قطعہ - بارش     -    غلام محمد وامِق =  ساون برستا رہتا ہے آکر جو دیکھیے ۔  دل باغ باغ ہوتا ہے خوش ہے نظر نظر ۔  دنیا کی بے حسی پہ ہے چشمِ فلک پر آب ۔  پھر بھی سکون ملتا ہے بارش کو دیکھ کر ۔  ــــــــــــــــــــــــــــــ  مفعول فاعلات مفاعیل فاعلن  مضارع مثمن اخرب مکفوف محذوف ۔  19 جولائی 2026ء اتوار

قطعہ - بارش - غلام محمد وامِق = ساون برستا رہتا ہے آکر جو دیکھیے ۔ دل باغ باغ ہوتا ہے خوش ہے نظر نظر ۔ دنیا کی بے حسی پہ ہے چشمِ فلک پر آب ۔ پھر بھی سکون ملتا ہے بارش کو دیکھ کر ۔ ــــــــــــــــــــــــــــــ مفعول فاعلات مفاعیل فاعلن مضارع مثمن اخرب مکفوف محذوف ۔ 19 جولائی 2026ء اتوار

 قطعہ - بارش 

       غلام محمد وامِق 


ساون برستا رہتا ہے آکر جو دیکھیے ۔ 

دل باغ باغ ہوتا ہے خوش ہے نظر نظر ۔ 

دنیا کی بے حسی پہ ہے چشمِ فلک پر آب ۔ 

پھر بھی سکون ملتا ہے بارش کو دیکھ کر ۔ 

ــــــــــــــــــــــــــــــ 

مفعول فاعلات مفاعیل فاعلن 

مضارع مثمن اخرب مکفوف محذوف ۔ 

19 جولائی 2026ء اتواب،


غزل= دامِ فریبِ عُم٘ر جو بھرپور ہو گیا ۔  دل سے بھی زندگی کا نشہ دور ہو گیا ۔   تیرے تو اختیار میں اِک سانس بھی نہیں ۔  پھر بھی اے میرے یار تُو مغرور ہو گیا ۔   ہے کارخانے دار تو محفوظ دیکھیے ۔  لیکن یہاں بے آسرا مزدور ہو گیا ۔   مہنگی ہوئی ہیں اِس قدر اشیائے خُوردونوش ۔  انسان چوری کرنے پہ مجبور ہو گیا ۔   یہ دور ہے فرنگیوں کے دور سے بُرا ۔  اب چور اپنا ملک بھی مشہور ہو گیا ۔   دیکھو نظامِ ظلم کو کب تک سہیں گے ہم ۔  پیمانہ صبر کا جو تھا بھرپور ہو گیا ۔   وامِق جو ہم نے پیار کا اظہار کر دیا ۔  نزدیک آتے آتے بھی وہ دور ہو گیا -                                 ------------------ مورخہ 25 جون 2026ء بروز جمعرات ۔

غزل= دامِ فریبِ عُم٘ر جو بھرپور ہو گیا ۔ دل سے بھی زندگی کا نشہ دور ہو گیا ۔ تیرے تو اختیار میں اِک سانس بھی نہیں ۔ پھر بھی اے میرے یار تُو مغرور ہو گیا ۔ ہے کارخانے دار تو محفوظ دیکھیے ۔ لیکن یہاں بے آسرا مزدور ہو گیا ۔ مہنگی ہوئی ہیں اِس قدر اشیائے خُوردونوش ۔ انسان چوری کرنے پہ مجبور ہو گیا ۔ یہ دور ہے فرنگیوں کے دور سے بُرا ۔ اب چور اپنا ملک بھی مشہور ہو گیا ۔ دیکھو نظامِ ظلم کو کب تک سہیں گے ہم ۔ پیمانہ صبر کا جو تھا بھرپور ہو گیا ۔ وامِق جو ہم نے پیار کا اظہار کر دیا ۔ نزدیک آتے آتے بھی وہ دور ہو گیا - ------------------ مورخہ 25 جون 2026ء بروز جمعرات ۔

 غزل 

شاعر - غلام محمد وامِق 


دامِ فریبِ عُم٘ر جو بھرپور ہو گیا ۔ 

دل سے بھی زندگی کا نشہ دور ہو گیا ۔ 


تیرے تو اختیار میں اِک سانس بھی نہیں ۔ 

پھر بھی اے میرے یار تُو مغرور ہو گیا ۔ 


ہے کارخانے دار تو محفوظ دیکھیے ۔ 

لیکن یہاں بے آسرا مزدور ہو گیا ۔ 


مہنگی ہوئی ہیں اِس قدر اشیائے خُوردونوش ۔ 

انسان چوری کرنے پہ مجبور ہو گیا ۔ 


یہ دور ہے فرنگیوں کے دور سے بُرا ۔ 

اب چور اپنا ملک بھی مشہور ہو گیا ۔ 


دیکھو نظامِ ظلم کو کب تک سہیں گے ہم ۔ 

پیمانہ صبر کا جو تھا بھرپور ہو گیا ۔ 


وامِق جو ہم نے پیار کا اظہار کر دیا ۔ 

نزدیک آتے آتے بھی وہ دور ہو گیا -         

                       ------------------

مورخہ 25 جون 2026ء بروز جمعرات ۔


قرآن کریم کی تلاوت سننا بہت اچھا عمل ہے لیکن قران کریم کو دیکھ کر اور سمجھ کر پڑھنا افضل ترین عمل ہے اور فرض ہے ۔  خیراندیش - غلام محمد وامِق

قرآن کریم کی تلاوت سننا بہت اچھا عمل ہے لیکن قران کریم کو دیکھ کر اور سمجھ کر پڑھنا افضل ترین عمل ہے اور فرض ہے ۔ خیراندیش - غلام محمد وامِق

 قرآن کریم کی تلاوت سننا بہت اچھا عمل ہے لیکن قران کریم کو دیکھ کر اور سمجھ کر پڑھنا افضل ترین عمل ہے اور فرض ہے ۔ 

خیراندیش - غلام محمد وامِق


ایک سوچ = میرا جسم میری مرضی=      تحریر - غلام محمد وامِق  -  میرا جِس٘م میری مرضی ، بالکل ٹھیک ۔  میری چیز پر میری ہی مرضی ہونی چاہیے ۔  میری چیز پر میرا ہی اختیار ہونا چاہیے ۔  لیکن کیا واقعی میرا جسم میرا ہے ؟  کیا میرے جسم پر میرا کچھ اختیار بھی ہے ؟  کیا یہ جسم مجھے میری مرضی سے مِلا ہے؟  کیا یہ شکل و صورت، یہ نقش و نین اور یہ رنگت مجھے میری مرضی سے ملے ہیں ؟  کیا میرے جسم میں تبدیلیاں میری مرضی سے آ رہی ہیں؟  کیا میں اپنے جسم میں ہونے والی قدرتی تبدیلیاں روک سکتا ہوں ؟  کیا میرا جسم میری مرضی سے بڑھ رہا ہے؟  کیا میرا جسم میری مرضی سے بوڑھا ہو رہا ہے؟  کیا میرا جسم میری مرضی سے بیمار ہوتا ہے ؟  کیا میرا جسم میری مرضی سے میرے خاندان یا میری قوم میں پیدا ہوا ہے؟  کیا میرا جسم میری مرضی سے میرے وطن یا میرے دیس میں پیدا ہوا ہے؟  کیا میرے جسم میں روح میری مرضی سے ڈالی گئی ہے؟  کیا میرے جسم سے روح میری مرضی سے نکالی جائے گی؟  اگر ایسا کچھ بھی نہیں ہے تو پھر میرا جسم ، میرا کیسے ہوا ؟ اور پھر اس پر میری مرضی کیسے چل سکتی ہے؟؟؟  لہٰذا جس نے یہ جسم بنایا ہے اس پر صرف اور صرف اُسی کی مرضی چلے گی ۔  اور پھر "  میں " ہوں کیا ؟  " میں " تو کچھ بھی نہیں ہوں ۔   بقولِ شاعر -  تیرے تو اختیار میں اِک سانس بھی نہیں ۔  پھر بھی اے میرے یار تُو مغرور ہو گیا ۔   ( وامِق )  خیر اندیش - غلام محمد وامِق محراب پور سندھ ۔

ایک سوچ = میرا جسم میری مرضی= تحریر - غلام محمد وامِق - میرا جِس٘م میری مرضی ، بالکل ٹھیک ۔ میری چیز پر میری ہی مرضی ہونی چاہیے ۔ میری چیز پر میرا ہی اختیار ہونا چاہیے ۔ لیکن کیا واقعی میرا جسم میرا ہے ؟ کیا میرے جسم پر میرا کچھ اختیار بھی ہے ؟ کیا یہ جسم مجھے میری مرضی سے مِلا ہے؟ کیا یہ شکل و صورت، یہ نقش و نین اور یہ رنگت مجھے میری مرضی سے ملے ہیں ؟ کیا میرے جسم میں تبدیلیاں میری مرضی سے آ رہی ہیں؟ کیا میں اپنے جسم میں ہونے والی قدرتی تبدیلیاں روک سکتا ہوں ؟ کیا میرا جسم میری مرضی سے بڑھ رہا ہے؟ کیا میرا جسم میری مرضی سے بوڑھا ہو رہا ہے؟ کیا میرا جسم میری مرضی سے بیمار ہوتا ہے ؟ کیا میرا جسم میری مرضی سے میرے خاندان یا میری قوم میں پیدا ہوا ہے؟ کیا میرا جسم میری مرضی سے میرے وطن یا میرے دیس میں پیدا ہوا ہے؟ کیا میرے جسم میں روح میری مرضی سے ڈالی گئی ہے؟ کیا میرے جسم سے روح میری مرضی سے نکالی جائے گی؟ اگر ایسا کچھ بھی نہیں ہے تو پھر میرا جسم ، میرا کیسے ہوا ؟ اور پھر اس پر میری مرضی کیسے چل سکتی ہے؟؟؟ لہٰذا جس نے یہ جسم بنایا ہے اس پر صرف اور صرف اُسی کی مرضی چلے گی ۔ اور پھر " میں " ہوں کیا ؟ " میں " تو کچھ بھی نہیں ہوں ۔ بقولِ شاعر - تیرے تو اختیار میں اِک سانس بھی نہیں ۔ پھر بھی اے میرے یار تُو مغرور ہو گیا ۔ ( وامِق ) خیر اندیش - غلام محمد وامِق محراب پور سندھ ۔

 ایک سوچ = میرا جسم میری مرضی= 

    تحریر - غلام محمد وامِق 


میرا جِس٘م میری مرضی ، بالکل ٹھیک ۔ 

میری چیز پر میری ہی مرضی ہونی چاہیے ۔ 

میری چیز پر میرا ہی اختیار ہونا چاہیے ۔ 

لیکن کیا واقعی میرا جسم میرا ہے ؟ 

کیا میرے جسم پر میرا کچھ اختیار بھی ہے ؟ 

کیا یہ جسم مجھے میری مرضی سے مِلا ہے؟ 

کیا یہ شکل و صورت، یہ نقش و نین اور یہ رنگت مجھے میری مرضی سے ملے ہیں ؟ 

کیا میرے جسم میں تبدیلیاں میری مرضی سے آ رہی ہیں؟ 

کیا میں اپنے جسم میں ہونے والی قدرتی تبدیلیاں روک سکتا ہوں ؟ 

کیا میرا جسم میری مرضی سے بڑھ رہا ہے؟ 

کیا میرا جسم میری مرضی سے بوڑھا ہو رہا ہے؟ 

کیا میرا جسم میری مرضی سے بیمار ہوتا ہے ؟ 

کیا میرا جسم میری مرضی سے میرے خاندان یا میری قوم میں پیدا ہوا ہے؟ 

کیا میرا جسم میری مرضی سے میرے وطن یا میرے دیس میں پیدا ہوا ہے؟ 

کیا میرے جسم میں روح میری مرضی سے ڈالی گئی ہے؟ 

کیا میرے جسم سے روح میری مرضی سے نکالی جائے گی؟ 

اگر ایسا کچھ بھی نہیں ہے تو پھر میرا جسم ، میرا کیسے ہوا ؟ اور پھر اس پر میری مرضی کیسے چل سکتی ہے؟؟؟ 

لہٰذا جس نے یہ جسم بنایا ہے اس پر صرف اور صرف اُسی کی مرضی چلے گی ۔ 

اور پھر "  میں " ہوں کیا ؟ 

" میں " تو کچھ بھی نہیں ہوں ۔ 


بقولِ شاعر - 

تیرے تو اختیار میں اِک سانس بھی نہیں ۔ 

پھر بھی اے میرے یار تُو مغرور ہو گیا ۔   ( وامِق )


خیر اندیش - غلام محمد وامِق محراب پور سندھ ۔


اپنے پرانے ادبی اوراق کی کانٹ چھانٹ کرتے ہوئے اس پرانے اخبار " حُرِّیَت " پر نظر پڑی تو پرانی یادیں تازہ ہو گئیں ۔ یہ اخبار مورخہ 14 اکتوبر سن 1983ء کا ہے، اس اخبار میں میرا سب سے پہلا مختصر سا انٹرویو اور تصویر شایع ہوئی تھی جوکہ ہمارے دوست اور اس زمانے کے معروف صحافی اور موجودہ دور کے معروف مترجم ، ادیب ، اور قلمکار " پروفیسر سلیم آکاش مغل " Aakash Mughal  نے کیا تھا ، اور اخبار کے اسی صفحے پر ہمارے اس زمانے کے دوست اور ریڈیو پاکستان کراچی کے کمپیئر مرزا یاسین بیگ کا تفصیلی انٹرویو بھی شایع ہوا تھا، مرزا یاسین بیگ Mirza Yasin Baig  اب کینیڈا  کے اردو ٹیلیویژن پر میزبانی کے فرائض انجام دے رہے ہیں ۔  یادش بخیر - غلام محمد وامِق

اپنے پرانے ادبی اوراق کی کانٹ چھانٹ کرتے ہوئے اس پرانے اخبار " حُرِّیَت " پر نظر پڑی تو پرانی یادیں تازہ ہو گئیں ۔ یہ اخبار مورخہ 14 اکتوبر سن 1983ء کا ہے، اس اخبار میں میرا سب سے پہلا مختصر سا انٹرویو اور تصویر شایع ہوئی تھی جوکہ ہمارے دوست اور اس زمانے کے معروف صحافی اور موجودہ دور کے معروف مترجم ، ادیب ، اور قلمکار " پروفیسر سلیم آکاش مغل " Aakash Mughal نے کیا تھا ، اور اخبار کے اسی صفحے پر ہمارے اس زمانے کے دوست اور ریڈیو پاکستان کراچی کے کمپیئر مرزا یاسین بیگ کا تفصیلی انٹرویو بھی شایع ہوا تھا، مرزا یاسین بیگ Mirza Yasin Baig اب کینیڈا کے اردو ٹیلیویژن پر میزبانی کے فرائض انجام دے رہے ہیں ۔ یادش بخیر - غلام محمد وامِق

 اپنے پرانے ادبی اوراق کی کانٹ چھانٹ کرتے ہوئے اس پرانے اخبار " حُرِّیَت " پر نظر پڑی تو پرانی یادیں تازہ ہو گئیں ۔ یہ اخبار مورخہ 14 اکتوبر سن 1983ء کا ہے، اس اخبار میں میرا سب سے پہلا مختصر سا انٹرویو اور تصویر شایع ہوئی تھی جوکہ ہمارے دوست اور اس زمانے کے معروف صحافی اور موجودہ دور کے معروف مترجم ، ادیب ، اور قلمکار " پروفیسر سلیم آکاش مغل " Aakash Mughal  نے کیا تھا ، اور اخبار کے اسی صفحے پر ہمارے اس زمانے کے دوست اور ریڈیو پاکستان کراچی کے کمپیئر مرزا یاسین بیگ کا تفصیلی انٹرویو بھی شایع ہوا تھا، مرزا یاسین بیگ Mirza Yasin Baig  اب کینیڈا  کے اردو ٹیلیویژن پر میزبانی کے فرائض انجام دے رہے ہیں ۔ 


یادش بخیر - غلام محمد وامِق

کوئی بھی دعا مانگنے سے پہلے اس بات کو مدِ نظر ضرور رکھنا چاہیے کہ دعا قانونِ فطرت کے خلاف اور شریعت کے خلاف نہ ہو ۔   خیراندیش - غلام محمد وامِق

کوئی بھی دعا مانگنے سے پہلے اس بات کو مدِ نظر ضرور رکھنا چاہیے کہ دعا قانونِ فطرت کے خلاف اور شریعت کے خلاف نہ ہو ۔ خیراندیش - غلام محمد وامِق

 کوئی بھی دعا مانگنے سے پہلے اس بات کو مدِ نظر ضرور رکھنا چاہیے کہ دعا قانونِ فطرت کے خلاف اور شریعت کے خلاف نہ ہو ۔ 


خیراندیش - غلام محمد وامِق

اگر آپ میں اخلاقیات ہیں تو آپ قابلِ تکریم اور معاشرے کے لیے ایک مفید انسان ہیں  ورنہ آپ کی بڑے سے بڑی ڈگری بھی کسی کام کی نہیں ۔ خیراندیش - غلام محمد وامِق

اگر آپ میں اخلاقیات ہیں تو آپ قابلِ تکریم اور معاشرے کے لیے ایک مفید انسان ہیں ورنہ آپ کی بڑے سے بڑی ڈگری بھی کسی کام کی نہیں ۔ خیراندیش - غلام محمد وامِق

 اگر آپ میں اخلاقیات ہیں تو آپ قابلِ تکریم اور معاشرے کے لیے ایک مفید انسان ہیں  ورنہ آپ کی بڑے سے بڑی ڈگری بھی کسی کام کی نہیں ۔

خیراندیش - غلام محمد وامِق


قطعہ - لوگوں کی نفسیات         شاعر - غلام محمد وامِق ۔   لوگوں کی نفسیات کا بس اک اصول ہے ۔  رشتہ مفاد کا تو کبھی توڑنا نہیں ۔  اوروں کا چاہے لاکھوں کا نقصان ہو تو ہو ۔  دھیلا ہمارا اپنا ہمیں چھوڑنا نہیں ۔  ــــــــــــــــــــــــــــــــــــ  مفعول فاعلات مفاعیل فاعلن  مضارع مثمن اخرب مکفوف محذوف  6 جولائی 2026ء بروز پیر

قطعہ - لوگوں کی نفسیات شاعر - غلام محمد وامِق ۔ لوگوں کی نفسیات کا بس اک اصول ہے ۔ رشتہ مفاد کا تو کبھی توڑنا نہیں ۔ اوروں کا چاہے لاکھوں کا نقصان ہو تو ہو ۔ دھیلا ہمارا اپنا ہمیں چھوڑنا نہیں ۔ ــــــــــــــــــــــــــــــــــــ مفعول فاعلات مفاعیل فاعلن مضارع مثمن اخرب مکفوف محذوف 6 جولائی 2026ء بروز پیر

 قطعہ - لوگوں کی نفسیات 

       شاعر - غلام محمد وامِق ۔ 


لوگوں کی نفسیات کا بس اک اصول ہے ۔ 

رشتہ مفاد کا تو کبھی توڑنا نہیں ۔ 

اوروں کا چاہے لاکھوں کا نقصان ہو تو ہو ۔ 

دھیلا ہمارا اپنا ہمیں چھوڑنا نہیں ۔ 

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 

مفعول فاعلات مفاعیل فاعلن 

مضارع مثمن اخرب مکفوف محذوف 

6 جولائی 2026ء بروز پیر


ھریانوی نظم - پاکستان -  شاعر - غلام محمد وامِق   پاکستان یُو مُلَک سَے مھارا ۔  اِس پَہ جیون دان ہے سارا ۔   کتنا سُندر وطن سَہ مھارا ۔  ھریانہ بی اِس پَہ واریا ۔   جو بی اِس نَیں بُرا کہوَے گا ۔  بے عِجتا وہ ہو کَے رھوَے گا ۔   اتنی پیاری دھرتی مھاری ۔  سونا چاندی ھیریاں آلی ۔  موسم اِس کے پیارے پیارے ۔  کھیت سمندر دریا سارے ۔   اللّٰہ کی ہر نعمت اِس مَیں ۔ ساری برکت رحمت اِس مَیں   آگَے دیکھ بَڈھانا سَہ یُو ۔  ٹھاڈا دیس بنانا سَہ یُو ۔   لاکھوں جاناں دے کَے بنایا ۔  بَیریاں تَے یُو ھام نَیں بچایا ۔   ھام نَیں اِس پَہ جان لُٹائی ۔  عِجّت کی بی باجی لائی ۔   پھیر بی ھام نَیں کَہوَیں پرایا ۔  کِتنا بَیری بَکھَت یُو آیا ۔   اِس کے نَیتا بنے بپاری ۔  دشمن گَلَّے اِن کی یاری ۔   بَیچ کَہ کھا گے مُلَک یُو سارا  کُھون سَدائے پِیوَیں مھارا ۔   وامِق ھِمّت کر کَہ دکھاؤ ۔  آپنا سارا مُلَک بچاؤ ۔  ـــــــــــــــــــــــــــــــــ۔  24 جون 2026ء بروز بدھ ۔

ھریانوی نظم - پاکستان - شاعر - غلام محمد وامِق پاکستان یُو مُلَک سَے مھارا ۔ اِس پَہ جیون دان ہے سارا ۔ کتنا سُندر وطن سَہ مھارا ۔ ھریانہ بی اِس پَہ واریا ۔ جو بی اِس نَیں بُرا کہوَے گا ۔ بے عِجتا وہ ہو کَے رھوَے گا ۔ اتنی پیاری دھرتی مھاری ۔ سونا چاندی ھیریاں آلی ۔ موسم اِس کے پیارے پیارے ۔ کھیت سمندر دریا سارے ۔ اللّٰہ کی ہر نعمت اِس مَیں ۔ ساری برکت رحمت اِس مَیں آگَے دیکھ بَڈھانا سَہ یُو ۔ ٹھاڈا دیس بنانا سَہ یُو ۔ لاکھوں جاناں دے کَے بنایا ۔ بَیریاں تَے یُو ھام نَیں بچایا ۔ ھام نَیں اِس پَہ جان لُٹائی ۔ عِجّت کی بی باجی لائی ۔ پھیر بی ھام نَیں کَہوَیں پرایا ۔ کِتنا بَیری بَکھَت یُو آیا ۔ اِس کے نَیتا بنے بپاری ۔ دشمن گَلَّے اِن کی یاری ۔ بَیچ کَہ کھا گے مُلَک یُو سارا کُھون سَدائے پِیوَیں مھارا ۔ وامِق ھِمّت کر کَہ دکھاؤ ۔ آپنا سارا مُلَک بچاؤ ۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــــ۔ 24 جون 2026ء بروز بدھ ۔

 ھریانوی نظم - پاکستان - 

شاعر - غلام محمد وامِق 


پاکستان یُو مُلَک سَے مھارا ۔ 

اِس پَہ جیون دان ہے سارا ۔ 


کتنا سُندر وطن سَہ مھارا ۔ 

ھریانہ بی اِس پَہ واریا ۔ 


جو بی اِس نَیں بُرا کہوَے گا ۔ 

بے عِجتا وہ ہو کَے رھوَے گا ۔ 


اتنی پیاری دھرتی مھاری ۔ 

سونا چاندی ھیریاں آلی ۔


موسم اِس کے پیارے پیارے ۔ 

کھیت سمندر دریا سارے ۔ 


اللّٰہ کی ہر نعمت اِس مَیں ۔

ساری برکت رحمت اِس مَیں 


آگَے دیکھ بَڈھانا سَہ یُو ۔ 

ٹھاڈا دیس بنانا سَہ یُو ۔ 


لاکھوں جاناں دے کَے بنایا ۔ 

بَیریاں تَے یُو ھام نَیں بچایا ۔ 


ھام نَیں اِس پَہ جان لُٹائی ۔ 

عِجّت کی بی باجی لائی ۔ 


پھیر بی ھام نَیں کَہوَیں پرایا ۔ 

کِتنا بَیری بَکھَت یُو آیا ۔ 


اِس کے نَیتا بنے بپاری ۔ 

دشمن گَلَّے اِن کی یاری ۔ 


بَیچ کَہ کھا گے مُلَک یُو سارا 

کُھون سَدائے پِیوَیں مھارا ۔ 


وامِق ھِمّت کر کَہ دکھاؤ ۔ 

آپنا سارا مُلَک بچاؤ ۔ 

ـــــــــــــــــــــــــــــــــ۔ 

24 جون 2026ء بروز بدھ ۔


نظم - سندھ ہماری  شاعر - غلام محمد وامِق   سندھ دھرتی ہے پیاری پیاری ۔ غیرت مند انسانوں والی ۔   سندھ کے لوگ محبّت والے ۔  مُخلِص اور مُرَوَّت والے ۔   ہم بھی اِس دھرتی کے بیٹے ۔  ہِمّت اور شُجاعت والے ۔   رِلّی، پٹکو ، اجرک ، ٹوپی ۔  کتنی سُندَر اپنے سندھ کی ۔   سُن کر دیکھو اِس کی کہانی ۔  کتنی ہے تہذیب پُرانی ۔   سُوندھی سُوندھی مِٹّی اِس کی ۔  خوشبو والی مِٹّی اِس کی ۔   کوڈر لے کر آئیں ھاری ۔ ھاری سے آئے ہریالی ۔   سندھ سے جِس کو پیار نہیں ہے ۔  وہ اپنا دلدار نہیں ہے ۔   عزّت شہرت سب کچھ لے لیں ۔  جان جو قرباں سندھ پر کردیں   وامِق جیئے سندھ ہمیشہ ۔  ہم ہیں اِس کے رِند ہمیشہ ۔  ـــــــــــــــــــــــــــــــــ  فعلن فعلن فعلن فعلن ۔  فعل فعولن فعلن فعلن ۔  فعلن فعلن فعل فعولن ۔  بحر- ہندی متقارب اثرم مقبوض محذوف ۔  26 جون 2026ء بروز جمعۃ المبارک ۔

نظم - سندھ ہماری شاعر - غلام محمد وامِق سندھ دھرتی ہے پیاری پیاری ۔ غیرت مند انسانوں والی ۔ سندھ کے لوگ محبّت والے ۔ مُخلِص اور مُرَوَّت والے ۔ ہم بھی اِس دھرتی کے بیٹے ۔ ہِمّت اور شُجاعت والے ۔ رِلّی، پٹکو ، اجرک ، ٹوپی ۔ کتنی سُندَر اپنے سندھ کی ۔ سُن کر دیکھو اِس کی کہانی ۔ کتنی ہے تہذیب پُرانی ۔ سُوندھی سُوندھی مِٹّی اِس کی ۔ خوشبو والی مِٹّی اِس کی ۔ کوڈر لے کر آئیں ھاری ۔ ھاری سے آئے ہریالی ۔ سندھ سے جِس کو پیار نہیں ہے ۔ وہ اپنا دلدار نہیں ہے ۔ عزّت شہرت سب کچھ لے لیں ۔ جان جو قرباں سندھ پر کردیں وامِق جیئے سندھ ہمیشہ ۔ ہم ہیں اِس کے رِند ہمیشہ ۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــــ فعلن فعلن فعلن فعلن ۔ فعل فعولن فعلن فعلن ۔ فعلن فعلن فعل فعولن ۔ بحر- ہندی متقارب اثرم مقبوض محذوف ۔ 26 جون 2026ء بروز جمعۃ المبارک ۔

 نظم - سندھ ہماری 

شاعر - غلام محمد وامِق 


سندھ دھرتی ہے پیاری پیاری ۔

غیرت مند انسانوں والی ۔ 


سندھ کے لوگ محبّت والے ۔ 

مُخلِص اور مُرَوَّت والے ۔ 


ہم بھی اِس دھرتی کے بیٹے ۔ 

ہِمّت اور شُجاعت والے ۔ 


رِلّی، پٹکو ، اجرک ، ٹوپی ۔ 

کتنی سُندَر اپنے سندھ کی ۔ 


سُن کر دیکھو اِس کی کہانی ۔ 

کتنی ہے تہذیب پُرانی ۔ 


سُوندھی سُوندھی مِٹّی اِس کی ۔ 

خوشبو والی مِٹّی اِس کی ۔ 


کوڈر لے کر آئیں ھاری ۔

ھاری سے آئے ہریالی ۔ 


سندھ سے جِس کو پیار نہیں ہے ۔ 

وہ اپنا دلدار نہیں ہے ۔ 


عزّت شہرت سب کچھ لے لیں ۔ 

جان جو قرباں سندھ پر کردیں 


وامِق جیئے سندھ ہمیشہ ۔ 

ہم ہیں اِس کے رِند ہمیشہ ۔ 

ـــــــــــــــــــــــــــــــــ 

فعلن فعلن فعلن فعلن ۔ 

فعل فعولن فعلن فعلن ۔ 

فعلن فعلن فعل فعولن ۔ 

بحر- ہندی متقارب اثرم مقبوض محذوف ۔ 

26 جون 2026ء بروز جمعۃ المبارک ۔


غزل = دامِ فریبِ عُم٘ر جو بھرپور ہو گیا ۔  دل سے بھی زندگی کا نشہ دور ہو گیا ۔   تیرے تو اختیار میں اِک سانس بھی نہیں ۔  پھر بھی اے میرے یار تُو مغرور ہو گیا ۔   ہے کارخانے دار تو محفوظ دیکھیے ۔  لیکن یہاں بے آسرا مزدور ہو گیا ۔   مہنگی ہوئی ہیں اِس قدر اشیائے خُوردونوش ۔  انسان چوری کرنے پہ مجبور ہو گیا ۔   یہ دور ہے فرنگیوں کے دور سے بُرا ۔  اب چور اپنا ملک بھی مشہور ہو گیا ۔   دیکھو نظامِ ظلم کو کب تک سہیں گے ہم ۔  پیمانہ صبر کا جو تھا بھرپور ہو گیا ۔   وامِق جو ہم نے پیار کا اظہار کر دیا ۔  نزدیک آتے آتے بھی وہ دور ہو گیا -                                 ------------------ مفعول فاعلات مفاعیل فاعلن  بحر - مضارع مثمن اخرب مکفوف محذوف ۔  مورخہ 25 جون 2026ء بروز جمعرات ۔

غزل = دامِ فریبِ عُم٘ر جو بھرپور ہو گیا ۔ دل سے بھی زندگی کا نشہ دور ہو گیا ۔ تیرے تو اختیار میں اِک سانس بھی نہیں ۔ پھر بھی اے میرے یار تُو مغرور ہو گیا ۔ ہے کارخانے دار تو محفوظ دیکھیے ۔ لیکن یہاں بے آسرا مزدور ہو گیا ۔ مہنگی ہوئی ہیں اِس قدر اشیائے خُوردونوش ۔ انسان چوری کرنے پہ مجبور ہو گیا ۔ یہ دور ہے فرنگیوں کے دور سے بُرا ۔ اب چور اپنا ملک بھی مشہور ہو گیا ۔ دیکھو نظامِ ظلم کو کب تک سہیں گے ہم ۔ پیمانہ صبر کا جو تھا بھرپور ہو گیا ۔ وامِق جو ہم نے پیار کا اظہار کر دیا ۔ نزدیک آتے آتے بھی وہ دور ہو گیا - ------------------ مفعول فاعلات مفاعیل فاعلن بحر - مضارع مثمن اخرب مکفوف محذوف ۔ مورخہ 25 جون 2026ء بروز جمعرات ۔

 غزل 

شاعر - غلام محمد وامِق 


دامِ فریبِ عُم٘ر جو بھرپور ہو گیا ۔ 

دل سے بھی زندگی کا نشہ دور ہو گیا ۔ 


تیرے تو اختیار میں اِک سانس بھی نہیں ۔ 

پھر بھی اے میرے یار تُو مغرور ہو گیا ۔ 


ہے کارخانے دار تو محفوظ دیکھیے ۔ 

لیکن یہاں بے آسرا مزدور ہو گیا ۔ 


مہنگی ہوئی ہیں اِس قدر اشیائے خُوردونوش ۔ 

انسان چوری کرنے پہ مجبور ہو گیا ۔ 


یہ دور ہے فرنگیوں کے دور سے بُرا ۔ 

اب چور اپنا ملک بھی مشہور ہو گیا ۔ 


دیکھو نظامِ ظلم کو کب تک سہیں گے ہم ۔ 

پیمانہ صبر کا جو تھا بھرپور ہو گیا ۔ 


وامِق جو ہم نے پیار کا اظہار کر دیا ۔ 

نزدیک آتے آتے بھی وہ دور ہو گیا -         

                       ------------------

مفعول فاعلات مفاعیل فاعلن 

بحر - مضارع مثمن اخرب مکفوف محذوف ۔ 

مورخہ 25 جون 2026ء بروز جمعرات ۔


نوکر ، مزدور اور کسان (کمّی کمین) کی اہمیت = 1.نوکر - اگر نوکر نہ ہو تو سارے اشرافیہ ذلیل ہو جائیں انہیں خود  کھانا پکانا پڑے ، جھاڑو لگانی پڑے ، گھر کی صفائی کرنی پڑے ، اپنے کپڑے خود دھونے پڑیں، گھر کا سودا سامان خود لانا پڑے ، اپنی گاڑی خود ڈرائیو کرنی پڑے اور دفاتر میں بھی سارے کام خود ہی کرنے پڑیں جو کہ ناممکن ہے  یعنی نوکر کے بغیر صاحب خود نوکر بن جائیں گے ۔  2. مزدور - اگر معاشرے سے مزدور کو نکال دیا جائے تو دنیا کی ساری معیشت تباہ ہو جائے ، کارخانے بند ہو جائیں ، تعمیرات ہونا رک جائیں ، صاحب لوگوں کو اپنا بوجھ خود اپنے کندھوں پر اٹھانا پڑے ، آمد و رفت رک جائے ، ٹرانسپورٹ بند ہو جائیں ، گھر بننا بند ہوجائیں لوگ غاروں میں رہنا شروع کردیں اگر گھر ہیں تو لوگ گھروں میں محصور ہو جائیں ، ضرورت اور روز مرہ کی اشیاء ملنا ناممکن ہو جائیں ، کپڑے بننا بند ہوجائیں لوگ اگھاڑے پھرنے پر مجبور ہو جائیں ، کھانا پانی تک ملنا محال ہو جائے اور دنیا کی ترقی مکمل طور پر رک جائے اور دنیا قدیم پتھر کے زمانے میں پہنچ جائے ۔  3. کسان - اگر دنیا سے کسانوں کو ختم کر دیا جائے تو ہر قسم کا اناج ، گندم ، چاول ، پھل ، سبزی ، ہر قسم کا تیل ، اور طرح طرح کی کھانے کی نعمتیں ملنا بند ہوجائیں ، کپاس اگنا بند ہو جائے گی تو کپڑے بننا اور اپنا تن ڈھانپنا بھی ناممکن ہو جائے گا یعنی قدیم زمانے کے لوگوں کی طرح لوگ اپنا جسم پتوں سے اور جانوروں کی کھالوں سے ڈھانپنے پر مجبور ہو جائیں گے ۔  بالفاظ دیگر اگر دنیا سے ان پسے ہوئے تینوں گھٹیا طبقات ( شودر ، دلت ، کمّی اور کمین سمجھے جانے والے) کو نکال دیا جائے تو پوری دنیا ہی کمّی کمین اور شودر بن جائے گی ۔ اور دینا کے عیاش حکمرانوں کی حکمرانی ختم ہو جائے گی۔  کیا خیال ہے آپ کا یہ گھٹیا سمجھے جانے والے لوگ دنیا کی بقا اور سلامتی کے لیے کس قدر ضروری ہیں ؟  خیر اندیش - غلام محمد وامِق

نوکر ، مزدور اور کسان (کمّی کمین) کی اہمیت = 1.نوکر - اگر نوکر نہ ہو تو سارے اشرافیہ ذلیل ہو جائیں انہیں خود کھانا پکانا پڑے ، جھاڑو لگانی پڑے ، گھر کی صفائی کرنی پڑے ، اپنے کپڑے خود دھونے پڑیں، گھر کا سودا سامان خود لانا پڑے ، اپنی گاڑی خود ڈرائیو کرنی پڑے اور دفاتر میں بھی سارے کام خود ہی کرنے پڑیں جو کہ ناممکن ہے یعنی نوکر کے بغیر صاحب خود نوکر بن جائیں گے ۔ 2. مزدور - اگر معاشرے سے مزدور کو نکال دیا جائے تو دنیا کی ساری معیشت تباہ ہو جائے ، کارخانے بند ہو جائیں ، تعمیرات ہونا رک جائیں ، صاحب لوگوں کو اپنا بوجھ خود اپنے کندھوں پر اٹھانا پڑے ، آمد و رفت رک جائے ، ٹرانسپورٹ بند ہو جائیں ، گھر بننا بند ہوجائیں لوگ غاروں میں رہنا شروع کردیں اگر گھر ہیں تو لوگ گھروں میں محصور ہو جائیں ، ضرورت اور روز مرہ کی اشیاء ملنا ناممکن ہو جائیں ، کپڑے بننا بند ہوجائیں لوگ اگھاڑے پھرنے پر مجبور ہو جائیں ، کھانا پانی تک ملنا محال ہو جائے اور دنیا کی ترقی مکمل طور پر رک جائے اور دنیا قدیم پتھر کے زمانے میں پہنچ جائے ۔ 3. کسان - اگر دنیا سے کسانوں کو ختم کر دیا جائے تو ہر قسم کا اناج ، گندم ، چاول ، پھل ، سبزی ، ہر قسم کا تیل ، اور طرح طرح کی کھانے کی نعمتیں ملنا بند ہوجائیں ، کپاس اگنا بند ہو جائے گی تو کپڑے بننا اور اپنا تن ڈھانپنا بھی ناممکن ہو جائے گا یعنی قدیم زمانے کے لوگوں کی طرح لوگ اپنا جسم پتوں سے اور جانوروں کی کھالوں سے ڈھانپنے پر مجبور ہو جائیں گے ۔ بالفاظ دیگر اگر دنیا سے ان پسے ہوئے تینوں گھٹیا طبقات ( شودر ، دلت ، کمّی اور کمین سمجھے جانے والے) کو نکال دیا جائے تو پوری دنیا ہی کمّی کمین اور شودر بن جائے گی ۔ اور دینا کے عیاش حکمرانوں کی حکمرانی ختم ہو جائے گی۔ کیا خیال ہے آپ کا یہ گھٹیا سمجھے جانے والے لوگ دنیا کی بقا اور سلامتی کے لیے کس قدر ضروری ہیں ؟ خیر اندیش - غلام محمد وامِق

 نوکر ، مزدور اور کسان (کمّی کمین) کی اہمیت 

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1.نوکر - اگر نوکر نہ ہو تو سارے اشرافیہ ذلیل ہو جائیں انہیں خود  کھانا پکانا پڑے ، جھاڑو لگانی پڑے ، گھر کی صفائی کرنی پڑے ، اپنے کپڑے خود دھونے پڑیں، گھر کا سودا سامان خود لانا پڑے ، اپنی گاڑی خود ڈرائیو کرنی پڑے اور دفاتر میں بھی سارے کام خود ہی کرنے پڑیں جو کہ ناممکن ہے  یعنی نوکر کے بغیر صاحب خود نوکر بن جائیں گے ۔ 

2. مزدور - اگر معاشرے سے مزدور کو نکال دیا جائے تو دنیا کی ساری معیشت تباہ ہو جائے ، کارخانے بند ہو جائیں ، تعمیرات ہونا رک جائیں ، صاحب لوگوں کو اپنا بوجھ خود اپنے کندھوں پر اٹھانا پڑے ، آمد و رفت رک جائے ، ٹرانسپورٹ بند ہو جائیں ، گھر بننا بند ہوجائیں لوگ غاروں میں رہنا شروع کردیں اگر گھر ہیں تو لوگ گھروں میں محصور ہو جائیں ، ضرورت اور روز مرہ کی اشیاء ملنا ناممکن ہو جائیں ، کپڑے بننا بند ہوجائیں لوگ اگھاڑے پھرنے پر مجبور ہو جائیں ، کھانا پانی تک ملنا محال ہو جائے اور دنیا کی ترقی مکمل طور پر رک جائے اور دنیا قدیم پتھر کے زمانے میں پہنچ جائے ۔ 

3. کسان - اگر دنیا سے کسانوں کو ختم کر دیا جائے تو ہر قسم کا اناج ، گندم ، چاول ، پھل ، سبزی ، ہر قسم کا تیل ، اور طرح طرح کی کھانے کی نعمتیں ملنا بند ہوجائیں ، کپاس اگنا بند ہو جائے گی تو کپڑے بننا اور اپنا تن ڈھانپنا بھی ناممکن ہو جائے گا یعنی قدیم زمانے کے لوگوں کی طرح لوگ اپنا جسم پتوں سے اور جانوروں کی کھالوں سے ڈھانپنے پر مجبور ہو جائیں گے ۔ 

بالفاظ دیگر اگر دنیا سے ان پسے ہوئے تینوں گھٹیا طبقات ( شودر ، دلت ، کمّی اور کمین سمجھے جانے والے) کو نکال دیا جائے تو پوری دنیا ہی کمّی کمین اور شودر بن جائے گی ۔ اور دینا کے عیاش حکمرانوں کی حکمرانی ختم ہو جائے گی۔ 

کیا خیال ہے آپ کا یہ گھٹیا سمجھے جانے والے لوگ دنیا کی بقا اور سلامتی کے لیے کس قدر ضروری ہیں ؟ 

خیر اندیش - غلام محمد وامِق


नौकर, मजदूर और किसान (कम्मी कमीन) की अहमियत
​1. नौकर - अगर नौकर न हो तो सारे अशराफिया ज़लील हो जाएं उन्हें खुद खाना पकाना पड़े, झाड़ू लगानी पड़े, घर की सफाई करनी पड़े, अपने कपड़े खुद धोने पड़ें, घर का सौदा सामान खुद लाना पड़े, अपनी गाड़ी खुद ड्राइव करनी पड़े और दफ़ातर में भी सारे काम खुद ही करने पड़ें जो कि नामुमकिन है यानी नौकर के बगैर साहब खुद नौकर बन जाएंगे।
​2. मजदूर - अगर मुआशरे (समाज) से मजदूर को निकाल दिया जाए तो दुनिया की सारी मयीशत (अर्थव्यवस्था) तबाह हो जाए, कारखाने बंद हो जाएं, तामीरात (निर्माण) होना रुक जाएं, साहब लोगों को अपना बोझ खुद अपने कंधों पर उठाना पड़े, आमद-ओ-रफ्त रुक जाए, ट्रांसपोर्ट बंद हो जाएं, घर बनना बंद हो जाएं लोग ग़ारों (गुफ़ाओं) में रहना शुरू कर दें अगर घर हैं तो लोग घरों में महसूर (कैद) हो जाएं, ज़रूरत और रोज़मर्रा की अशिया (वस्तुएं) मिलना नामुमकिन हो जाएं, कपड़े बनना बंद हो जाएं लोग उघाड़े (नग्न) फिरने पर मजबूर हो जाएं, खाना पानी तक मिलना महाल (मुश्किल) हो जाए और दुनिया की तरक्की मुकम्मल तौर पर रुक जाए और दुनिया कदीम (प्राचीन) पत्थर के ज़माने में पहुंच जाए।
​3. किसान - अगर दुनिया से किसानों को खत्म कर दिया जाए तो हर किस्म का अनाज, गंदम (गेहूं), चावल, फल, सब्जी, हर किस्म का तेल, और तरह-तरह की खाने की नेमतें मिलना बंद हो जाएं, कपास उगना बंद हो जाएगी तो कपड़े बनना और अपना तन ढांपना भी नामुमकिन हो जाएगा यानी कदीम ज़माने के लोगों की तरह लोग अपना जिस्म पत्तों से और जानवरों की खालों से ढांपने पर मजबूर हो जाएंगे।
​बिल्फाज़-ए-दीगर (दूसरे शब्दों में) अगर दुनिया से इन पिसे हुए तीनों घटिया तबकात (शूद्र, दलित, कम्मी और कमीन समझे जाने वाले) को निकाल दिया जाए तो पूरी दुनिया ही कम्मी कमीन और शूद्र बन जाएगी। और दुनिया के अय्याश हुक्मरानों की हुक्मरानी खत्म हो जाएगी।
​क्या ख्याल है आपका यह घटिया समझे जाने वाले लोग दुनिया की बका (अस्तित्व) और सलामती के लिए किस कदर ज़रूरी हैं?
​खैर अंदेश - गुलाम मोहम्मद वामिक़ पाकिस्तान ( सिंध )
Powered by Blogger.