوں:
’’ان اضع یدی علی ید یزید فھو ابی عمی‘‘
میں اپنا ہاتھ یزید کے ہاتھ پر رکھتا ہوں وہ میرے چچا کا بیٹا ہے۔۔۔۔
یہ میں نے تو نہیں کہا۔ میں نے تو بتایا ہے، بتانے اور کہنے میں بڑا فرق ہے۔ تم چھپاتے ہو میں بتاتا ہوں۔ بس اتنا فرق ہے۔ شیعوں کے گرو ساجد نقوی کا چچا گلاب شاہ بیٹھا ہے۔ اس گلاب دیوی ہسپتال کے انچارج کے پاس جاؤ، اس سے پوچھو کہ یہ تاریخ میں ہے یا نہیں تم اس کا انکار کرسکتے ہو۔۔۔۔ ؟
تم نام نہاد اہل حق بنتے ہو، حق الاٹ کراچکے ہو اپنے نام؟
تمہیں ڈنکے کی چوٹ کہتا ہوں چھپ کے نہیں کہتا، تاریخ میں لکھا ہے اور شیعہ سنی سب کتابوں میں لکھا ہے قبروں کو جپھیاں ڈالنے والے اور گھوڑے کے نیچے سے گزرنے والے "مولوی" اور ان کے "حواری" سامنے آئیں اور جراءت سے بات کریں۔ وہ اپنے گلے کی گراریاں گھمائیں اور بتائیں کہ یہ واقعہ تاریخ میں ہے کہ نہیں؟؟
اور جناب دل پہ ہاتھ رکھ کر سنیے۔ جناب سیدنا عبداللہ بن عمرؓ نے سیدنا عبداللہ ابن زبیرؓ کو اور حضرت حسینؓ کو فرمایا:
اتقیا اللہ
دونوں اللہ سے ڈرو۔
ولا تفرقا بین جماعۃ المسلمین
اور مسلمانوں کی جماعت میں پھوٹ مت ڈالو۔
"اتقیا" تثنیہ کے صیغہ کے ساتھ۔ "اتقیا اللہ" دونوں اللہ سے ڈرو۔ "ولا تفرقا" مت پھوٹ ڈالو۔
بین جماعۃ المسلمین
مسلمانوں کی جماعت میں۔
یہ کس نے کہا؟ عبداللہؓ ابن عمرؓ نے. کس کو کہا؟ عبداللہ ابن زبیرؓ کو اور حسینؓ بن علیؓ کو۔ یہ بات عمرؓ کا بیٹا ہی کہہ سکتا ہے. یہ انہی کی جرات بسالت ہے۔
میں تو تینوں کا غلام ہوں. میں تو ان کی بارگاہ کا کفش بردار ہوں۔ میری تو کوئی حیثیت نہیں۔ حیثیت تو ہے عبداللہ ابنِ عمرؓ کی جن کو شیخ الصحابہؓ اور فقیہ الصحابہؓ کہا گیا۔
جناب سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کو امت نے اعزازاً صحابیؓ مانا ہے. صحابہؓ کے درجات میں آپ کا وہ مقام نہیں ہے جو سیدنا عبداللہ ابن عمرؓ کا ہے۔ ہمت ہے تو سیدنا عبداللہ ابن عمرؓ کو گالی دو۔ کیونکہ بڑے یزیدی تو وہی ہیں۔
اور بعد میں ہمیں بھی دے لو۔۔۔ منظور ہے۔
میرے ابا کو تو ان ملتانیوں نے 1933ء میں گالیاں دیں۔ 1933ء میں جھنگ والوں نے گالیوں کا مرقع شائع کیا۔ جرم کیا تھا۔۔۔۔ کہ ان واقعات کو طشت ازبام کیا، حقائق کھولے، تمہاری رام لیلا کی داستانیں جو تم نے گھڑ رکھی ہیں، ان کو ننگا کیا، ان کے تار و پود بکھیرے، ان کو بیخ وبن سے اکھاڑ پھینکا، کربلا کے جھوٹ کا پول کھول دیا۔
مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ جب 1962ء میں ہم نے ملتان میں یوم معاویہؓ منایا تو ایک پرانا، پھٹا ہوا تعزیے کا غول جا رہا تھا کہنے لگے او۔۔۔ لعین کا لڑکا لعین جا رہا ہے۔ ہم نے سنا، اب بھی کہو، سنیں گے لیکن یہ بتائیں گے کہ عبداللہ ابن عمرؓ نے یہ کہا، انہوں نے یزید کی بیعت کی، محمد بن علیؓ المعروف محمد بن حنفیہ نے بیعت کی، نعمان ابنِ بشیرؓ نے بیعت کی۔ بیعت کرنا اگر جرم نہیں ہے تو بتانا کیسے جرم ہے؟
تم میں اگر ہمت ہے تو سیدنا عبداللہ ابن عمرؓ کو کچھ کہہ کر دیکھو۔ پھر دیکھو تمہارا حشر کیا ہوتا ہے۔ عبداللہؓ ابن عباسؓ کو جو سیدنا حسینؓ کے چچا جان ہیں۔ جناب سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے چچا جان ہیں۔ جناب سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے چچا کے بیٹے ہیں۔ راس المفسرین ہیں۔ یہ مقام ہے ان کا، بہت بڑے آدمی ہیں صحابہؓ میں۔ انہیں بُرا کہو، تم نام نہاد دیوبندی، اسلافِ دیوبند کے تاجر خصوصاً میرے مخاطب ہو، پھر دیکھو لعنت تم پر چھاجوں برستی ہے کہ نہیں؟
پھر کہتا ہوں جناب میں نے بیعت نہیں کی۔ میں نے یزید کا زمانہ نہیں پایا۔ میرا وہ دوست نہیں تھا۔ میں اس کے پاس نہیں رہا۔ نہ اس سے مجھے پیسے ملتے تھے، نہ زمینیں ملیں. زمین سیدنا زین العابدین کو ملی، سرمایہ انہیں ملا، چالیس دن یزید کے گھر میں وہ رہے اور کیا تم بتا سکتے ہو کہ جناب سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کا انتقال کہاں ہوا؟
بتا سکتے ہو۔۔۔۔۔؟
کیا مدینہ میں؟
(ایک آواز "دمشق میں") کیوں؟ کیا کرنے گئی تھیں وہاں۔۔۔۔؟ تم تو کہتے ہو جناب! ایک خبیث اٹھا اور کہنے لگا "یہ زینب مجھے دے دو۔۔ یہ مال غنیمت ہے" استغفراللہ ربی من کل ذنب و اتوب الیہ۔
تمہیں یہ کہتے ہوئے، بیان کرتے ہوئے شرم نہیں آتی۔۔۔۔؟؟ نہیں ہوا ایسے، کسی نے کچھ نہیں کہا۔ کوئی دربار نہیں تھا۔ مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے۔۔۔۔ اگر میں غلط کہتا ہوں تو دلیل کے ساتھ میری جہالت دور کرو۔ نقشے میں وہ جگہ بتاؤ جہاں امویوں کا دربار تھا۔ ورنہ میں بتاتا ہوں کہ وہ اسی مسجد میں بیٹھتے تھے، جناب سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ بھی اور یہ بیچارا یزید بھی۔
ایک مقصورہ ابا جان نے بنوایا، ایک مقصورہ اس نے بنوایا اپنی حفاظت کے لئے، دونوں مقصورے آج تک موجود ہیں۔ آج تک تمہاری تاریخ کا اور تمہارے قصے کہانیوں کا منہ چڑا رہے ہیں اور تمہارے منہ پر تھپڑ مار رہے ہیں۔ جس واقعہ حرہ کو یہ جاہل مولوی اور تاریخ کے جانب دار اور نام نہاد طالب علم کہتے ہیں کہ جناب! حرہ ہوا، تین دن تک مدینے کو حلال کیا گیا، یہ ہوا اور وہ ہوا، کہتے ہو نا! سنو!۔۔ انہی عبداللہ بن عمرؓ نے :
جمع بنیہ
اپنے بیٹوں کو جمع کیا۔
و جماعات من اھل بیت النبوۃ
اور اہل بیت نبوت میں سے جماعتوں کو جمع کیا
ایک کو نہیں، دو کو نہیں، جماعات کو جمع کیا اور کہا۔
خبردار! تم میں سے کسی نے یزید کی بیعت توڑی تو میرا اس کے ساتھ یہ آخری دن ہوگا۔
جناب! میں سچ بولتا ہوں اور سچ بتاتا ہوں. اس لئے کہ میں گھوڑے کے نیچے سے نہیں گزرا۔ اوپر بیٹھا ہوں۔ میں نے چالیس میل گھوڑے پر ایک دن میں سفر کیا ہے۔ الحمدللہ! میں گھوڑے کا سوار ہوں۔ محتاج نہیں ہوں۔ گھوڑا میرا محتاج ہے۔ میرے ہاتھوں میں تھامی ہوئی لگام کا محتاج ہے۔ میری رکاب کا محتاج ہے۔
یہ بھی ابن کثیر کی البدایہ میں موجود ہے کہ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے ساتھ دھوکا ہوا۔ وہ دھوکا کھا گئے۔ پینتیس صحابہؓ نے آپ سے کہا کہ مت جائیں، اس سفر کو ملتوی کر دیں۔ رافضیوں کی کتب میں موجود ہے کہ’’عبداللہ بن عمر بزمام ناقہ اش چسپید‘‘ کہ عبداللہ ابن عمر سیدنا حسینؓ کی اونٹنی کی لگام سے لپٹ گئے۔ (کربلا میں سیدنا حسینؓ گھوڑے پر نہیں، اونٹنی پر سوار تھے) اور لپٹ کے کہا جانِ برادر! دیکھو تمارے باپ کے ساتھ ان کے شیعوں نے کیا کیا؟ تمہارے بھائی کے ساتھ کیا کیا؟ اور میں تمہیں خون میں لت پت دیکھ رہا ہوں۔ تم مت جاؤ۔ اگر جانا ہی ہے تو بچوں کو، بیوی کو، بہنوں کو مت لے جاؤ۔ اب آپ بتائیں کہ صحابہؓ غلط تھے؟؟
ہمت ہے تو کرو جراءت، صحابہؓ کو غلط کہو تو!
ذرا مجھے گالیاں دینے سے پہلے صحابہؓ کو دیکھ لو!
میں نے کوئی نیا مسلک اور نظریہ ایجاد نہیں کیا۔
میں تو صحابہ کرام کے نقش قدم پر چلنا چاہتا ہوں اور آپ کو اسی پر چلنے کی دعوت دیتا ہوں۔ خود ہی فیصلہ کر لو کہ سیدنا حسینؓ کی رائے سے اختلاف رکھنے والے صحابہؓ کو کیا کہو گے؟
میں ہرگز یہ نہیں کہتا, میرا موقف تو یہ ہے کہ صحابہؓ سب کے سب سچے اور راشد ہیں۔ ان کو غلط اور باطل کہنے والے خود غلط بلکہ حرفِ غلط ہیں۔
جناب سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ جو صف اول کے صحابہؓ میں سے ہیں، وہ منع کرتے ہیں لیکن کوفیوں کا دھوکا جو دعوت کی صورت میں تھا کہ جناب ’’ہم آپ کے غلام ہیں، زمین سرسبز ہے، پھل پک چکا ہے، آپ کے سوا ہمارا کوئی امام نہیں،
انت الامام
آئیے اپنی جگہ تشریف رکھیے‘‘
مگر سیدنا حسین رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی بات نہ مانی جو عمر میں سیدنا علی ؓ کے مثل تھے ۔صحابہؓ کہتے ہی کہ حسینؓ آپ کے شیعہ جھوٹے ہیں۔ پھر حسینؓ نے ان کی بات کو مان لیا؟
سیدنا حسین ؓ نے اجتہاد کیا اور امت نے ان کے اس اجتہاد کی تصویب کی۔
کسی کو جرات نہیں کہ ان کے اجتہاد پر انگلی رکھ سکے۔ اور اسے غلط کہے۔
اسی طرح (دیگر) صحابہؓ کے اجتہاد پر بھی انگلی نہیں اٹھائی جا سکتی۔ اگر کوفے کی طرف جانا اجتہاد تسلیم کیا جائے گا تو واپسی کی گفتگو بھی اجتہاد تسلیم کی جائے گی۔
جیسے ہم نے سیدنا حسینؓ کو مجتہد مانا، اسی طرح باقی صحابہؓ کو مجتہد جانا۔۔۔۔۔ سیدنا حسینؓ کے متعلق دو روایتیں ہیں. ایک روایت یہ ہے کہ جن کوفیوں نے آپ کو خط لکھے تھے، انہوں نے خط حاصل کرنے کے لیے خیمے جلا دیئے، لوٹ کھسوٹ کی کہ یہ کہیں عبید اللہ کے ہاتھ نہ لگ جائیں۔ وہ خطوطِ دعوت عبید اللہ کے ہاتھ آجاتے تو ان کی خیر نہیں تھی جو خطوط نویس تھے، داعی تھے۔
ایک روایت ہے کہ عبید اللہ ابن زیاد نے فوج کا لشکر بھیجا اور آپ کو مجبور کیا کہ وہ عبید اللہ کے ہاتھ پر بیعت کرلیں۔ جناب سیدنا حسینؓ نے فرمایا تیرے ہاتھ پر یزید کی بیعت نہیں ہوسکتی۔ اور بات میں سے بات آگئی کہ یہ جمہوری سسٹم اگر صحیح ہے، یہ طریقہ درست ہے اور اسلام کے مطابق ہے تو پھر کربلا کا واقعہ جس انداز میں بیان کیا جاتا ہے وہ شیعہ کے نزدیک سچا کیوں؟ سنیوں کے نزدیک سچا کیوں؟ پھر جمہوریت تو ساری معاذ اللہ یزید بن معاویہؓ کے ساتھ تھی۔
سیدنا حسینؓ کے ساتھ تو جمہوریت نہیں تھی۔ ان کے سگے بھائی بھی ساتھ نہیں تھے۔ چیلنج ہے میرا ان کے متعلق فتویٰ دو، وہ کیا ہیں؟
سیدنا حسینؓ کے چچے کا بیٹا ساتھ نہیں ہے۔ سیدنا عبداللہ ابن عمرؓ، سیدنا حسینؓ کے ساتھ نہیں ہیں۔ عبداللہ ؓ ابن عباسؓ، نعمان بن بشیرؓ، ابو سعید خدری رضی اللہ تعالی علیہم اجمعین سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے ساتھ نہیں ہیں۔
نکالو کہیں سے چھپا ہوا فتویٰ، مارو خنجر اور فتویٰ دو. اگر جمہوریت تمہیں پسند ہے تو پھر صحابہ کرام سیدنا حسینؓ کے ساتھ نہیں ہیں۔ سارے یزید کے ساتھ ہیں۔ میں تو کہتا ہوں، ہاتھ بھی جوڑتا ہوں ایک صحابی سیدنا حسینؓ کے ساتھ دکھا دو منہ مانگا انعام دوں گا۔ تلاش کرو۔ جاؤ ان "مولوی صاحبان" کی خدمت میں اور درخواست کرو کہیں سے ڈھونڈو۔ تاریخ کے اوراق کھولو۔ تاریخ کی بات ہے نا۔۔۔۔۔ عقیدہ کی بات نہیں ہے۔
عقیدہ تو ہمارا بھی ہے کہ وہ صحابی رسول ہیں، ہمارے پیشوا ہیں۔ جیسے ابو سعید خدریؓ صحابی ہیں ویسے ہی سیدنا حسینؓ صحابی ہیں۔ انہوں نے اجتہاد کیا۔ انہوں نے بھی اجتہاد کیا۔ دونوں برحق ہیں، دونوں سچے ہیں۔ دونوں صحیح ہیں۔ جو نہیں گئے وہ بھی سچے ہیں۔ جو گئے وہ بھی سچے ہیں۔ ہر صحابی مجتہد مطلق ہے۔ اور کوئی غیر صحابی کسی صحابی پر تنقید کا حق نہیں رکھتا. ہمارا تو یہ عقیدہ ہے، اس سے آگے کی بات نہیں ہے۔
اس سے آگے تاریخ کی بات ہے کہ انہوں نے بڑے صحابہ کی نصیحت نہ مانی اور والد ماجدؓ کے دوستوں کی بھی ایک نہ مانی۔۔۔۔ جمہویت جمہوریت۔۔۔ کہاں ہے اسلام میں جمہوریت؟؟
تم کہتے ہو یہ جہاد تھا۔ اسلام مٹ رہا تھا۔ اسلام کو جناب حسینؓ نے کربلا میں زندہ کیا۔ نہیں ہے یہ بات، نہ یہ جہاد تھا اور نہ ہی اسلام مٹ رہا تھا۔ یہ تمہاری گھڑی ہوئی کہانیاں ہیں۔ تمہارے گھڑے ہوئے قصے ہیں۔ یہ بات وہی ہے جو سیدنا حسینؓ نے خود فرمائی اور وہی قول فیصل ہے۔ آپ نے فرمایا ہے۔
’’ان لی بالعراق حکومۃ‘‘
کہ مجھے حکومت کی دعوت دی گئی، اور میں سمجھ رہا تھا کہ عراقی مجھے حکومت دیں گے۔ لیکن اب میرے دونوں بھائی قتل ہو گئے۔ مجھ پر عیاں ہو گیا کہ جو صحابہ کرام اور میرے ساتھی کہتے تھے، وہی میرے ساتھ ہوا۔۔۔۔۔
اب تم۔۔۔۔۔
دائیں بائیں جہاں چاہے چلے جاؤ۔ کیوں فرمایا یہ۔۔۔۔۔؟
اور یہ فلسفہ جو تم نے گھڑ رکھا ہے کہ:
’’ابتداء ہے اسماعیل، انتہاء حسین ‘‘
یہ کیسے؟ مجھے پوچھنے کا حق تو دو کہ یہ بھی چھیننا چاہتے ہو؟
سوال یہ ہے کہ اگر ابتداء اسماعیل اور انتہاء حسینؓ ہے اور کربلا کا واقعہ ایسے ہی ہے جیسے ابراہیم علیہ السلام نے جناب سیدنا اسماعیل علیہ السلام کو ذبح کرنے کے لیے لٹایا:
’’فلما اسلما و تلہ للجبین‘‘
دونوں میں بات طے ہوگئی اور انہوں نے زمین پر لٹا دیا۔
پھر کیا ابراہیم علیہ السلام کو تم میں سے کوئی ظالم کہتا ہے؟
اور اسماعیل علیہ السلام کو کوئی مظلوم کہتا ہے؟
کیوں نہیں کہتے؟ کہو نا!
مجھے سوال کا حق ہے اور میں ایسا سوال کروں گا جو تمہارے خرمن باطل کو جلا کے رکھ دے۔
گھوڑا برداران ’’آل الفرس‘‘ تمہارے لئے کوئی رعایت نہیں کرسکتا۔ کان کھول کر سن لو!
اور تم سنیوں میں سے بھی جو آدمی روافض کے لئے نرم گوشہ رکھتا ہے، اس کو معاف نہیں کرسکتا۔ یہ دوسرے درجے کا ایمان ہے۔ پہلے درجے کا نہیں۔
میں برائی کو مٹا نہیں سکتا لیکن برائی کے خلاف زبان چلاتا ہوں، تم بھی چلاؤ۔ کرو مزاحمت، مار کھاؤ جیسے ہم کھا رہے ہیں۔ آزما کے دیکھ لو۔ جب بھی تم دین پر عمل کرو گے سب سے پہلے گھر سے دشمنی پیدا ہوگی۔ پکے سچے سنی حنفی اپنے ہی گھر میں مخالفت کریں گے۔ بیوی مخالف ہو جائے گی۔ بچے کہیں گے ابا جی آپ نے یہ کیا شروع کر رکھا ہے۔ ’’گھر میں معاویہؓ کا نام لو، اور یزید کا نام لو، حسینؓ کا نام لو، اور جو بھائی سیدنا حسینؓ کے ساتھ نہیں گئے ان کا نام بھی لو۔ دیکھو گھر میں فساد پڑتا ہے یا نہیں؟
اس لئے کہ زنگار لگے ہوئے مدت ہو گئی ہے۔ اتارتے ہوئے بھی عرصہ لگے گا۔
شیعہ کی روایات اور محرم کی دسویں کی خرافات سے متاثر مت ہوں۔ میرا ایک دعویٰ ہے اور الحمدللہ! اپنے بزرگوں سے سینہ بسینہ منتقل ہوا وہ آپ کو سناتا ہوں۔ یہ جتنی روایتیں دسویں تاریخ کی بیان کی جاتی ہیں، ایک بھی صحیح نہیں ہے۔ ہمت ہے تو آجاؤ دو گھنٹے روز کے نکالو، ایک ہفتے میں نچوڑ نکال دیتا ہوں بلکہ نچوڑ کے رکھ دیتا ہوں ان شاء اللہ
’’جلاء العیون‘‘
پڑھ لو۔ ایک عباس قمی کو ہی پڑھ لو۔ اسی طرح البدایہ والنہایہ کو پڑھ لو اور ہماری جان چھوڑ دو۔ میں ہمیشہ کہتا ہوں کہ ہمیں گالی مت دو۔ پہلے گالی اس کو دو جس نے یزید کی بیعت کی اور اس کے بعد ہمیں بھی دے لو، چلو۔۔۔۔۔!
قبول است گرچه از هست
اگر جراءت ہے تو پہلے علیؓ کے بیٹے حسینؓ کے بھائی کو گالی دو۔ عبداللہؓ بن جعفر طیارؓ کو گالی بکو۔ پھر مجھے بھی دے لو۔ بالکل درست ہے۔ اور یزید کی بیوی عبداللہ بن جعفر طیار کی بیٹی کو گالی بکو. وہ ہماری ماں ہیں. پھر ہمیں بھی بک لو۔ پہلے ماں کو گالی دو، پھر بیٹے کو بھی دے لینا۔
جرأت؟----- ہمت؟ ----کھولو زبان۔۔۔۔۔
کیا افسانے سناتے ہو، کیا کہانیاں چھاپتے ہو، کیا ڈرامے اسٹیج کرتے ہو اور یہ سب شیعوں کی کتابوں میں لکھا ہوا ہے کہ فلاں کون؟ فلاں کون؟
مختصراً یزید کا ایک ہی جرم نکال سکتے ہو کہ اس نے قاتلان حسینؓ کو سزا نہیں دی۔ بس! اگر ایڈمنسٹریشن کا مسئلہ بنائیں تو یہ اس کی اپنی سلطنت کا مسئلہ تھا۔ دفاع کا پہلو نکلتا ہے۔ اس کے باوجود میرا دعویٰ ہے کہ اس نے ظالمانہ کارروائی کا کوئی حکم نہیں دیا۔ بے شک جناب سیدنا حسینؓ کے ساتھ ظلم ہوا اور یہ کوفیوں نے کیا۔ انہوں نے بلاوجہ اس بات پر مجبور کیا کہ ان خبیث لوگوں (عبیداللہ ابن زیاد) کے ہاتھ پر بیعت کریں۔ یہ مشکل کام تھا۔ اور غیرت مند باپ کے غیرت مند بیٹے سے قطعی ناممکن تھا۔ چنانچہ سیدنا حسین ؓ رضی اللہ عنہ نے ابن زیاد کے ہاتھ پر بیعت سے انکار فرمایا اور یزید کے پاس جانے کے لئے راستہ چھوڑنے کا مطالبہ کیا۔ اسی کو بہانہ بنا کر کوفیوں نے انہیں شہید کر دیا۔ اور کیمپ لوٹنے والے بھی یہی لوگ تھے۔ جنہوں نے خطوط لکھ کر انہیں بلایا اور حکومت سنبھالنے کی دعوت دی۔
سیدنا حسینؓ صحابی رسول ہیں۔ ان کی بہن صحابیہ رسول ہیں۔ اور باقی بزرگ خاندان کی نسبت عظیم خاندان کی نسبت ہے۔ احترام کی شان موجود ہے۔ اس لئے یہ کہنا کہ وہ ایسے ویسے تھے بالکل غلط ہے۔ تاریخی طور پر میں اس رائے پر قائم ہوں کہ یزید سیدنا حسینؓ کا مدمقابل نہیں تھا۔ ہاں عراقیوں کا مدِ مقابل تھا۔
وہ عراقی جو سلیمان ابن صرد خزاعی کے گھر سازش کرتے رہے۔ جناب سیدنا علیؓ کے زمانہ میں بھی، جناب سیدنا حسنؓ کے زمانہ میں بھی اور سیدنا حسینؓ کے زمانہ میں بھی۔ سلیمان ابن صرِد خزاعی بنو خزاعہ کا فرد تھا۔ بڑا سرمایہ دار تھا۔ اس کے گھر میں میٹنگیں ہوتی تھیں۔ اور سب سے پہلے اسی کے گھر سے خط گیا۔ خط لے جانے والا عبداللہ ابن وال تھا۔ اور اس خط میں کیا تھا؟ حیران ہوں گے آپ، تعجب ہوگا آپ کو، خط میں لکھا ہے:
’’حسینؓ! تجھے معاویہؓ کے مرنے کی مبارک ہو۔ اب تو آجا، عراق تیرے لئے سجا ہوا ہے‘‘
یہی خط دراصل قتلِ حسینؓ کی سبائی سازش کا سر آغاز تھا۔ انہیں دھوکا دے کر بلایا گیا اور پھر آلِ رسول کو قتل کرکے اُمت مسلمہ کو گروہوں میں تقسیم کرنے کی یہودی سازش کی تکمیل کی گئی۔
مجھ سے بعض احباب نے سوال کیا ہے کہ آپ اس زہریلے پراپیگنڈے کا جواب دیں جو آپ کے بارے میں عموماً کیا جاتا ہے، آپ سیدنا حسینؓ کو نہیں مانتے۔ اگر تو سیدنا حسینؓ کو امام ماننے کا تعلق ہے جن معنوں میں رافضی مانتے ہیں کہ امام اور نبی برابر ہیں تو کان کھول کر سن لو! میں نہیں مانتا۔ ہم نے اس معنی میں ابوبکر و عمر و عثمان و علی و معاویہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کو بھی امام نہیں جانا۔ حسینؓ کو کیسے مان لیں؟ قائد، پیشوا، بزرگ مانتے ہیں اور صحابی رسول مانتے ہیں اور نبوت کے بعد صحابیت کا درجہ تمام مراتب سے بڑا ہے۔ امامت سے، خلافت سے، ولایت سے، نجابت سے، سب سے بلند ہے۔ اور حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو امت صحابی مانتی ہے۔ ہم بھی صحابی مانتے ہیں۔ ہم اہل سنت والجماعت کے فرد ہیں۔ اور ان کو صحابی رسول ہی کے بلند درجہ پر فائز مانتے ہیں۔
ہمارے متعلق یہ بھی کہا جاتا ہے کہ جناب وہ تو یزیدی ہیں۔ یزید کو مانتے ہیں اچھا تو جناب یہ کتاب ہے میرے ہاتھ میں ’’انساب الاشراف‘‘ یہ جناب احمد بن یحییٰ بن جابر البلاذری کی لکھی ہوئی ہے۔ اس کو لے جاؤ اور ان "مولویوں" کو دکھاؤ جنہوں نے اپنی جہالت کو چھپانے کے لئے میرے خلاف اتنی لمبی زبان کھول رکھی ہے۔ تم ان کی جہالت کو ننگا کرو۔
انساب الاشراف صفحہ نمبر 4 پر روایت ہے، ذرا سنیے:
(امام أحمد بن يحيى، البَلَاذُري (المتوفى 279) اپنے استاذ امام مدائنی سے نقل کرتے ہیں:)
الْمَدَائِنِيّ عَنْ عبد الرحمن بْن مُعَاوِيَة قَالَ، قَالَ عامر بْن مسعود الجمحي: إنا لبمكة إذ مر بنا بريد ينعى مُعَاوِيَة، فنهضنا إلى ابن عباس وهو بمكة وعنده جماعة وقد وضعت المائدة ولم يؤت بالطعام فقلنا له: يا أبا العباس، جاء البريد بموت معاوية فوجم طويلًا ثم قَالَ: اللَّهم أوسع لِمُعَاوِيَةَ، أما واللَّه ما كان مثل من قبله ولا يأتي بعده مثله وإن ابنه يزيد لمن صالحي أهله فالزموا مجالسكم وأعطوا طاعتكم وبيعتكم، ---
(هات طعامك يا غلام، قَالَ: فبينا نحن كذلك إذ جاء رسول خالد بْن العاص وهو على مَكَّة يدعوه للبيعة فَقَالَ: قل له اقض حاجتك فيما بينك وبين من حضرك فإذا أمسينا جئتك، فرجع الرسول فَقَالَ: لا بدّ من حضورك فمضى فبايع.[أنساب الأشراف للبلاذري: 5/ 290 واسنادہ حسن لذاتہ]۔)
(الانساب الاشراف صفحہ نمبر3-4)
’’مدائنی روایت کرتے ہیں عبدالرحمن بن معاویہ سے انہوں نے کہا کہ ’’عامر بن مسعود جمحی نے بتایا کہ میں مکہ میں تھا کہ حضرت معاویہؓ کی موت کی اطلاع پہنچی۔ پس میں حضرت ابنِ عباسؓ کے پاس گیا اور وہ مکہ میں تھے اور ان کے پاس لوگوں کی جماعت تھی۔ دستر خوان بچھا دیا گیا تھا اور ابھی تک کھانا نہیں لایا گیا تھا تو ہم نے انہیں کہا اے ابن عباس ! حضرت معاویہؓ کی وفات کی اطلاع آئی ہے۔ (یہ سن کر) انہوں نے کافی دیر تک سر جھکائے رکھا پھر اس کے بعد کہا: اے اللہ! معاویہؓ کے لئے وسعت پیدا فرما۔ بہرحال اللہ کی قسم نہ اس سے پہلے ان جیسا ہے اور نہ ان کے بعد ایسا آئے گا۔ اور بے شک ان کا بیٹا یزید ان کے گھر میں صالح آدمی ہے۔ پس تم اپنی مجلسوں کو قائم رکھو۔ اور تم اپنی اطاعت و بیعت اس کے سپرد کردو۔
یہ کس نے کہا؟ عبداللہ ابن عباسؓ نے۔ میں نے تو بتایا ہے اور بتائوں گا جب تک جی چاہے گا، چھپاؤں گا نہیں، تم میری بے پناہ مخالفت کر لو۔ ان شاء اللہ میں بتانے سے گریز نہیں کروں گا۔ یزیدی ہی کہنا ہے تو پہلے ان صحابہ کو کہو، پھر ان کے صدقے مجھے کہہ لو۔ میں ان کے جوتوں پر قربان، ان کے قدموں کی دھول پر میرے ماں باپ قربان، ساری امت کے ولی، قطب قربان، یہ تم پیروں اور گدی نشینوں کے جتنے ’’خلفائے راشدین‘‘ ہیں ۔ خلیفہ راشد فلاں، خلیفہ راشد فلاں، خلیفہ راشد حضرت مدنیؒ ، قاضی مظہر چکوالی اور ابو الاعلی مودودی جیسے مولوی سب کے سب حضرت عبداللہ ابن عباسؓ کے جوتے پہ قربان۔
کٹ تو سکتا ہوں مگر ان صحابہ کو نہیں چھوڑ سکتا۔ عبداللہ ابن عباسؓ کو چھوڑ دوں تو میرا ایمان جاتا ہے۔ نبیؐ کے بعد قرآن کی تفسیر جاتی ہے۔ نبیؐ نے دعائیں دیں۔ ان کے سینے پر پھونک ماری، اور ہاں! وہ صحابہ بدر کے ساتھ سیدنا عمر ابن خطابؓ کی شوریٰ کے ممبر تھے۔ بدر والوں نے اعتراض کیا کہ تم نے ایک لڑکے کو ہمارے مقابلے میں بٹھا دیا ہے۔ عمر ابن خطابؓ نے کہا: "میں اس لڑکے کو لے آتا ہوں، جو جی میں آئے، پوچھو اس سے ۔ یہ تم کو قرآن کے مسائل و معارف بتائے گا" یہ وہ عبداللہ ابن عباسؓ ہیں۔۔۔۔۔
میں عبداللہ ابن عباس کی مانوں گا۔ میں تم سب کو نہیں مانتا، تمہاری باتوں کا انکار بہتر سمجھتا ہوں، اس کی بجائے کہ ان کی بات کا انکار کیا جائے، اتنے بڑے آدمی ہیں وہ اور تم لے آئے ہو اس دور کے بزرگوں کو۔ ابوالکلام نے یہ لکھا ہے، اچھا تو کیا ابوالکلام عبداللہ ابن عباسؓ سے بڑے ہیں؟
"مفتی احمد یار نے لکھا ہے" تو کیا مفتی احمد یار خان کا رتبہ سیدنا ابن عباسؓ سے بڑا ہے؟
سوچنے کی بات ہے. اور جناب۔۔۔۔ یہ رسول اللہ کے چچا کے بیٹے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بھائی ہیں۔ صحابی رسول ہیں۔ رئیس المفسرین ہیں۔ کس کی بات معتبر ہے؟ صحابی کی بات یا چودھویں صدی کے فاسق مسلمان کی بات۔ ایک جملہ عام طور پر کہا جاتا ہے کہ ’’بزرگوں نے فرمایا ہے‘‘ بڑا زور لگا لگا کر کہا جاتا ہے، میں پوچھتا ہوں صحابی تمہارے بزرگوں کے بزرگ نہیں ہیں؟
مولانا قاسم نانوتوی، مولانا رشید احمد گنگوہی، مفتی کفایت اللہ، سید عطاء اللہ شاہ بخاری اور جناب مفتی محمود رحمہم اللہ یہ بزرگ ہیں یا صحابہؓ ---------؟
فیصلہ تیرا تیرے ہاتھوں میں ہے، دل یا شکم
دل کہتا ہے صحابہؓ بزرگ ہیں، شکم کہتا ہے ہندوستانی علماء۔ جو ماننا ہے مان لو!
جناب! ان کے بزرگ کون ہیں؟
میں بھی ان کو بزرگ سمجھتا ہوں۔ ان کا احترام کرتا ہوں۔ لیکن صحابہؓ کا احترام تو اللہ نے مانگا ہے۔ تمہارا احترام نہیں مانگا۔ ساڑھے چار سو آیات صحابہؓ کے لئے اتری ہیں۔ صحابہؓ کی مدح و منقبت اور فضیلت کے لئے اتری ہیں۔ ہم ان کا بھی احترام کرتے ہیں۔ لیکن صحابہؓ کی بات آئے گی تو تمام غیر صحابی بزرگوں کا احترام نمبر دو ہو جائے گا اور صحابہؓ کا احترام نمبر ایک پر آجائے گا۔
یزیدی کہنا ہے تو عبداللہ ابن عباسؓ کو کہو۔ پھر مجھے کہہ لو!
کیا میں نے یزید کی تعریف کی ہے؟ میں نے اس کو اچھا کہا ہے؟
ہاں تم عبداللہ ابن عباسؓ کے مقابلے کا آدمی لاؤ۔ جو کہے کہ یزید شراب پیتا تھا، زنا کرتا تھا، لونڈیاں رکھتا تھا، کتے پالتا تھا، میں مان لوں گا۔
جناب سنئے! حضرت حسینؓ کے بھائی حضرت محمد بن حنفیہ کا جواب، ان سے کسی نے کہا یزید شراب پیتا ہے، کہا: ’’ارأیت‘‘ تو نے دیکھا ہے؟ کہا نہیں۔ کہا تو نے سنا ہے؟ تجھے اطلاع دی ہے اس نے، کہا نہیں. اطلاع بھی نہیں دی۔ فرمایا پھر تجھے خدا کا خوف نہیں آتا؟؟
یہ کس نے کہا؟ محمد بن حنفیہ نے، انہوں نے کہا: اچھا تو نے دیکھا بھی نہیں، اطلاع بھی اس نے نہیں دی، تو پھر بھی کہتا ہے کہ وہ شراب پیتا ہے۔ مجھے معلوم نہیں قرآن کہتا ہے ’’الا من شھد بالحق و ھم یعلمون‘‘
گواہی تو اس کی معتبر ہے، جو علم رکھتا اور جو جانتا ہو، نہ تجھے علم ہے، نہ تو جانتا ہے، یہ سب کچھ محمد بن علیؓ نے کہا۔ وہ شخص کہنے لگا تیرا خیال شاید یہ ہو کہ ہم تجھے احترام سے نہیں دیکھتے، ہم تیری کمان میں لڑنا چاہتے ہیں، تو محمد بن علیؓ فرمانے لگے کہ سبحان اللہ میں کیوں لڑوں، میں تو نہیں لڑوں گا، وہ کہنے لگا تیرا باپ ؓ معاویہؓ سے لڑا ہے کہ نہیں، انہوں نے فرمایا: میرے باپؓ جیسا لے آؤ، آج لڑتا ہوں یزید کے ساتھ۔
بات سمجھئے جناب!
سیدنا علیؓ ابن ابی طالب جیسا بلند مرتبہ ہو تو یزید کے ساتھ جنگ جاری کی جاسکتی ہے۔ اس نے کہا لوگ تجھ سے نفرت کرنے لگ جائیں گے، جیسے لوگ آج مجھے ڈراتے ہیں کہ شاہ صاحب نہ بتاؤ ورنہ لوگ نفرت کریں گے۔ یہی کہا انہوں نے جناب محمد بن علیؓ کو ’’ان یتھموک‘‘ کہ لوگ تجھ پر تہمت لگائیں گے اور تجھ سے نفرت کرنے لگیں گے، فرمانے لگے کریں، میں یہاں سے چلا جاؤں گا، مکہ مکرمہ میں، اللہ کے گھر بیٹھ جائوں گا، انہوں نے کہا: اچھا اپنے ابوالقاسم کو بھیج دے، کہنے لگے: سبحان اللہ جو چیز میں اپنے لئے پسند نہیں کرتا، اپنے بیٹے کے لئے کیسے پسند کروں؟ ایک بیٹا بھی ساتھ نہیں بھیجوں گا۔
مجھے یزیدی کہنے والو!
یزیدی کہنا ہے تو محمد بن علیؓ کو کہو، میں اپنے ماں باپ کو، اپنے آپ کو اور سارے مولویوں کو قربان کرتا ہوں ان کے جوتوں پر۔ وہ بڑے بلند مقام کے انسان ہیں۔ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ جتنا مقام نہیں ان کا مگر کم بھی نہیں ہے۔ ایک ہی باپ کے بیٹے ہیں۔ پھر ان کو کہنے لگے کہ تو ڈر گیا ہوگا، انہوں نے فرمایا بھلا میں کیوں ڈرتا؟ میں پانچ سال یزید کے پاس رہا ہوں۔ میں نے اس کو شراب پیتے نہیں دیکھا، نمازیں پڑھتا تھا، فقہ میں دلچسپی لیتا تھا، فقیہ تھا، عالم تھا، پڑھا لکھا تھا، بڑا اچھا آدمی تھا، امیر الحج بنتا تھا، یہ کس نے کہا؟ محمد بن علی رضی اللہ عنہما نے کہا۔ جناب حسین ؓکے بھائی نے۔ اب فتویٰ پہلے ان پر لگاؤ ، پھر مجھ پر لگاؤ۔ اگر ہمارا نسب صحیح ہے اور الحمدللہ صحیح ہے ثم الحمدللہ صحیح ہے تو پہلے ہمارے دادا سیدنا علیؓ کو گالی دو، پھر ہمیں گالی دو۔
بزدل وعظ فروشو! قلم کے تاجرو! تم ہمت تو کرو، پھر دیکھو، تمہارا حشر کیا ہوتا ہے؟
میرا ایک سوال ہے. جواب آپ کے ذمہ ہے کہ جب یزید کی فوجیں مدینہ طیبہ میں آئیں تو حضرت زین العابدینؒ کہاں تھے؟ کیا کرتے رہے تھے؟ یہ میرا سوال ہے۔
جناب حضرت زین العابدینؒ جن کا نام علی ہے، جو حسینؓ کے بیٹے ہیں، جو کربلا کے واقعہ میں موجود تھے اور چوبیس برس کے تھے، ان کا لڑکا محمد باقر تین برس کا تھا، جن کو تم امام باقر کہتے ہو، یہ امام باقر تین برس کے تھے اور ان کی والدہ ماجدہ کربلا میں تھیں، ان کے والد ماجد کربلا میں تھے، اس واقعہ میں موجود تھے، عینی شاہد ہیں۔ ان کی رائے ان کا کوئی ایک قول تاریخ کی صحیح روایت سے یزید کے خلاف لاے آؤ۔ میں تمہارے ساتھ ہوں۔
سیدنا علی بن حسینؓ المعروف زین العابدین یزید کے ساتھ تھے۔
یہ موضوع جتنا طویل ہے تاریخ میں اتنی ہی گرد اس پر جمی ہوئی ہے۔ اس گرد و غبار کو صاف کرنے کی ضرورت ہے۔ اور لوگوں کو اصل صورت حال اور حقیقت حادثہ کربلا سے روشناس کرانا وقت کا تقاضا ہے، زندگی باقی رہے تو اس موضوع پر مزید گفتگو آئندہ مجلس میں۔
والسلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
بحوالہ: ماہنامہ نقیب ختم نبوت ملتان
محرم 1414ھ/جولائی 1993ء

