مِزاحیہ خاکہ ۔ شگفتہ تحریر " ہم نے چوہا مارا " غلام محمد وامِق = شیر کا شکار کرنا اتنا مشکل نہیں ہے جتنا چوہے کا شکار کرنا، کسی چوہے کو مارنا جُوئے شیر لانے سے کم نہیں ہے ۔ شیر کو مارنا بہت آسان ہے، بندوق اٹھائی جنگل میں گئے سامنے شیر آیا اب شیر آپ کو دیکھ کر کونوں کھدروں میں نہیں چھُپے گا احمقوں کی طرح سیدھا آپ کی طرف آئے گا اور شیر کا جُثّہ بھی کوئی اتنا چھوٹا نہیں ہوتا کہ آپ کے پاؤں کے درمیان سے نکل بھاگے اور نا ہی وہ کونوں کھدروں میں چھُپ سکتا ہے، چنانچہ سامنے ایک لحیم شحیم شیر آیا آور آپ نے بندوق سے گولی چلا دی اور شیر ڈھیر ہو گیا اب آپ اس کے پاس کھڑے ہو کر بڑے شوق سے اپنی تصاویر بنوا سکتے ہیں ۔ مگر جناب چوہے کے ساتھ آپ یہ سب نہیں کر سکتے، یہ ہی وجہ ہے کہ چوہے کو مارنا ( زہر سے نہیں اپنے زورِ بازو سے ) مشکل ہی نہیں ناممکن بھی ہے اور یہ ناممکن کام ہم نے کر دکھایا اب یہ الگ بات ہے کہ اس مرے ہوئے چوہے کے ساتھ تصویر بنوانا ہم نے اپنی شان کے خلاف سمجھا ۔ ہوا یوں ہم محوِ استراحت تھے کہ اچانک بیگم کے شور مچانے کی آواز ہماری سماعتوں سے ٹکرائی، چوہا ، چوہا ، چوہا ، لیکن ہم نے اسے معمولی شور سمجھ کر نظر انداز کر دیا مگر جب بیگم اور بچے ہمارے سر پر آ کر کھڑے ہو گئے کہ چوہا گھس گیا گھر میں چوہا گھس گیا اسے مارو اسے مارو تو بحالتِ مجبوری ہمیں چوہا مار مہم شروع کرنی پڑی ۔ گھر کے تمام کمروں کے دروازے مضبوطی کے ساتھ بند کر دیے گئے رسوئی ( کچن ) کو بھی بالخصوص بند کیا گیا، بیگم نے جھاڑو اٹھائی ہم نے بھی جھاڑو اٹھائی بچوں نے ڈنڈے اٹھائے یعنی جس کے ہاتھ جو بھی ہتھیار لگا وہ اٹھالیا گیا ۔ ہتھیاروں سے مکمل لیس ہوکر اب چوہے کو ڈھونڈنے کا عمل شروع کیا گیا بالآخر وہ ہمیں ایک کونے میں دبکا نظر آ ہی گیا ، ہم دبے پاؤں محتاط انداز سے ہاتھ میں جھاڑو اٹھائے اس کی طرف بڑھے مگر جناب چوہا بھی بڑا کائیاں نکلا آخر ڈجیٹل دور کا چوہا تھا کوئی مذاق نہیں تھا ۔ وہ فوراً ہماری ٹانگوں کے بیچ سے ہوتا ہوا دوسرے کونے میں جا چھپا ۔ مارا کیوں نہیں، مارا کیوں نہیں؟ بیگم نے شور مچایا، ہم جھنجھلا گئے تم نے کیوں نہیں مارا مجھے الزام دے رہی ہو، اب بیگم نے اور بچوں نے ہمیں پیچھے چھوڑا اور خود چوہے پر حملہ آور ہوئے چوہا زخمی ہو کر پھر ہماری جانب آیا مگر مجال ہے جو ہم اسے خود کو چھونے بھی دیں ہم نے فوراً چھلانگ لگائی اور اُو، اُو کرتے ہوئے پینترا بدل کر خود کو بچایا، بیگم پھر دھاڑیں مارا کیوں نہیں مارا کیوں نہیں؟ اب اسے کون سمجھائے کہ بھئی جنگ میں دفاع کرنا بھی تو ایک آرٹ ہوتا ہے اور پھر یہ کہ ہم ٹھہرے ازل سے حد درجہ رحم دل اور شفیق انسان بھلا کسی جاندار کی جان لینا ہمارے بس میں کہاں ؟ وہ تو ہم نے بیگم کے حکم پر ہتھیار اٹھا لیے تھے مگر ہتھیار اٹھانا اور اسے استعمال کرنا دو الگ الگ چیزیں ہیں ۔ اب دیکھیں ناں دنیا میں کتنے ہی ملکوں کے پاس ایٹمی ہتھیار موجود ہیں جنہیں وہ اپنی مرضی سے استعمال بھی نہیں کر سکتے، بالکل اسی طرح ہم نے بھی بیگم پر رعب ڈالنے کے لیے چوہار مار ہتھیار اٹھالیے تھے ۔ چنانچہ ہم بھی بیگم کو دکھانے اور چوہے کو ڈرانے کے لیے اپنے ہاتھ میں پکڑی ہوئی جھاڑو زور زور سے زمین پر مارتے تھے کہ ابھی چوہا یہاں سے گزرا ہے ۔ اس ہڑبونگ میں چوہا بھی بھاگ بھاگ کر نڈھال ہو چکا تھا اور ہم الگ تھکان سے چور تھے، چوہے کو اور ہمیں بچنے کا کوئی راستہ نظر نہیں آرہا تھا چوہا زخمی بھی ہو چکا تھا آخر کار بچوں نے اور بیگم نے اسے گھیر لیا پھر کیا تھا بیگم نے اس بے چارے پر جھاڑو کے وہ وار کیے وہ وار کیے کہ چوہے کو مرنے کے سوا کچھ نہیں سوجھی اس پر بچوں نے بھی بہت ہاتھ بٹایا تھا ، ہمیں ترس تو بہت آیا مگر " مرے کو مارے شاہ مدار " کے مصداق ہم نے بیگم کا دل رکھنے کے لیے مرے ہوئے چوہے پر دو چار جھاڑو مار ہی دئے ۔ اور یوں ہمارا یہ سنہری حروف میں لکھا جانے والا کارنامہ اپنے انجام کو پہنچا ۔ چوہے کی لاش کو ٹھکانے لگانے کا مرحلہ بھی ہمیں ہی انجام دینا پڑا وہ یوں کہ پہلے چوہے کو جھاڑو پر رکھوایا گیا پھر آنکھیں بند کرکے خراماں خراماں دروازے کی جانب بڑھے دروازہ ہمارے حکم پر کھولا گیا پھر ایک نعرہء مستانہ مار کر ہم نے چوہے کو باہر سڑک پر پھینک دیا ۔ پھر اس کا کیا حشر ہوا یہ سب دیکھنے کا ہم میں حوصلہ نہیں تھا ۔ تحریر - غلام محمد وامِق محراب پور سندھ مورخہ 23 جون 2026ء بروز منگل

 مِزاحیہ خاکہ ۔ شگفتہ تحریر 

      " ہم نے چوہا مارا  "

      غلام محمد وامِق 


شیر کا شکار کرنا اتنا مشکل نہیں ہے جتنا چوہے کا شکار کرنا، کسی چوہے کو مارنا جُوئے شیر لانے سے کم نہیں ہے ۔ 

شیر کو مارنا بہت آسان ہے، بندوق اٹھائی جنگل میں گئے سامنے شیر آیا اب شیر آپ کو دیکھ کر  کونوں کھدروں میں نہیں چھُپے گا احمقوں کی طرح سیدھا آپ کی طرف آئے گا اور شیر کا جُثّہ بھی کوئی اتنا چھوٹا نہیں ہوتا کہ آپ کے پاؤں کے درمیان سے نکل بھاگے اور نا ہی وہ کونوں کھدروں میں چھُپ سکتا ہے، چنانچہ سامنے ایک لحیم شحیم شیر آیا آور آپ نے بندوق سے گولی چلا دی اور شیر ڈھیر ہو گیا اب آپ اس کے پاس کھڑے ہو کر بڑے شوق سے اپنی تصاویر بنوا سکتے ہیں ۔ 

مگر جناب چوہے کے ساتھ آپ یہ سب نہیں کر سکتے، یہ ہی وجہ ہے کہ چوہے کو مارنا ( زہر سے نہیں اپنے زورِ بازو سے ) مشکل ہی نہیں ناممکن بھی ہے اور یہ ناممکن کام ہم نے کر دکھایا اب یہ الگ بات ہے کہ اس مرے ہوئے چوہے کے ساتھ تصویر بنوانا ہم نے اپنی شان کے خلاف سمجھا ۔ 

ہوا یوں ہم محوِ استراحت تھے کہ اچانک بیگم کے شور مچانے کی آواز ہماری سماعتوں سے ٹکرائی، چوہا ، چوہا ، چوہا ، لیکن ہم نے اسے معمولی شور سمجھ کر نظر انداز کر دیا مگر جب بیگم اور بچے ہمارے سر پر آ کر کھڑے ہو گئے کہ چوہا گھس گیا گھر میں چوہا گھس گیا اسے مارو اسے مارو تو بحالتِ مجبوری ہمیں چوہا مار مہم شروع کرنی  پڑی ۔  

گھر کے تمام کمروں کے دروازے مضبوطی کے ساتھ بند کر دیے گئے رسوئی ( کچن ) کو بھی بالخصوص بند کیا گیا، بیگم نے جھاڑو اٹھائی ہم نے بھی جھاڑو اٹھائی بچوں نے ڈنڈے اٹھائے یعنی جس کے ہاتھ جو بھی ہتھیار لگا وہ اٹھالیا گیا ۔ 

ہتھیاروں سے مکمل لیس ہوکر اب چوہے کو ڈھونڈنے کا عمل شروع کیا گیا بالآخر وہ ہمیں ایک کونے میں دبکا نظر آ ہی گیا ، ہم دبے پاؤں محتاط انداز سے ہاتھ میں جھاڑو اٹھائے اس کی طرف بڑھے مگر جناب چوہا بھی بڑا کائیاں نکلا آخر ڈجیٹل دور کا چوہا تھا کوئی مذاق نہیں تھا ۔ وہ فوراً ہماری ٹانگوں کے بیچ سے ہوتا ہوا دوسرے کونے میں جا چھپا ۔ مارا کیوں نہیں، مارا کیوں نہیں؟ بیگم نے شور مچایا، ہم جھنجھلا گئے تم نے کیوں نہیں مارا مجھے الزام دے رہی ہو، اب بیگم نے اور بچوں نے ہمیں پیچھے چھوڑا اور خود چوہے پر حملہ آور ہوئے چوہا زخمی ہو کر پھر ہماری جانب آیا مگر مجال ہے جو ہم اسے خود کو چھونے بھی دیں ہم نے فوراً چھلانگ لگائی اور اُو، اُو کرتے ہوئے پینترا بدل کر خود کو بچایا، بیگم پھر دھاڑیں مارا کیوں نہیں مارا کیوں نہیں؟ اب اسے کون سمجھائے کہ بھئی جنگ میں دفاع کرنا بھی تو ایک آرٹ ہوتا ہے اور پھر یہ کہ ہم ٹھہرے ازل سے حد درجہ رحم دل اور شفیق انسان بھلا کسی جاندار کی جان لینا ہمارے بس میں کہاں ؟ 

وہ تو ہم نے بیگم کے حکم پر ہتھیار اٹھا لیے تھے مگر ہتھیار اٹھانا اور اسے استعمال کرنا دو الگ الگ چیزیں ہیں ۔ 

اب دیکھیں ناں دنیا میں کتنے ہی ملکوں کے پاس ایٹمی ہتھیار موجود ہیں جنہیں وہ اپنی مرضی سے استعمال بھی نہیں کر سکتے، بالکل اسی طرح ہم نے بھی بیگم پر رعب ڈالنے کے لیے چوہار مار ہتھیار اٹھالیے تھے ۔ 

چنانچہ ہم بھی بیگم کو دکھانے اور چوہے کو ڈرانے کے لیے اپنے ہاتھ میں پکڑی ہوئی جھاڑو زور زور سے زمین پر مارتے تھے کہ ابھی چوہا یہاں سے گزرا ہے ۔ 

اس ہڑبونگ میں چوہا بھی بھاگ بھاگ کر نڈھال ہو چکا تھا اور ہم الگ تھکان سے چور تھے، چوہے کو اور ہمیں بچنے کا کوئی راستہ نظر نہیں آرہا تھا چوہا زخمی بھی ہو چکا تھا آخر کار بچوں نے اور بیگم نے اسے گھیر لیا پھر کیا تھا بیگم نے اس بے چارے پر جھاڑو کے وہ وار کیے وہ وار کیے کہ چوہے کو مرنے کے سوا کچھ نہیں سوجھی اس پر بچوں نے بھی بہت ہاتھ بٹایا تھا ، ہمیں ترس تو بہت آیا مگر " مرے کو مارے شاہ مدار " کے مصداق ہم نے بیگم کا دل رکھنے کے لیے مرے ہوئے چوہے پر دو چار جھاڑو مار ہی دئے ۔ 

اور یوں ہمارا یہ سنہری حروف میں لکھا جانے والا کارنامہ اپنے انجام کو پہنچا ۔ 

چوہے کی لاش کو ٹھکانے لگانے کا مرحلہ بھی ہمیں ہی انجام دینا پڑا وہ یوں کہ پہلے چوہے کو جھاڑو پر رکھوایا گیا پھر آنکھیں بند کرکے خراماں خراماں دروازے کی جانب بڑھے دروازہ ہمارے حکم پر کھولا گیا پھر ایک نعرہء مستانہ مار کر ہم نے چوہے کو باہر سڑک پر پھینک دیا ۔ پھر اس کا کیا حشر ہوا یہ سب دیکھنے کا ہم میں حوصلہ نہیں تھا ۔ 

تحریر - غلام محمد وامِق محراب پور سندھ 

مورخہ 23 جون 2026ء بروز منگل


SHARE THIS
Previous Post
Next Post
Powered by Blogger.