ھریانوی نظم - پاکستان -
شاعر - غلام محمد وامِق
پاکستان یُو مُلَک سَے مھارا ۔
اِس پَہ جیون دان ہے سارا ۔
کتنا سُندر وطن سَہ مھارا ۔
ھریانہ بی اِس پَہ واریا ۔
جو بی اِس نَیں بُرا کہوَے گا ۔
بے عِجتا وہ ہو کَے رھوَے گا ۔
اتنی پیاری دھرتی مھاری ۔
سونا چاندی ھیریاں آلی ۔
موسم اِس کے پیارے پیارے ۔
کھیت سمندر دریا سارے ۔
اللّٰہ کی ہر نعمت اِس مَیں ۔
ساری برکت رحمت اِس مَیں
آگَے دیکھ بَڈھانا سَہ یُو ۔
ٹھاڈا دیس بنانا سَہ یُو ۔
لاکھوں جاناں دے کَے بنایا ۔
بَیریاں تَے یُو ھام نَیں بچایا ۔
ھام نَیں اِس پَہ جان لُٹائی ۔
عِجّت کی بی باجی لائی ۔
پھیر بی ھام نَیں کَہوَیں پرایا ۔
کِتنا بَیری بَکھَت یُو آیا ۔
اِس کے نَیتا بنے بپاری ۔
دشمن گَلَّے اِن کی یاری ۔
بَیچ کَہ کھا گے مُلَک یُو سارا
کُھون سَدائے پِیوَیں مھارا ۔
وامِق ھِمّت کر کَہ دکھاؤ ۔
آپنا سارا مُلَک بچاؤ ۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــ۔
24 جون 2026ء بروز بدھ ۔
