نظم - سندھ ہماری
شاعر - غلام محمد وامِق
سندھ دھرتی ہے پیاری پیاری ۔
غیرت مند انسانوں والی ۔
سندھ کے لوگ محبّت والے ۔
مُخلِص اور مُرَوَّت والے ۔
ہم بھی اِس دھرتی کے بیٹے ۔
ہِمّت اور شُجاعت والے ۔
رِلّی، پٹکو ، اجرک ، ٹوپی ۔
کتنی سُندَر اپنے سندھ کی ۔
سُن کر دیکھو اِس کی کہانی ۔
کتنی ہے تہذیب پُرانی ۔
سُوندھی سُوندھی مِٹّی اِس کی ۔
خوشبو والی مِٹّی اِس کی ۔
کوڈر لے کر آئیں ھاری ۔
ھاری سے آئے ہریالی ۔
سندھ سے جِس کو پیار نہیں ہے ۔
وہ اپنا دلدار نہیں ہے ۔
عزّت شہرت سب کچھ لے لیں ۔
جان جو قرباں سندھ پر کردیں
وامِق جیئے سندھ ہمیشہ ۔
ہم ہیں اِس کے رِند ہمیشہ ۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــ
فعلن فعلن فعلن فعلن ۔
فعل فعولن فعلن فعلن ۔
فعلن فعلن فعل فعولن ۔
بحر- ہندی متقارب اثرم مقبوض محذوف ۔
26 جون 2026ء بروز جمعۃ المبارک ۔
