Showing posts with label آؤ ‏پھر ‏چاکِ ‏گریباں ‏کا ‏تماشا ‏دیکھیں ‏ـ ‏غزل ‏ـ ‏غلام ‏محمد ‏وامِق ‏ـ ‏. Show all posts
Showing posts with label آؤ ‏پھر ‏چاکِ ‏گریباں ‏کا ‏تماشا ‏دیکھیں ‏ـ ‏غزل ‏ـ ‏غلام ‏محمد ‏وامِق ‏ـ ‏. Show all posts
 آؤ پھر چاکِ گریباں کا تماشا دیکھیں ـ پھر وہی دشتِ جنوں، درد کا صحرا دیکھیں ـ   آؤ دیکھیں کہ چمن میں ہیں نئے پھول کھلے ـ اور ٹوٹے ہوئے پھولوں کا سسکنا دیکھیں ۔۔۔   بڑھتے کیوں رہتے ہیں طوفانِ بلاخیز یہاں؟ ـ بحرِ ظلمات کا ہم چیر کے سینہ دیکھیں ـ۔۔   کاش آئے مرے بچپن کا زمانہ پھر سے ۔۔۔  پھر وہی ہاتھ میں تختی، وہی بستہ دیکھیں ـ  یہ عجب شوقِ ملاقات کا عالَم ہے کہ ہم ـ جس قدر تم سے ملیں، شوق کو بڑھتا دیکھیں ـ  ایک ہی شکل بسی ہے یوں دل و جان میں اب ـ تم نہیں ہو تو کوئی دوسرا تم سا دیکھیں ـ   تجھ سے مِل کر یہ ہی الجھن رہی اکثر ہم کو ـ گفتگو تجھ سے کریں، یا تیرا چہرہ دیکھیں ـ   کوئی وامِق کا نہیں، دوست یہاں پر شاید ـ جب بھی دیکھیں تو اسے شہر میں تنہا دیکھیں ـ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ   فاعلاتن فَعِلاتن فَعِلاتن فِعلن ۔  فاعلاتن فَعِلاتن فَعِلاتن فَعِلن ۔  بحر ۔ رمل مثمن مخبون محذوف مقطوع  === ۔ رمل مثمن سالم مخبون محذوف ۔  مارچ 1985ء، میں کہی گئی غزل ... شاعر ۔ غلام محمد وامق محراب پور سندھ ۔

آؤ پھر چاکِ گریباں کا تماشا دیکھیں ـ پھر وہی دشتِ جنوں، درد کا صحرا دیکھیں ـ آؤ دیکھیں کہ چمن میں ہیں نئے پھول کھلے ـ اور ٹوٹے ہوئے پھولوں کا سسکنا دیکھیں ۔۔۔ بڑھتے کیوں رہتے ہیں طوفانِ بلاخیز یہاں؟ ـ بحرِ ظلمات کا ہم چیر کے سینہ دیکھیں ـ۔۔ کاش آئے مرے بچپن کا زمانہ پھر سے ۔۔۔ پھر وہی ہاتھ میں تختی، وہی بستہ دیکھیں ـ یہ عجب شوقِ ملاقات کا عالَم ہے کہ ہم ـ جس قدر تم سے ملیں، شوق کو بڑھتا دیکھیں ـ ایک ہی شکل بسی ہے یوں دل و جان میں اب ـ تم نہیں ہو تو کوئی دوسرا تم سا دیکھیں ـ تجھ سے مِل کر یہ ہی الجھن رہی اکثر ہم کو ـ گفتگو تجھ سے کریں، یا تیرا چہرہ دیکھیں ـ کوئی وامِق کا نہیں، دوست یہاں پر شاید ـ جب بھی دیکھیں تو اسے شہر میں تنہا دیکھیں ـ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ فاعلاتن فَعِلاتن فَعِلاتن فِعلن ۔ فاعلاتن فَعِلاتن فَعِلاتن فَعِلن ۔ بحر ۔ رمل مثمن مخبون محذوف مقطوع === ۔ رمل مثمن سالم مخبون محذوف ۔ مارچ 1985ء، میں کہی گئی غزل ... شاعر ۔ غلام محمد وامق محراب پور سندھ ۔

=====  غــــزل  ===== 
      غلام محمد وام

آؤ پھر چاکِ گریباں کا تماشا دیکھیں ـ
پھر وہی دشتِ جنوں، درد کا صحرا دیکھیں ـ 

آؤ دیکھیں کہ چمن میں ہیں نئے پھول کھلے ـ
اور ٹوٹے ہوئے پھولوں کا سسکنا دیکھیں ۔۔۔ 

بڑھتے کیوں رہتے ہیں طوفانِ بلاخیز یہاں؟ ـ
بحرِ ظلمات کا ہم چیر کے سینہ دیکھیں ـ۔۔ 

کاش آئے مرے بچپن کا زمانہ پھر سے ۔۔۔ 
پھر وہی ہاتھ میں تختی، وہی بستہ دیکھیں ـ

یہ عجب شوقِ ملاقات کا عالَم ہے کہ ہم ـ
جس قدر تم سے ملیں، شوق کو بڑھتا دیکھیں ـ

ایک ہی شکل بسی ہے یوں دل و جان میں اب ـ
تم نہیں ہو تو کوئی دوسرا تم سا دیکھیں ـ 

تجھ سے مِل کر یہ ہی الجھن رہی اکثر ہم کو ـ
گفتگو تجھ سے کریں، یا تیرا چہرہ دیکھیں ـ 

کوئی وامِق کا نہیں، دوست یہاں پر شاید ـ
جب بھی دیکھیں تو اسے شہر میں تنہا دیکھیں ـ
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ  
فاعلاتن فَعِلاتن فَعِلاتن فِعلن ۔ 
فاعلاتن فَعِلاتن فَعِلاتن فَعِلن ۔ 
بحر ۔ رمل مثمن مخبون محذوف مقطوع 
=== ۔ رمل مثمن سالم مخبون محذوف ۔ 
مارچ 1985ء، میں کہی گئی غزل ...
شاعر ۔ غلام محمد وامق محراب پور سندھ ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 
Powered by Blogger.