💎واقعہ کربلا میں ایک پرسرار کردار نظر آتا ہے جسے راوی لکھا اور بولا جاتا ہے💎
🌳سیدنا محمد رسول اللہ کی وفات 632ء (11 ھ) کو ہوئی۔
واقعہ کربلا 680 ء(61 ھ) کو وقوع پزیر ہوا یعنی سیدنا محمد رسول اللہ کی وفات کے تقریبا" 50 سال بعد ۔
سیدنا زین العابدین(659ء – 713 ء) (38ھ-95ھ)جو کہ سیدناحسین کے بیٹے اور ابو مخنف کے مطابق کربلا کے عینی شاہد وںمیں سے ہیں ،ان سے منسوب متعدد کتب ہیں اور ان میں سے کسی بھی کتاب میں کربلا کے متعلق کوئی واقعہ یا قصہ درج نہیں۔
👈امام ابو حنیفہ(699ء -767ء)(80ھ-150ھ) نے واقعہ کربلا پر کچھ ارشاد نہیں فرمایا۔ اس واقعہ میں بہت سے فقہی پہلو بھی ہیں مثلا نماز خوف یا جابر حکمران کے خلاف کب جہاد فرض ہو جاتا ہے اور بہت سے چھوٹے بڑے مسائل ہیں۔
👈امام مالک ( 93ھ - 179 ھ) کی مرتب شدہ ، سلسلہ تدوین حدیث کی اولین کتاب "موطا امام مالک" میں واقعہ کربلا سے مطلق کوئی روایت موجودنہیں ہے۔
👈سنی کتب کے علاوہ اگرشیعہ کی کتابوں کودیکھا جائے ، تو مسند امام زید ابن علی جو کے سیدنا حسین کے پوتے ہیں ، کی کتاب نظر آتی ہے۔ مگر اس میں بھی اس واقعہ کربلا سے مطلق کوئی روایت یا فقہی بحث موجود نہیں ۔جبکہ اس کتاب میں جنگ نهروان (جو کہ سیدناعلی اور خوارج کے درمیان ہوئی) کا ذکر اور نماز خوف میں اس پر بحث کی گئی ہے.
👈69 ہجری میں(یعنی واقعہ کربلا سے تقریبا"8 سال بعد) مختار سقفی نے" توابون" کے نام سے ایک تحریک شروع کی ،
وہ بھی سیدنا حسین کی مبینہ شہادت کو لے کر شروع کی۔ تاہم اس کہانی کو موصل (عراق)کے قریب نینوا کے ارد گرد بنایا گیا اور
🚨 سیدنا حسین کو شہید نینوا کے طور پر مشہور کیا گیا. شہید نینوا کی کہانی کیونکہ صرف سیدنا حسین کی ذاتی شہادت سے متعلق تھی اور اس میں عورتوں اور بچوں کا ذکر نہیں تھا ، لہذا یہ کہانی عوامی پذیرائی اور جذباتیت کا وہ سیلاب پیدا کرنے میں ناکام رہی جس مقصد کے لئے اسے گھڑا گیا تھا۔
👈170 ہجری کو(یعنی واقعہ کربلا سے 110 سال یعنی دو نسلوں بعد) ابو مخنف (لوط بن یحییٰ)نے ایک کتاب " مقتل حسین " کے نام سے لکھی، جوکہ واقعہ کربلا پر پہلی کتاب سمجھی جاتی ہے۔ اس کتاب میں ابو مخنف نے اسی کہانی میں عورتوں اور بچوں کے کردار داخل کئے تاکہ جذباتیت اور فتنہ گری پیدا کی جاسکے۔ اور کہانی کا مرکز موصل نینوا (عراق) سے منتقل کر کےکربلا (جس کا اصل نام کربغا تھا) کی طرف کر دیا۔ تاہم شہید نینوا سے وہ بھی جان نہ چھڑا سکا اور کربلا کا ہی دوسرا نام نینوا رکھ دیا، جبکہ نینوا اور کربلا کے درمیان ٦٠٠ کلومیٹر سے بھی زیادہ کا فاصلہ ہے۔
📌 تقریبا" نصف صدی بعد جب مورخ طبری(224 ھ- 310 ھ) نے ابو مخنف کی کتاب کو جب اپنی"تاریخ طبری "کا حصہ بنا دیا . تبھی ابو مخنف کے اس افسانے کو شہرت ملی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ( منقول )
