ھریانوی غزل = چاند پہ مانس چلے گئے پر دلاں مَیں بسنا بھول گئے ۔  انٹرنیٹ پہ رھن لاگ گے گھراں میں رھنا بھول گئے ۔   ایک بگڑ مَیں سویا کردے مِل کَے نَیں سب بھائی بھائی ۔  بنگلے گاڈی سب نَیں لے لی مِلنا جُلنا بھول گئے ۔   دیکھو بَڈیاں کی عِجَت آلا دور تو کَد کا چلیا گیا ۔  اِب تو چھوٹے ، بَڈیاں کَے گلَّے بات بی کرنا بھول گئے ۔   پنکھ پکھیرو اُڈن لاگ رے، ھام جو لالچ مَیں آئے ۔  اِسے پھنسے ھاں جال مَیں آ کَے، دانہ چُگنا بھول گئے ۔   مَن کا دریا چُپ سا ہوگیا کوئے بی اِس مَیں شور نہیں ۔  پیار کی لہراں کا وہ دریا، سُندر سپنا بھول گئے ۔   ڈاکو کیوکر بن گیا وہ، مجدور جو بالَک پالَے تھا ۔  قاضی جی نَیں سب کچھ پوچھا، پر اتنا پوچھنا بھول گئے ۔   بَکھت بڑا اے جالم سَے یُو، وامِق سوچ ریا سَے کے ؟  بُڈّے ہوگے ٹھاٹھ باٹھ تَے رھنا سھنا بھول گئے ۔  ـــــــــــــــــــــــــــــــــــ  بحر - ہندی متقارب مثمن مضاعف ۔  مورخہ 25 جولائی 2025 ء کو کہی گئی غزل ۔۔۔

ھریانوی غزل = چاند پہ مانس چلے گئے پر دلاں مَیں بسنا بھول گئے ۔ انٹرنیٹ پہ رھن لاگ گے گھراں میں رھنا بھول گئے ۔ ایک بگڑ مَیں سویا کردے مِل کَے نَیں سب بھائی بھائی ۔ بنگلے گاڈی سب نَیں لے لی مِلنا جُلنا بھول گئے ۔ دیکھو بَڈیاں کی عِجَت آلا دور تو کَد کا چلیا گیا ۔ اِب تو چھوٹے ، بَڈیاں کَے گلَّے بات بی کرنا بھول گئے ۔ پنکھ پکھیرو اُڈن لاگ رے، ھام جو لالچ مَیں آئے ۔ اِسے پھنسے ھاں جال مَیں آ کَے، دانہ چُگنا بھول گئے ۔ مَن کا دریا چُپ سا ہوگیا کوئے بی اِس مَیں شور نہیں ۔ پیار کی لہراں کا وہ دریا، سُندر سپنا بھول گئے ۔ ڈاکو کیوکر بن گیا وہ، مجدور جو بالَک پالَے تھا ۔ قاضی جی نَیں سب کچھ پوچھا، پر اتنا پوچھنا بھول گئے ۔ بَکھت بڑا اے جالم سَے یُو، وامِق سوچ ریا سَے کے ؟ بُڈّے ہوگے ٹھاٹھ باٹھ تَے رھنا سھنا بھول گئے ۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــ بحر - ہندی متقارب مثمن مضاعف ۔ مورخہ 25 جولائی 2025 ء کو کہی گئی غزل ۔۔۔

 ھریانوی غزل 

غلام محمد وامِق 


چاند پہ مانس چلے گئے پر دلاں مَیں بسنا بھول گئے ۔ 

انٹرنیٹ پہ رھن لاگ گے گھراں میں رھنا بھول گئے ۔ 


ایک بگڑ مَیں سویا کردے مِل کَے نَیں سب بھائی بھائی ۔ 

بنگلے گاڈی سب نَیں لے لی مِلنا جُلنا بھول گئے ۔ 


دیکھو بَڈیاں کی عِجَت آلا دور تو کَد کا چلیا گیا ۔ 

اِب تو چھوٹے ، بَڈیاں کَے گلَّے بات بی کرنا بھول گئے ۔ 


پنکھ پکھیرو اُڈن لاگ رے، ھام جو لالچ مَیں آئے ۔ 

اِسے پھنسے ھاں جال مَیں آ کَے، دانہ چُگنا بھول گئے ۔ 


مَن کا دریا چُپ سا ہوگیا کوئے بی اِس مَیں شور نہیں ۔ 

پیار کی لہراں کا وہ دریا، سُندر سپنا بھول گئے ۔ 


ڈاکو کیوکر بن گیا وہ، مجدور جو بالَک پالَے تھا ۔ 

قاضی جی نَیں سب کچھ پوچھا، پر اتنا پوچھنا بھول گئے ۔ 


بَکھت بڑا اے جالم سَے یُو، وامِق سوچ ریا سَے کے ؟ 

بُڈّے ہوگے ٹھاٹھ باٹھ تَے رھنا سھنا بھول گئے ۔ 

ـــــــــــــــــــــــــــــــــــ 

بحر - ہندی متقارب مثمن مضاعف ۔ 

مورخہ 25 جولائی 2025 ء کو کہی گئی غزل ۔۔۔


हरियाणवी ग़ज़ल 

ग़ुलाम मुहम्मद वामिक़


चांद प मांणस चले गऐ पर दिलां मं बसणा भूल गये।

इंटरनेट प रहण लाग गे घरां मं रहणा भूल गये। 


एक बगड़ मं सोया कर्दे मिल क नं सब भाई भाई। 

बंग्ले गाडी सब नं लेली , मिलणा जुलणा भूल गये। 


देखो बडियां कि इजत आला दोर   तो कद का चल्या गया।

इब तो छोटे, बडियां क गल्ल बात बि करणा भूल गये। 


पंख पखेरु उडण लाग रे, हाम जो लालच मं आए । 

इसे फंसे हां जाल मं आ क, दाणा चुगणा भूल गये। 


मन का दरिया चुप सा होगया कोए बि इस मं शोर नही। 

पियार कि लहरां का वो दरिया, सुन्दर सपना भूल गये। 


डाकू कियु कर बण गया वो, मजदूर जो बालक पा ल था। 

क़ाज़ी जि नं सब कुछ पुछा, पर इतना पुछणा भूल गये। 


बख्त बड़ा ए जालिम स उ, वामिक़ सोच रया स के ? 

बुड्डे होगे ठाठ बाठ त रहणा सहणा भूल गये। 

____________________ 

बहर - हिंदी मुतक़ारब मुसम्मन मुज़ाइफ़ 

25 जुलाई 2025 को कही ग ई ग़ज़ल।


===   غزل=  تجھ سے ہرگز نہیں غافِل ٹھہرے ۔  پھر بھی ہم ہی ہیں کہ سنگ دِل ٹھہرے ۔   جدّتِ علم کے جو ہیں وارث ۔  کیا تماشا ہے کہ جاہِل ٹھہرے ۔   زہر پیتے ہیں جو سچ کی خاطر ۔  ہائے سقراط وہ باطِل ٹھہرے ۔   پکڑا قاتل نہیں جا سکتا کبھی ۔  جب کہ قاتِل ہی جو عادِل ٹھہرے ۔   ہاں ڈبونے کو مجھے دریا میں ۔  جو بھی تھے ساتھ وہ ساحل ٹھہرے ۔   جن کو کہتے تھے کبھی سب پاگل ۔  عہدِ کم ظرف میں عاقل ٹھہرے ۔   زندگی کی جو دعا دیتے ہیں ۔  دیکھ وامِق ! وہی قاتل ٹھہرے ۔  ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔  فاعلاتن فَعِلاتن فِعلن ۔   بحر۔ رمل مسدس مخبون محذوف مسکن ۔  شاعر۔ غلام محمد وامِق ۔  8 جون سال 2024ء کو کہی گئی ۔

=== غزل= تجھ سے ہرگز نہیں غافِل ٹھہرے ۔ پھر بھی ہم ہی ہیں کہ سنگ دِل ٹھہرے ۔ جدّتِ علم کے جو ہیں وارث ۔ کیا تماشا ہے کہ جاہِل ٹھہرے ۔ زہر پیتے ہیں جو سچ کی خاطر ۔ ہائے سقراط وہ باطِل ٹھہرے ۔ پکڑا قاتل نہیں جا سکتا کبھی ۔ جب کہ قاتِل ہی جو عادِل ٹھہرے ۔ ہاں ڈبونے کو مجھے دریا میں ۔ جو بھی تھے ساتھ وہ ساحل ٹھہرے ۔ جن کو کہتے تھے کبھی سب پاگل ۔ عہدِ کم ظرف میں عاقل ٹھہرے ۔ زندگی کی جو دعا دیتے ہیں ۔ دیکھ وامِق ! وہی قاتل ٹھہرے ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ فاعلاتن فَعِلاتن فِعلن ۔ بحر۔ رمل مسدس مخبون محذوف مسکن ۔ شاعر۔ غلام محمد وامِق ۔ 8 جون سال 2024ء کو کہی گئی ۔

 ===   غزل   === 

           غلام محمد وامِق  


تجھ سے ہرگز نہیں غافِل ٹھہرے ۔ 

پھر بھی ہم ہی ہیں کہ سنگ دِل ٹھہرے ۔ 


جدّتِ علم کے جو ہیں وارث ۔ 

کیا تماشا ہے کہ جاہِل ٹھہرے ۔ 


زہر پیتے ہیں جو سچ کی خاطر ۔ 

ہائے سقراط وہ باطِل ٹھہرے ۔ 


پکڑا قاتل نہیں جا سکتا کبھی ۔ 

جب کہ قاتِل ہی جو عادِل ٹھہرے ۔ 


ہاں ڈبونے کو مجھے دریا میں ۔ 

جو بھی تھے ساتھ وہ ساحل ٹھہرے ۔ 


جن کو کہتے تھے کبھی سب پاگل ۔ 

عہدِ کم ظرف میں عاقل ٹھہرے ۔ 


زندگی کی جو دعا دیتے ہیں ۔ 

دیکھ وامِق ! وہی قاتل ٹھہرے ۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 

فاعلاتن فَعِلاتن فِعلن ۔ 

 بحر۔ رمل مسدس مخبون محذوف مسکن ۔ 

شاعر۔ غلام محمد وامِق ۔ 

8 جون سال 2024ء کو کہی گئی ۔


کربلا میں شہید ہونے والے 72 شہیدوں کے نام ۔۔۔ لیکن سند نامعلوم ہے ۔ سچ یا جھوٹ اللّٰہ تعالیٰ جانتا ہے ۔

کربلا میں شہید ہونے والے 72 شہیدوں کے نام ۔۔۔ لیکن سند نامعلوم ہے ۔ سچ یا جھوٹ اللّٰہ تعالیٰ جانتا ہے ۔

 کربلا میں شہید ہونے والے 72 شہیدوں کے نام ۔ لیکن اس کی سند نامعلوم ہے ۔ سچ یا جھوٹ اللّٰہ تعالیٰ ہی جانتا ہے ۔ 

غلام محمد وامِق محراب پور سندھ ۔


رسول اللّٰہ کی اپنی نواسی  " امامہ بنت ابوالعاص" ( حضرت بی بی زینب رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا کی بیٹی ) سے محبت کا عالم ۔۔۔ ملاحظہ فرمائیں ۔ ان احادیث کو شاید ہی کوئی عالِم بیان کرتا ہو ۔  صحیح البخاری ۔ حدیث نمبر - 516  النسائی ۔ حدیث نمبر - 712  سُنن ابن ماجہ ۔ حدیث نمبر - 3644

رسول اللّٰہ کی اپنی نواسی " امامہ بنت ابوالعاص" ( حضرت بی بی زینب رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا کی بیٹی ) سے محبت کا عالم ۔۔۔ ملاحظہ فرمائیں ۔ ان احادیث کو شاید ہی کوئی عالِم بیان کرتا ہو ۔ صحیح البخاری ۔ حدیث نمبر - 516 النسائی ۔ حدیث نمبر - 712 سُنن ابن ماجہ ۔ حدیث نمبر - 3644

 رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم ، کی اپنی نواسی  " امامہ بنت ابوالعاص" ( حضرت بی بی زینب رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا کی بیٹی ) سے محبت کا عالم ۔۔۔ ملاحظہ فرمائیں ۔

ان احادیث کو شاید ہی کوئی عالِم بیان کرتا ہو ۔ 

صحیح البخاری ۔ حدیث نمبر - 516 

النسائی ۔ حدیث نمبر - 712 

سُنن ابن ماجہ ۔ حدیث نمبر - 3644




مغیث و بریرہ  ( ایک سادہ مگر معنی خیز قصہ )  ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔  بہت سی روایات احادیث کے مطابق، حضرت مغیث اور ان کی بیوی " بریرہ " مدینہ کے ایک یہودی کے غلام تھے ، دونوں مسلمان ہو چکے تھے ، اس لئے ان کا مالک ان پر تشدد کرتا تھا، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہ صدیقہ سے فرمایا کہ تم بریرہ کو خرید لو ۔ چنانچہ بی بی عائشہ رضہ نے بریرہ کو خرید لیا، اور کچھ عرصے بعد اسے آزاد کردیا، لیکن بریرہ پھر بھی حضرت عائشہ صدیقہ کی خدمت میں ہی رہی ۔ لیکن اس کا شوہر مغیث ابھی بھی غلام ہی تھا تو اس لئے شریعت کے مطابق ان کا نکاح فسخ ہو چکا تھا ۔ لیکن اگر آزاد بیوی چاہے تو اس نکاح کو برقرار رکھ سکتی تھی اور اپنے شوہر کے پاس جا سکتی تھی ۔  مگر بریرہ نے اپنے شوہر کی طرف واپس رجوع کرنا مناسب نہیں سمجھا اور قطع تعلق کر لیا ۔  اب بریرہ جب بھی سودا سلف لانے کے لئے بازار جاتیں تو، مغیث اس کے پیچھے پیچھے روتا ہوا چلتا رہتا اور اسے واپس رجوع کرنے کے لئے التجا کرتا رہتا تھا ۔  یہ صورتحال دیکھ کر حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے صحابہ سے فرمایا کہ کیا تم نے کبھی ایسا شوہر دیکھا ہے جو اپنی بیوی کے لئے اس قدر روتا ہو اور پیچھے پیچھے پھرتا ہو ؟ ۔  اور بریرہ سے بھی کہا کہ تم مغیث سے رجوع کر لو ۔  بریرہ نے پوچھا کہ یا رسول اللہ ، کیا یہ آپ کا حکم ہے ؟  اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں ۔ یہ حکم نہیں بلکہ سفارش ہے ، یا میرا مشورہ ہے ۔  اس پر بریرہ نے کہا تو پھر میرا دل مغیث کے پاس واپس جانے کو نہیں کرتا ۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہوگئے ۔ یاد رہے کہ مغیث کالے رنگ کا حبشی غلام تھا ۔   تحریر ۔ غلام محمد وامق ، محراب پور سندھ ۔  تاریخ ۔ 16 ستمبر سال 2023ء ۔ بروز ہفتہ ۔

مغیث و بریرہ ( ایک سادہ مگر معنی خیز قصہ ) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بہت سی روایات احادیث کے مطابق، حضرت مغیث اور ان کی بیوی " بریرہ " مدینہ کے ایک یہودی کے غلام تھے ، دونوں مسلمان ہو چکے تھے ، اس لئے ان کا مالک ان پر تشدد کرتا تھا، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہ صدیقہ سے فرمایا کہ تم بریرہ کو خرید لو ۔ چنانچہ بی بی عائشہ رضہ نے بریرہ کو خرید لیا، اور کچھ عرصے بعد اسے آزاد کردیا، لیکن بریرہ پھر بھی حضرت عائشہ صدیقہ کی خدمت میں ہی رہی ۔ لیکن اس کا شوہر مغیث ابھی بھی غلام ہی تھا تو اس لئے شریعت کے مطابق ان کا نکاح فسخ ہو چکا تھا ۔ لیکن اگر آزاد بیوی چاہے تو اس نکاح کو برقرار رکھ سکتی تھی اور اپنے شوہر کے پاس جا سکتی تھی ۔ مگر بریرہ نے اپنے شوہر کی طرف واپس رجوع کرنا مناسب نہیں سمجھا اور قطع تعلق کر لیا ۔ اب بریرہ جب بھی سودا سلف لانے کے لئے بازار جاتیں تو، مغیث اس کے پیچھے پیچھے روتا ہوا چلتا رہتا اور اسے واپس رجوع کرنے کے لئے التجا کرتا رہتا تھا ۔ یہ صورتحال دیکھ کر حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے صحابہ سے فرمایا کہ کیا تم نے کبھی ایسا شوہر دیکھا ہے جو اپنی بیوی کے لئے اس قدر روتا ہو اور پیچھے پیچھے پھرتا ہو ؟ ۔ اور بریرہ سے بھی کہا کہ تم مغیث سے رجوع کر لو ۔ بریرہ نے پوچھا کہ یا رسول اللہ ، کیا یہ آپ کا حکم ہے ؟ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں ۔ یہ حکم نہیں بلکہ سفارش ہے ، یا میرا مشورہ ہے ۔ اس پر بریرہ نے کہا تو پھر میرا دل مغیث کے پاس واپس جانے کو نہیں کرتا ۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہوگئے ۔ یاد رہے کہ مغیث کالے رنگ کا حبشی غلام تھا ۔ تحریر ۔ غلام محمد وامق ، محراب پور سندھ ۔ تاریخ ۔ 16 ستمبر سال 2023ء ۔ بروز ہفتہ ۔

 مغیث و بریرہ  ( ایک سادہ مگر معنی خیز قصہ ) 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 

بہت سی روایات احادیث کے مطابق، حضرت مغیث اور ان کی بیوی " بریرہ " مدینہ کے ایک یہودی کے غلام تھے ، دونوں مسلمان ہو چکے تھے ، اس لئے ان کا مالک ان پر تشدد کرتا تھا، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہ صدیقہ سے فرمایا کہ تم بریرہ کو خرید لو ۔ چنانچہ بی بی عائشہ رضہ نے بریرہ کو خرید لیا، اور کچھ عرصے بعد اسے آزاد کردیا، لیکن بریرہ پھر بھی حضرت عائشہ صدیقہ کی خدمت میں ہی رہی ۔ لیکن اس کا شوہر مغیث ابھی بھی غلام ہی تھا تو اس لئے شریعت کے مطابق ان کا نکاح فسخ ہو چکا تھا ۔ لیکن اگر آزاد بیوی چاہے تو اس نکاح کو برقرار رکھ سکتی تھی اور اپنے شوہر کے پاس جا سکتی تھی ۔ 

مگر بریرہ نے اپنے شوہر کی طرف واپس رجوع کرنا مناسب نہیں سمجھا اور قطع تعلق کر لیا ۔ 

اب بریرہ جب بھی سودا سلف لانے کے لئے بازار جاتیں تو، مغیث اس کے پیچھے پیچھے روتا ہوا چلتا رہتا اور اسے واپس رجوع کرنے کے لئے التجا کرتا رہتا تھا ۔ 

یہ صورتحال دیکھ کر حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے صحابہ سے فرمایا کہ کیا تم نے کبھی ایسا شوہر دیکھا ہے جو اپنی بیوی کے لئے اس قدر روتا ہو اور پیچھے پیچھے پھرتا ہو ؟ ۔ 

اور بریرہ سے بھی کہا کہ تم مغیث سے رجوع کر لو ۔ 

بریرہ نے پوچھا کہ یا رسول اللہ ، کیا یہ آپ کا حکم ہے ؟ 

اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں ۔ یہ حکم نہیں بلکہ سفارش ہے ، یا میرا مشورہ ہے ۔ 

اس پر بریرہ نے کہا تو پھر میرا دل مغیث کے پاس واپس جانے کو نہیں کرتا ۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہوگئے ۔ یاد رہے کہ مغیث کالے رنگ کا حبشی غلام تھا ۔ 


تحریر ۔ غلام محمد وامق ، محراب پور سندھ ۔ 

تاریخ ۔ 16 ستمبر سال 2023ء ۔ بروز ہفتہ ۔




رسالہ سہ ماہی " فروغ کراچی " جولائی تا ستمبر 2025ء میں چھپنے والی میری غزل ۔۔۔   غزل  غلام محمد وامِق   عجب یہ زندگی میں دیکھیے آزار ہوتا ہے ۔  جسے اپنا سمجھتے ہیں وہی غدّار ہوتا ہے ۔   بہت مانوس جس سے ہوتے ہیں مُخلِص سمجھتے ہیں ۔  وہی انسان اکثر دیکھیے مکاّر ہوتا ہے ۔   سُہانی سیج ہی سمجھا تھا ہم نے یہ جہاں لیکن ۔  ہُوا معلوم یہ کانٹوں بھرا سنسار ہوتا ہے ۔   بہت غُنڈا بھی ہو بدمعاش بھی ہو اور ہو بدنام ۔  نظامِ ظُلم میں وہ آدمی سردار ہوتا ہے ۔   شریف النّفس ہو جو آدمی اور بے ضَرر بھی ہو ۔  ہمارے ملک میں وہ شخص ہی بے کار ہوتا ہے ۔   حقیقت اپنی کیا ہے دوستو گر جان لیں ہم یہ ۔  یہ ہی وہ علم ہے جو اِک بڑا اَسرار ہوتا ہے ۔  ہمارے سامنے وامِق ہمارے عیب جو کھولے ۔  ہماری آنکھ میں وہ شخص ہی بس خار ہوتا ہے ۔  ـــــــــــــــــــــــــــــــ  شاعر - غلام محمد وامِق ۔ محراب پور سندھ ۔

رسالہ سہ ماہی " فروغ کراچی " جولائی تا ستمبر 2025ء میں چھپنے والی میری غزل ۔۔۔ غزل غلام محمد وامِق عجب یہ زندگی میں دیکھیے آزار ہوتا ہے ۔ جسے اپنا سمجھتے ہیں وہی غدّار ہوتا ہے ۔ بہت مانوس جس سے ہوتے ہیں مُخلِص سمجھتے ہیں ۔ وہی انسان اکثر دیکھیے مکاّر ہوتا ہے ۔ سُہانی سیج ہی سمجھا تھا ہم نے یہ جہاں لیکن ۔ ہُوا معلوم یہ کانٹوں بھرا سنسار ہوتا ہے ۔ بہت غُنڈا بھی ہو بدمعاش بھی ہو اور ہو بدنام ۔ نظامِ ظُلم میں وہ آدمی سردار ہوتا ہے ۔ شریف النّفس ہو جو آدمی اور بے ضَرر بھی ہو ۔ ہمارے ملک میں وہ شخص ہی بے کار ہوتا ہے ۔ حقیقت اپنی کیا ہے دوستو گر جان لیں ہم یہ ۔ یہ ہی وہ علم ہے جو اِک بڑا اَسرار ہوتا ہے ۔ ہمارے سامنے وامِق ہمارے عیب جو کھولے ۔ ہماری آنکھ میں وہ شخص ہی بس خار ہوتا ہے ۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــ شاعر - غلام محمد وامِق ۔ محراب پور سندھ ۔







 رسالہ سہ ماہی " فروغ کراچی " جولائی تا ستمبر 2025ء میں چھپنے والی میری غزل ۔۔۔ 


غزل 

غلام محمد وامِق 


عجب یہ زندگی میں دیکھیے آزار ہوتا ہے ۔ 

جسے اپنا سمجھتے ہیں وہی غدّار ہوتا ہے ۔ 


بہت مانوس جس سے ہوتے ہیں مُخلِص سمجھتے ہیں ۔ 

وہی انسان اکثر دیکھیے مکاّر ہوتا ہے ۔ 


سُہانی سیج ہی سمجھا تھا ہم نے یہ جہاں لیکن ۔ 

ہُوا معلوم یہ کانٹوں بھرا سنسار ہوتا ہے ۔ 


بہت غُنڈا بھی ہو بدمعاش بھی ہو اور ہو بدنام ۔ 

نظامِ ظُلم میں وہ آدمی سردار ہوتا ہے ۔ 


شریف النّفس ہو جو آدمی اور بے ضَرر بھی ہو ۔ 

ہمارے ملک میں وہ شخص ہی بے کار ہوتا ہے ۔ 


حقیقت اپنی کیا ہے دوستو گر جان لیں ہم یہ ۔ 

یہ ہی وہ علم ہے جو اِک بڑا اَسرار ہوتا ہے ۔


ہمارے سامنے وامِق ہمارے عیب جو کھولے ۔ 

ہماری آنکھ میں وہ شخص ہی بس خار ہوتا ہے ۔ 

ـــــــــــــــــــــــــــــــ 

شاعر - غلام محمد وامِق ۔

محراب پور سندھ ۔

Powered by Blogger.