قطعہ - بارش
غلام محمد وامِق
ساون برستا رہتا ہے آکر جو دیکھیے ۔
دل باغ باغ ہوتا ہے خوش ہے نظر نظر ۔
دنیا کی بے حسی پہ ہے چشمِ فلک پر آب ۔
پھر بھی سکون ملتا ہے بارش کو دیکھ کر ۔
ــــــــــــــــــــــــــــــ
مفعول فاعلات مفاعیل فاعلن
مضارع مثمن اخرب مکفوف محذوف ۔
19 جولائی 2026ء اتواب،
