غزل = دامِ فریبِ عُم٘ر جو بھرپور ہو گیا ۔ دل سے بھی زندگی کا نشہ دور ہو گیا ۔ تیرے تو اختیار میں اِک سانس بھی نہیں ۔ پھر بھی اے میرے یار تُو مغرور ہو گیا ۔ ہے کارخانے دار تو محفوظ دیکھیے ۔ لیکن یہاں بے آسرا مزدور ہو گیا ۔ مہنگی ہوئی ہیں اِس قدر اشیائے خُوردونوش ۔ انسان چوری کرنے پہ مجبور ہو گیا ۔ یہ دور ہے فرنگیوں کے دور سے بُرا ۔ اب چور اپنا ملک بھی مشہور ہو گیا ۔ دیکھو نظامِ ظلم کو کب تک سہیں گے ہم ۔ پیمانہ صبر کا جو تھا بھرپور ہو گیا ۔ وامِق جو ہم نے پیار کا اظہار کر دیا ۔ نزدیک آتے آتے بھی وہ دور ہو گیا - ------------------ مفعول فاعلات مفاعیل فاعلن بحر - مضارع مثمن اخرب مکفوف محذوف ۔ مورخہ 25 جون 2026ء بروز جمعرات ۔

 غزل 

شاعر - غلام محمد وامِق 


دامِ فریبِ عُم٘ر جو بھرپور ہو گیا ۔ 

دل سے بھی زندگی کا نشہ دور ہو گیا ۔ 


تیرے تو اختیار میں اِک سانس بھی نہیں ۔ 

پھر بھی اے میرے یار تُو مغرور ہو گیا ۔ 


ہے کارخانے دار تو محفوظ دیکھیے ۔ 

لیکن یہاں بے آسرا مزدور ہو گیا ۔ 


مہنگی ہوئی ہیں اِس قدر اشیائے خُوردونوش ۔ 

انسان چوری کرنے پہ مجبور ہو گیا ۔ 


یہ دور ہے فرنگیوں کے دور سے بُرا ۔ 

اب چور اپنا ملک بھی مشہور ہو گیا ۔ 


دیکھو نظامِ ظلم کو کب تک سہیں گے ہم ۔ 

پیمانہ صبر کا جو تھا بھرپور ہو گیا ۔ 


وامِق جو ہم نے پیار کا اظہار کر دیا ۔ 

نزدیک آتے آتے بھی وہ دور ہو گیا -         

                       ------------------

مفعول فاعلات مفاعیل فاعلن 

بحر - مضارع مثمن اخرب مکفوف محذوف ۔ 

مورخہ 25 جون 2026ء بروز جمعرات ۔



SHARE THIS
Previous Post
Next Post
Powered by Blogger.