اسٹیشن = کہتے ہیں جب گیدڑ کی شامت آتی ہے تو وہ شہر کا رخ کرتا ہے ، اور شہر بھی لاہور جس کے باشندوں کا دعویٰ ہے کہ جس نے لاہور نہیں دیکھا وہ ابھی پیدا ہی نہیں ہوا ( جنے لہور نئیں ویکھیا او جمیا ای نئیں ) بالفاظِ دیگر کسی کی پیدائش کا سرٹیفیکیٹ نادرا کا سرٹیفیکیٹ نہیں لاہور کی ٹکیٹ ہو گئی ۔ تو جناب ہم نے بھی راولپنڈی سے محراب پور واپسی کے لیے ریل کا ٹکیٹ لینے کے بجائے بذریعہ بس لاہور کا ٹکیٹ خرید لیا ، ان دنوں موٹر وے نام کی کسی چیز کا کوئی وجود نہیں تھا یہ غالباً سال 1995-96 کا زمانہ تھا ۔ نئی نئی ایئر کنڈیشنڈ بسیں چلی تھیں جن میں وی سی آر پر انڈین فلموں سے بھی مسافروں کو محظوظ کیا جاتا تھا، یہ ہی سب کچھ سوچ کر ہم نے براستہ لاہور محراب پور سندھ واپسی کا ارادہ کر لیا اور بس میں سوار ہو گئے میرا ایک ہمسفر بھی تھا جسے راستے میں لاہور سے پہلے کسی مقام پر اترنا تھا ، بس بہت آرام دہ تھی مزید لطف یہ کہ وی سی آر پر انڈین فلم " کرن ارجن" چلادی گئی تھی جو کہ ان دنوں نئی نئی ریلیز ہوئی تھی ۔ راستے میں میرا ہم سفر بھی لاہور سے کچھ مسافت پہلے اپنی منزل پر اتر گیا اور جاتے جاتے بس کنڈکٹر کو خاص تاکید کرتا گیا کہ وہ مجھے یاد کر کے اسٹیشن پر اتار دے ( یعنی لاہور اسٹیشن پر) وی سی آر پر اب کوئی دوسری مووی چلا دی گئی تھی لہٰذا وقت گزرنے کا احساس تک نہ ہوا کہ اچانک کنڈکٹر کی آواز نے چونکا دیا کہ باؤ جی اترو اسٹیشن آگیا میں نے باہر کی طرف دیکھا شام ہو چلی تھی مگر مجھے لاہور اسٹیشن کے آثار کہیں نظر نہیں آئے تو پوچھا کہ ادھر تو کوئی اسٹیشن نظر نہیں آ رہا ؟ تو کنڈکٹر نے کہا کہ جناب آپ اتریں تو سہی تھوڑا سا آگے چلو گے تو اسٹیشن بھی نظر آجائے گا ، میں بڑا پریشان کہ یا الٰہی یہ ماجرا کیا ہے ، لاہور اسٹیشن کوئی ماچس کی ڈبیہ تو نہیں کہ آگے چل کر نظر آجائے گا ۔ خیر میں نے اپنا مختصر سا بیگ اٹھایا اور حیران پریشان نظروں سے باہر دیکھتے ہوئے بس سے اتر گیا تو بس فوراً چل دی ۔ وہاں پر موجود لوگوں سے دریافت کیا کہ بھائی جی اسٹیشن کدھر ہے ؟ تو ایک نیم پختہ سی سڑک کی طرف اشارہ کر کے بتایا کہ اس پر چلتے جائیں یہ سیدھا اسٹیشن جائے گی ۔ بات سمجھ سے باہر ہوتی جا رہی تھی کہ لاہور اسٹیشن ہے یا کسی گاؤں کا بس اڈہ ہے ؟ بہرحال مرتا کیا نہ کرتا سڑک پر چل پڑا وہ سڑک ویران و سنسان تھی دونوں طرف جھاڑیاں تھیں جس کے باعث خوف کی سرد سی لہر پورے جسم میں پھیلتی جا رہی تھی ۔ دس پندرہ منٹ پیدل چلنے کے بعد ریلوے لائن کے آثار نظر آئے ، تھوڑا آگے چلا تو ایک اسٹیشن بھی نظر آگیا ، اسٹیشن کا نام پڑھا تو لکھا تھا " شاہدرہ " وہاں سے فوراً پسپائی اختیار کی اندھیرا پھیلتا جا رہا تھا ، واپس بس اسٹاپ پر آکر وہاں پر موجود لوگوں سے اپنی پریشانی بیان کی تو انہوں نے بتایا کہ جناب لاہور تو ابھی بہت آگے ہے یہ اسٹاپ تو شاہدرہ اسٹیشن کا ہے ۔ اور اس اسٹاپ کو اسٹیشن کے نام سے ہی پکارا جاتا ہے ۔ اب نہیں معلوم اس سارے مسئلے میں قصوروار کون تھا مگر میں اب درمیان میں پھنس چکا تھا وہاں سے کوئی بھی بس مُجھے لاہور تک پہنچانے کے لیے آمادہ نہیں تھی ، اب یاد نہیں کہ کس ذریعے سے میں لاہور اسٹیشن تک پہنچا لیکن پہنچ گیا ۔ میرا لاہور میں کوئی ٹھکانہ بھی نہیں تھا اور نہ ہی کوئی جاننے والا تھا لہٰذا مجھے اسی رات واپس آنا تھا ۔ چنانچہ جب اسٹیشن پر ٹکیٹ لینے کے لیے آیا تو دیکھا کہ سامنے دوسرے پلیٹ سے گاڑی روانہ ہو رہی ہے اس کے بعد رات بھر کوئی دوسری گاڑی بھی نہیں تھی، اب ٹکیٹ خریدنے کا اور پل کے ذریعے دوسرے پلیٹ فارم تک پہنچنے کا وقت بھی نہیں تھا چنانچہ بھاگ کر لائنوں کے درمیان لکڑی کی بنی ہوئی حدبندی ( ریلنگ) پر چڑھ گیا اور جیسے ہی ٹرین کے سیکنڈ کلاس کے ڈبے کا دروازہ میرے سامنے آیا فوراً ہی اللّٰہ کا نام لے کر چھلانگ لگا دی اور دھڑام سے جس چیز پر میں جا کر پڑا وہ نیچے سوئی ہوئی اللّٰہ کی غریب عوام تھی ۔ وہ اچانک آنے والی اس ناگہانی آفت سے ہڑ بڑا کر اٹھے اور پھر پنجابی زبان میں جس قدر وہ احتجاج کر سکتے تھے کیا ۔ میں خاموشی سے سنتا رہا کہ ہمارے ملک میں غریب عوام فقط احتجاج ہی تو کر سکتی ہے اس کے علاوہ اور کچھ نہیں ۔ میں نے بہت ساری معزرتیں ( یہ معزرت کی نئی ترکیب میں نے ابھی ایجاد کی ہے) کیں تو وہ غریب عوام ٹھنڈے ہوئے ۔ بہرحال جیسے تیسے خانیوال اسٹیشن آیا تو میں نے وہاں سے محراب پور کے لئے ٹکیٹ خریدی اور خیر سے بدھو گھر کو آئے ۔۔۔ واقعی سچ کہا جاتا ہے کہ " لہور لہور اے " ۔۔۔ تحریر - غلام محمد وامِق محراب پور سندھ ۔۔۔ تاریخ 26جولائی 2025ء بروز ہفتہ ۔۔۔۔۔۔

 حقیقت پر مبنی ایک شگفتہ تحریر ۔ 

                  اسٹیشن 


کہتے ہیں جب گیدڑ کی شامت آتی ہے تو وہ شہر کا رخ کرتا ہے ، اور شہر بھی لاہور جس کے باشندوں کا دعویٰ ہے کہ جس نے لاہور نہیں دیکھا وہ ابھی پیدا ہی نہیں ہوا ( جنے لہور نئیں ویکھیا او جمیا ای نئیں ) بالفاظِ دیگر کسی کی پیدائش کا سرٹیفیکیٹ نادرا کا سرٹیفیکیٹ نہیں لاہور کی ٹکیٹ ہو گئی ۔ تو جناب ہم نے بھی راولپنڈی سے محراب پور واپسی کے لیے ریل کا ٹکیٹ لینے کے بجائے بذریعہ بس لاہور کا ٹکیٹ خرید لیا ، ان دنوں موٹر وے نام کی کسی چیز کا کوئی وجود نہیں تھا یہ غالباً سال 1995-96 کا زمانہ تھا ۔ نئی نئی ایئر کنڈیشنڈ بسیں چلی تھیں جن میں وی سی آر پر انڈین فلموں سے بھی مسافروں کو محظوظ کیا جاتا تھا، یہ ہی سب کچھ سوچ کر ہم نے براستہ لاہور محراب پور سندھ واپسی کا ارادہ کر لیا اور بس میں سوار ہو گئے میرا ایک ہمسفر بھی تھا جسے راستے میں لاہور سے پہلے کسی مقام پر اترنا تھا ، بس بہت آرام دہ تھی مزید لطف یہ کہ وی سی آر پر انڈین فلم " کرن ارجن" چلادی گئی تھی جو کہ ان دنوں نئی نئی ریلیز ہوئی تھی ۔ راستے میں میرا ہم سفر بھی لاہور سے کچھ مسافت پہلے اپنی منزل پر اتر گیا اور جاتے جاتے بس کنڈکٹر کو خاص تاکید کرتا گیا کہ وہ مجھے یاد کر کے اسٹیشن پر اتار دے ( یعنی لاہور اسٹیشن پر)  وی سی آر پر اب کوئی دوسری مووی چلا دی گئی تھی لہٰذا وقت گزرنے کا احساس تک نہ ہوا کہ اچانک کنڈکٹر کی آواز نے چونکا دیا کہ باؤ جی اترو اسٹیشن آگیا میں نے باہر کی طرف دیکھا شام ہو چلی تھی مگر مجھے لاہور اسٹیشن کے آثار کہیں نظر نہیں آئے تو پوچھا کہ ادھر تو کوئی اسٹیشن نظر نہیں آ رہا ؟ تو کنڈکٹر نے کہا کہ جناب آپ اتریں تو سہی تھوڑا سا آگے چلو گے تو اسٹیشن بھی نظر آجائے گا ، میں بڑا پریشان کہ یا الٰہی یہ ماجرا کیا ہے ، لاہور اسٹیشن کوئی ماچس کی ڈبیہ تو نہیں کہ آگے چل کر نظر آجائے گا ۔ خیر میں نے اپنا مختصر سا بیگ اٹھایا اور حیران پریشان نظروں سے باہر دیکھتے ہوئے بس سے اتر گیا تو بس فوراً چل دی ۔ وہاں پر موجود لوگوں سے دریافت کیا کہ بھائی جی اسٹیشن کدھر ہے ؟ تو ایک نیم پختہ سی سڑک کی طرف اشارہ کر کے بتایا کہ اس پر چلتے جائیں یہ سیدھا اسٹیشن جائے گی ۔ بات سمجھ سے باہر ہوتی جا رہی تھی کہ لاہور اسٹیشن ہے یا کسی گاؤں کا  بس اڈہ ہے ؟ بہرحال مرتا کیا نہ کرتا سڑک پر چل پڑا وہ سڑک ویران و سنسان تھی دونوں طرف جھاڑیاں تھیں جس کے باعث خوف کی سرد سی لہر پورے جسم میں پھیلتی جا رہی تھی ۔ دس پندرہ منٹ پیدل چلنے کے بعد ریلوے لائن کے آثار نظر آئے ، تھوڑا آگے چلا تو ایک اسٹیشن بھی نظر آگیا ، اسٹیشن کا نام پڑھا تو لکھا تھا " شاہدرہ " وہاں سے فوراً پسپائی اختیار کی اندھیرا پھیلتا جا رہا تھا ، واپس بس اسٹاپ پر آکر وہاں پر موجود لوگوں سے اپنی پریشانی بیان کی تو انہوں نے بتایا کہ جناب لاہور تو ابھی بہت آگے ہے یہ اسٹاپ تو شاہدرہ اسٹیشن کا ہے ۔ اور اس اسٹاپ کو اسٹیشن کے نام سے ہی پکارا جاتا ہے ۔ اب نہیں معلوم اس سارے مسئلے میں قصوروار کون تھا مگر میں اب درمیان میں پھنس چکا تھا وہاں سے کوئی بھی بس مُجھے لاہور تک پہنچانے کے لیے آمادہ نہیں تھی ، اب یاد نہیں کہ کس ذریعے سے میں لاہور اسٹیشن تک پہنچا لیکن پہنچ گیا ۔ میرا لاہور میں کوئی ٹھکانہ بھی نہیں تھا اور نہ ہی کوئی جاننے والا تھا لہٰذا مجھے اسی رات واپس آنا تھا ۔ چنانچہ جب اسٹیشن پر ٹکیٹ لینے کے لیے آیا تو دیکھا کہ سامنے دوسرے پلیٹ سے گاڑی روانہ ہو رہی ہے اس کے بعد رات بھر  کوئی دوسری گاڑی بھی نہیں تھی، اب ٹکیٹ خریدنے کا اور پل کے ذریعے دوسرے پلیٹ فارم تک پہنچنے کا وقت بھی نہیں تھا چنانچہ بھاگ کر لائنوں کے درمیان لکڑی کی  بنی ہوئی حدبندی ( ریلنگ) پر چڑھ گیا اور جیسے ہی ٹرین کے سیکنڈ کلاس کے ڈبے کا دروازہ میرے سامنے آیا فوراً ہی اللّٰہ کا نام لے کر چھلانگ لگا دی اور دھڑام سے جس چیز پر میں جا کر پڑا وہ نیچے سوئی ہوئی اللّٰہ کی غریب عوام تھی ۔ وہ اچانک آنے والی اس ناگہانی آفت سے ہڑ بڑا کر اٹھے اور پھر پنجابی زبان میں جس قدر وہ احتجاج کر سکتے تھے کیا ۔ میں خاموشی سے سنتا رہا کہ ہمارے ملک میں غریب عوام فقط احتجاج ہی تو کر سکتی ہے اس کے علاوہ اور کچھ نہیں ۔ میں نے بہت ساری معزرتیں ( یہ معزرت کی نئی  ترکیب میں نے ابھی ایجاد کی ہے)  کیں تو وہ غریب عوام ٹھنڈے ہوئے ۔ بہرحال جیسے تیسے خانیوال اسٹیشن آیا تو میں نے وہاں سے محراب پور کے لئے ٹکیٹ خریدی اور خیر سے بدھو گھر کو آئے ۔۔۔ واقعی سچ کہا جاتا ہے کہ " لہور لہور اے " ۔۔۔ 

تحریر - غلام محمد وامِق محراب پور سندھ ۔۔۔ 

تاریخ 26جولائی 2025ء بروز ہفتہ ۔۔۔۔۔۔



SHARE THIS
Previous Post
Next Post
Powered by Blogger.