اسلام کے شہیدِ اعظم کا ذکر کیوں نہیں ؟
شماس بن عثمان مخزومی کون تھا ؟ کیا آپ جانتے ہیں، شاید نہیں جانتے ۔ آخر ہمارے واعظین و مقرّرین ان کا ذکر اپنے بیانوں میں کیوں نہیں کرتے ؟ اگر کبھی کس نے ذکر کیا بھی ہے تو اتنا نہیں کیا جتنا کہ اُن کا حق ہے ۔
غزوہء اُحد کا وہ ہولناک منظر یاد کریں جب چند صحابہ کی ذرا سی نافرمانی یا غفلت کے باعث، وہ کفّارِ مکہ جوکہ شکست کھا کر بھاگ رہے تھے واپس پلٹ کر آئے اور مالِ غنیمت اکٹھا کرتے ہوئے مسلمانوں پر اچانک دھاوا بول دیا جس کے باعث تمام مسلمان سنبھل نہ سکے اور میدانِ اُحد میں اِدھر اُدھر منتشر ہوگئے ۔ دشمنوں نے میدان صاف دیکھ کر رسول اللّٰہ پر تابڑ توڑ حملے کرنا شروع کر دیے، ایسے نازک حالات میں صرف حضرت شماس بن عثمان ہی تھے جو کہ ڈھال بن رسول اکرم کے ارد گرد گھومنے لگے دشمنوں کے تیروں اور نیزوں کو اپنے سینے اور جسم پر روکتے رہے اور مقابلہ کرتے رہے، رسول اللّٰہ جب زخمی ہو کر گر پڑے تو ایک اور جنگجو مسلمان خاتون " حضرت اُمِ عمارہ " نے آپ رسولِ اکرم پر جھک کر انہیں ڈھانپ لیا اور رسول اللّٰہ کی طرف آنے والے تمام وار اپنے جسم پر برداشت کیے ۔ افسوس کہ اُمِ عمارہ کا بھی کبھی کسی ممبر پر ذکر نہیں کیا جاتا ۔
اسی دوران رسول اللہ کے ہم شکل صحابی "حضرت مُصعب بن عمیر " کو دشمنوں نے شہید کر دیا اور اس خوش فہمی میں واپس چلے گئے کہ ہم نے اپنا مقصد حاصل کر لیا یعنی نعوذباللہ رسول اللہ کو ختم کر دیا ۔
حملے بند ہوئے تو رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو ایک گھاٹی" شِعبِ اُحد " میں لے جایا گیا جہاں پر سیّدہ فاطمہ الزہرا اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے آپ کے چہرے کو پانی سے صاف کیا اور کھجور کی چٹائی جلا کر اس کی راکھ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے زخموں کو بھرا، رسول اللّٰہ کے دانت مبارک بھی شہید ہو گئے تھے اور چہرہ مبارک میں خود کی کڑیاں گھس گئی تھیں جنہیں حضرت ابو عبیدہ بن الجراح نے اپنے دانتوں سے پکڑ کر ایک ایک کر کے نکالا جس کے نتیجے میں حضرت ابو عبیدہ کے اپنے دانت بھی ٹوٹ گئے تھے ۔
حضرت شماس بن عثمان نے رسول اللّٰہ کا دفاع کرتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر اپنی جان نچھاور کر دی ۔
غزوہء احد میں 70 جلیل القدر صحابہ شہید ہوئے ۔
تحریر و تحقیق= غلام محمد وامِق محراب پور سندھ ۔
19 جون 2026ء مطابق 03 محرم الحرام 1448ھ ۔
بروز جمعۃ المبارک ۔
