ایک سوچ = میرا جسم میری مرضی=
تحریر - غلام محمد وامِق
میرا جِس٘م میری مرضی ، بالکل ٹھیک ۔
میری چیز پر میری ہی مرضی ہونی چاہیے ۔
میری چیز پر میرا ہی اختیار ہونا چاہیے ۔
لیکن کیا واقعی میرا جسم میرا ہے ؟
کیا میرے جسم پر میرا کچھ اختیار بھی ہے ؟
کیا یہ جسم مجھے میری مرضی سے مِلا ہے؟
کیا یہ شکل و صورت، یہ نقش و نین اور یہ رنگت مجھے میری مرضی سے ملے ہیں ؟
کیا میرے جسم میں تبدیلیاں میری مرضی سے آ رہی ہیں؟
کیا میں اپنے جسم میں ہونے والی قدرتی تبدیلیاں روک سکتا ہوں ؟
کیا میرا جسم میری مرضی سے بڑھ رہا ہے؟
کیا میرا جسم میری مرضی سے بوڑھا ہو رہا ہے؟
کیا میرا جسم میری مرضی سے بیمار ہوتا ہے ؟
کیا میرا جسم میری مرضی سے میرے خاندان یا میری قوم میں پیدا ہوا ہے؟
کیا میرا جسم میری مرضی سے میرے وطن یا میرے دیس میں پیدا ہوا ہے؟
کیا میرے جسم میں روح میری مرضی سے ڈالی گئی ہے؟
کیا میرے جسم سے روح میری مرضی سے نکالی جائے گی؟
اگر ایسا کچھ بھی نہیں ہے تو پھر میرا جسم ، میرا کیسے ہوا ؟ اور پھر اس پر میری مرضی کیسے چل سکتی ہے؟؟؟
لہٰذا جس نے یہ جسم بنایا ہے اس پر صرف اور صرف اُسی کی مرضی چلے گی ۔
اور پھر " میں " ہوں کیا ؟
" میں " تو کچھ بھی نہیں ہوں ۔
بقولِ شاعر -
تیرے تو اختیار میں اِک سانس بھی نہیں ۔
پھر بھی اے میرے یار تُو مغرور ہو گیا ۔ ( وامِق )
خیر اندیش - غلام محمد وامِق محراب پور سندھ ۔
